مفلوج نظام : بے بس عوام

مفلوج نظام : بے بس عوام

مجھے ندیم افضل چن چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی قومی اسمبلی میں تقریر کا یہ حصہ بہت اچھا لگا کہ لولی لنگڑی حکومت کرنے سے بہتر ہے کہ اُسے چھوڑ ہی دیا جائے۔ مگر اُن کی یہ بات اقتدار پرستی کے نقار خانے میں کون سنے گا؟ یہاں تو ہر حال میں اقتدار سے چمٹے رہنے کی مجنونانہ خواہش دامن گیر ہے۔ صدر محمد ایوب خان آج یاد آتے ہیں، جنہیں ایک بار کسی جلوس میں ”ایوب کتا“ کا نعرہ سننے کو ملا تو اقتدار چھوڑ کر گھر چلے گئے۔ آج کے حکمرانوں کے خلاف گلی گلی، شہر شہر، قریہ قریہ کیا کچھ نہیں کہا جا رہا ،مگر ڈھٹائی کی حد ہے۔ عوام ایک ایک دن مشکل سے گزار رہے ہیں ، دوسری طرف یہ شرمناک ورد جاری ہے کہ پانچ سال مکمل ہو رہے ہیں۔ یہ کون سی فخر کی بات ہے کہ آپ پورے نظام کو مفلوج بنا دیں، قانون کو بے بس کر دیں، عدالتوں کے حکم نہ مانیں، لوگوں کی جان و مال کا تحفظ نہ کریں، دہشت گردوں کو لگام نہ ڈالیں، غربت و بے روزگاری کا تدارک نہ کریں، مہنگائی کو بے لگام چھوڑ دیں اور پھر بھی جمہوریت کی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹیںاور مدت پوری ہونے کا کریڈٹ لیتے پھر یں۔

سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے احتجاج کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اُس نے پورے ملک کو مفلوج کر دیا ہے۔ جگہ جگہ دھرنے، احتجاج، آہ و بکا اور ماتم، یہ دنیا کو ہم کیا منظر دکھا رہے ہیں؟ حکومت کہیں نظر نہیں آتی۔ درجن بھر سے زائد قانون نافذ کرنے اور خفیہ سرگرمیوں کا کھوج لگانے والے ادارے ملک میں موجود ہیں، مگر کسی ایک جگہ بھی ان کی عملی موجودگی نظر نہیں آتی۔ حیرت ہے کہ ایک خاص برادری کو ایک خاص علاقے میں مسلسل ٹارگٹ بنایا جا رہا ہے۔ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس خاص علاقے کو بھی دہشت گردوں سے محفوظ نہیں بنا سکے، ملک کو کیا بنائیں گے، یہ تو ہمارے معاشرے کا حسن اور عوام کا شعور ہے کہ وہ فرقہ وارانہ فسادات کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے رہے۔ مجھے ایک شیعہ رہنما کی پی ٹی وی پر یہ بات سن کر افسوس ہوا کہ اگر ہماری بات نہ سنی گئی تو ہم 5کروڑ شیعہ علیحدگی کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گے.... لیکن مجھے اُس وقت اطمینان ہوا جب اہل سنت کے وہاں موجود ایک نمائندے نے کہا کہ یہ دہشت گردی صرف شیعہ یا ہزارہ کمیونٹی کے خلاف نہیں ،بلکہ انسانیت اور مسلمانوں کے خلاف ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں سنی مسلمان بھی اپنے شیعہ بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہمیں تو اس بات پر شکر ادا کرنا چاہئے کہ دشمن ہمیں تقسیم نہیں کر سکا، وہ ایک طرف ہے اور ہم سب، یعنی پوری قوم دوسری طرف، اتفاق و اتحاد کو برقرار رکھنا اس وقت سب سے اہم ضرورت ہے، کیونکہ جہاں حکومتیں ناکام ہو جائیں، وہاں عوام کی یکجہتی دشمن کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

حکومت نام کی کوئی شئے کئی برسوں سے بلوچستان میں نظر نہیں آ رہی۔ سابق وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کی عدم دلچسپی اور بے تدبیری کے باعث بلوچستان تباہی سے دوچار ہوتا رہا۔ 84لاشوں کے دھرنے سے اُن کی مفلوج حکومت ختم ہوئی تو وہاں گورنر راج آ گیا۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ اگر گورنر راج نافذ کیا گیا ہے تو اُس کے ذریعے سخت فیصلے بھی کئے جائیں اور دہشت گردوں کے خلاف آہنی ہاتھوں کا استعمال کیا جائے، مگر ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا۔اُلٹا منتخب حکومت ختم ہونے سے عوام بالکل ہی بے دست و پا ہو کر رہ گئے۔ گورنر نے یہ کہہ کر اپنی بے بسی کو آشکار کر دیا کہ ریاستی ادارے عوام کو تحفظ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کا ذکر اس انداز میں کیا ،جیسے وہ گورنر نہیں، بے چارے عوام ہیں، جن کی کوئی نہیں سنتا۔ اب ایک ایسے گورنر کے ذریعے ، جو خود ذہنی طور پر اپنی شکست تسلیم کئے بیٹھا ہے، کسی معجزے کی توقع کیونکر کی جا سکتی ہے؟ یہ تو مرے کو مارے شاہ مدار والی بات ہے۔ چاہئے تو یہ کہ وفاقی حکومت کی طرف سے گورنر بلوچستان کو باقاعدہ ایک ٹاسک دیا جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ مکمل سپورٹ بھی فراہم کی جائے۔ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے آئی جی کو تبدیل کر کے ان کی جگہ مشتاق احمد سکھیرا کو تعینات کر دیا ہے، وہ ایک اچھے افسر ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں جو فورس دی گئی ہے کیا اس قابل ہے کہ کوئی بڑا آپریشن کر سکے؟

 ایک طرف سیاسی دباﺅ اور دوسری طرف دہشت گردوں کا خوف، دو ایسے عوامل ہیں جنہوں نے پولیس کے مورال کو بہت کمزور کر دیا ہے۔ جہاں تک ایف سی کا تعلق ہے، اس کی کارکردگی بھی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، یعنی اگراس وقت آپ بلوچستان کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو ایک واضح انتشار اور حکومتی خلا نظر آتا ہے۔ ایسے میں لوگ جب کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ بات بے وقت کی راگنی نہیں، بلکہ وقت کی پکار لگتی ہے۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کوئٹہ میں ٹارگٹڈ آپریشن کی اجازت دے دی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آپریشن ہو گا کیسے اور کون کرے گا؟ کیا موجودہ پولیس اور ایف سی میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ یہ کام کر سکے؟ اگر اُن میں یہ اہلیت ہوتی تو وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہ بیٹھے رہتے ۔یہ توبالکل کراچی جیسی صورت ہے، وہاں بھی پولیس اور رینجرز کے ذریعے کئی بار ٹارگٹڈ آپریشن کا اعلان کیا گیا، لیکن نتائج سوائے مزید انتشار کے اور کچھ بھی نہ نکلے، کیونکہ ایسے آپریشنوں کے لئے جس قسم کا آہنی ہاتھ درکار ہے، وہ ان اداروں کے پاس نہیں، جبکہ فوج کے بارے میں لوگوں کا تاثر یہ ہے کہ وہ اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس پر کسی طرف سے دباﺅ بھی نہیں ڈالا جا سکتا۔

ایک بات تو واضح ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی کا تسلسل کسی سیاسی حکمت عملی سے ختم نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ سب کو معلوم ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے شاید ملک میں امن لایا جا سکتا ہے، تاہم کوئٹہ میں پھر بھی امن نہیں ہو گا، کیونکہ یہاں فرقہ وارانہ بنیادوںپر پُر تشدد کارروائیاں جاری ہیں اور مارنے والوں کا آج تک کوئی مطالبہ بھی سامنے نہیں آیا۔ پچھلے بارہ برسوں سے ہزارہ قبائل کے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس دوران کوئی تسلسل کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ غالباً اس خونریزی کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کو کوئٹہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔ ظاہر ہے اس مقصد کے لئے جو لوگ کام کر رہے ہیں، وہ کبھی مذاکرات کی میز پر نہیں آئیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کو کیسے روکا جائے ؟تونظر فوج کی طرف ہی جاتی ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ فوج کی قیادت نے سیاست سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی ہے اور فوج کے اندر وہ خواہش اقتدار نہیں رہی جو ماضی میں سامنے آتی رہی۔ ایسے میں فوجی قیادت یہ ضرور چاہتی ہو گی کہ معاملات کو سول حکومت ہی حل کرے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ فوج پر دباﺅ بھی ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

دوسری طرف چونکہ حکومت کا معاملہ ”دودھ کا جلا چھاجھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے“ جیسا ہے، اس لئے وہ فوج کو سول امور میں مداخلت کا موقع نہیں دینا چاہتی....مگر اس کش مکش میں جانیں عوام کی ضائع ہو رہی ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں عوامی و عسکری قیادت کو اس حوالے سے سرجوڑ کر بیٹھنا چاہئے۔ معاملات کو جوں کا توں رکھنا اب ناممکن ہوتا جا رہاہے۔ آج اگر کوئی وعدہ کر کے لوگوں کو لاشیں دفنانے پر آمادہ کر بھی لیا جاتا ہے، تو کل پھر خدانخواستہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوا، تب کیا ہو گا؟ پھر یہی مناظر دہرائے جائیں گے اور شہروں میں دھرنے زندگی کے روزمرہ امور کو جام کر دیں گے، یہ تو ایسا ہی ہے، کہ جیسے کسی کا جسم مستقلاً فالج زدہ ہو گیا ہو۔ کیا اٹھارہ کروڑ آبادی کے ملک کو اس طرح مفلوج حالت میں چھوڑا جا سکتا ہے؟ ایک ایسا ملک کہ جس کی منظم فوج بھی ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس انٹیلی جنس ادارے بھی۔ جس کے پاس دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے وسائل بھی ہیں اور تربیت یافتہ مین پاور بھی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پھر بھی مٹھی بھر دہشت گردوں کے ہاتھوں پورا معاشرہ یرغمال بن چکا ہے۔ یقینا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت قوت ارادی ، قوت فیصلہ سے محروم اور مصلحت کا شکار ہے۔ ایسی مصلحتیں قوموں کی زندگی میں زہر گھول دیتی ہیں اور ہم بدقسمتی سے رفتہ رفتہ اس زہر کا شکار بن رہے ہیں۔   ٭

مزید : کالم