دہشت گردی کے خاتمے کا عزم.... الفاظ نہیں، عمل

دہشت گردی کے خاتمے کا عزم.... الفاظ نہیں، عمل

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہر حد تک جائیں گے، سانحہ کوئٹہ پر کون سا ایسا سنگ دل ہو گا جو پسیجا نہیں، مجرموں کو جہنم رسید کریں گے، حکومت میں کوئی بھی ہو، دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔ انہوں نے کہا ملک کو خطرات کا سامنا ہے، ہزارہ برادری کا ہر مطالبہ پورا کریں گے، ضرورت پر فورسز استعمال کریں گے، وہ قومی اسمبلی میں خطاب کر رہے تھے۔

دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی سنگین وارداتوں نے پاکستان کا جسد ِ قومی چھلنی چھلنی کر دیا ہے ابھی ہزارہ قبیلے کے خلاف پہلی وارداتوں کے زخم ہی ہرے تھے کہ اب پھر 90 کے قریب افراد کو جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں انتہائی سنگ دلی سے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا ہے، جس پر پورے ملک میں احتجاج ہو رہا ہے، جگہ جگہ دھرنے دیئے جا رہے ہیں۔وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد اب دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ایسے ہی دھرنے پہلے بھی دیئے گئے تھے، جن میں کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ دھرنے والوں کا یہ مطالبہ تو پورا نہ ہوا، البتہ صوبائی حکومت کو معطل کر کے صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ گورنر راج کے دوران یہ انتہائی سنگین واردات رونما ہو گئی ہے، جس پر گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے ادارے امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہ ایک لحاظ سے اِس بات کا اعتراف ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہے۔ نہ پہلی وارداتوں کا کوئی ملزم اب تک پکڑا گیا ہے اور نہ موجودہ افسوسناک سانحے کے ملزموں کا کچھ اتہ پتہ ہے بس اتنا معلوم ہے کہ واردات کی ایک تنظیم نے کی ذمہ داری قبول کی ہے اب معلوم نہیں یہ ذمہ داری قبول کرنے والے کس حد تک حقیقی ہیں اور کس حد تک یہ محض دعوے ہیں، دعوے کی اصابت تو اسی وقت ثابت ہو سکتی ہے جب ملزم پکڑے جائیں اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جائے کہ واقعی یہ لوگ اِس میں ملوث تھے۔ ورنہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تفتیش کو غلط رُخ پر ڈالنے کے لئے سب لوگ بے سروپا دعوے کر رہے ہوں۔ بہر حال یہ جو لوگ بھی ہیں اصل ضرورت یہ ہے کہ نہ صرف انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے، بلکہ ایسا اہتمام کیا جائے کہ آئندہ ایسی وارداتوں کا اعادہ نہ ہو۔

قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا خطاب پُرعزم تھا، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی روکنے کے لئے ہر حد تک جائیں گے اور ملزموں کو جہنم واصل کریں گے۔ یہ عزم و ارادہ مبارک، لیکن اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ جب بھی دہشت گردی کی کوئی واردات ہوتی ہے حکمران اِس کی مذمت تو بڑی شدو مد سے کرتے ہیں۔ یہ ارادہ بھی باندھتے ہیں کہ مجرموں کو سخت سزائیں دیں گے، لیکن عملاً صورت حال مختلف ہے ۔اول تو آج تک کسی بڑی واردات کے ملزم پکڑے ہی نہیں گئے اور اگر کہیں ایسا ہوا ہے تو یہ لوگ عدالتوں سے بَری ہو گئے ،کیونکہ ان کے خلاف جو مقدمہ بنایا گیا وہ خاصا کمزور تھا، عدالتوں میں استغاثہ مو¿ثر اور قابل ِ تسلیم شہادتیں سرے سے پیش ہی نہیں کر سکا، یا اگر کوئی شہادتیں پیش بھی ہوئیں تو وہ ناکافی تھیں اور مقدمے کے ملزموں کو سزا دلوانے میں ممدو و معاون ثابت نہیں ہوئی تھیں، نتیجے کے طور پر ملزم عدالتوں سے بَری ہو گئے، ایسا بھی ہوا کہ پولیس نے کسی دباﺅ کے تحت اِدھر اُدھر سے ایسے لوگ گرفتار کر کے مقدمات میں ملوث کر دیئے، جن کا وارداتوں میں کوئی حصہ نہیں تھا، ظاہر ہے ایسے لوگوں نے تو بالآخر بَری ہونا ہی تھا۔

بلوچستان امن و امان کے لحاظ سے بد قسمت صوبہ ثابت ہوا ہے سابق حکومت نے تو ثابت کر دیا کہ وہ نا اہل تھی، لیکن گورنر راج کے تحت جو حکومت قائم ہوئی ہے وہ بھی امن و امان کے سلسلے میں ابھی کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔

امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ 2001ءمیں رونما ہوا تھا، اس کے بعد11 سال گزر جانے کے باوجود امریکہ میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، نائن الیون کے کوئی ایک ماہ بعد امریکہ نے افغانستان پر تابڑ توڑ فضائی حملے کر کے طالبان کی حکومت ختم کر دی۔ پھر امریکی افواج افغان سر زمین پر اُتر گئیں، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا۔ پاکستان بھی اِس جنگ کا حصہ ہے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ امریکہ تو نائن الیون کے بعد اپنی جنگ اپنی سرحدوں سے بہت دُور لے گیا، لیکن ہم اِس جنگ کو سرحدوں سے دور کرنے کی بجائے کھینچ کر اپنی سرحدوں کے اندر لے آئے، اب امریکہ تو دہشت گردوں سے محفوظ ہے۔ اُسامہ بن لادن کو بھی امریکہ نے ایبٹ آباد میں فوجی کارروائی کر ہلاک کر ڈالا، امریکہ کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اس نے القاعدہ کی کمر توڑ دی ہے، لیکن دہشت گردی کی جنگ کا سارا ملبہ مسلسل پاکستان پر گِر رہا ہے، جو لوگ دہشت گردوں کی امریکی جنگ کے خلاف تھے انہوں نے پاکستان کو آسان ہدف بنایا ہوا ہے، طالبان یا اُن کے مقامی معاون پورے ملک میں ہر جگہ دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں، کوئٹہ کے واقعات تو فرقہ وارانہ ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں جو خود کش حملے بھی ہو رہے ہیں، وہ زیادہ تر ان لوگوں کی کارروائیاں ہیں جو دہشت گردی کی جنگ کا بدلہ پاکستان سے لے رہے ہیں، جب تک پاکستان دہشت گردی کی جنگ کا حصہ نہیں بنا تھا، پاکستان میں خود کش حملوں کا کوئی وجود نہیں تھا، دہشت گردی کے پھیلاﺅ کی ایک وجہ ڈرون حملے بھی ہیں۔ ڈرون حملوں میں کچھ تو دہشت گرد مارے جاتے ہیں، لیکن بعض ایسے لوگ بھی اِن حملوں کا نشانہ بن جاتے ہیں جو بے گناہ ہوتے ہیں۔ اِن بے گناہ لوگوں کے لواحقین بعد میں دہشت گردی کی وارداتیں شروع کر دیتے ہیں۔

ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہم کوئٹہ جیسے واقعات کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ہو گئے ہیں، اب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اگر کہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر حد تک جائیں گے تو انہیں اپنے اِس عزم کو عملی جامہ بھی پہنانا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ اُن کے اِن عزائم کی باز گشت ابھی فضا میںہی موجود ہو اور خدانخواستہ ملک کے کسی نہ کسی حصے میں پھر کوئی واردات ہو جائے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم اپنے ملک کو دہشت گردوں سے اِس طرح محفوظ بنائیں جس طرح امریکہ نے نائن الیون کے بعد اپنے ملک کو بنایا ہے۔ دہشت گردی نے پاکستان کا انگ انگ زخمی کر دیا ہے۔ کوئٹہ لہولہان ہے، یہاں اہل ِ تشیع خصوصی ٹارگٹ ہیں، لیکن ان وارداتوں کو روکنے کی کوئی صورت حال نظر نہیں آ رہی۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہزارہ قبیلے کا ہر مطالبہ مانا جائے گا تو پھر اُن کا مطالبہ مانتے ہوئے شہر کو فوج کے حوالے کیوں نہیں کر دیا جاتا، شہر کو فوج کے حوالے کیا جاتا ہے یا نہیں۔ یہ تو حکومت کی صوابدید ہے، لیکن عوام توقع کرتے ہیں کہ وزیراعظم نے جن عزائم کا قومی اسمبلی میں اعلان کیا وہ محض اعلان تک محدود نہ رہیں، بلکہ مو¿ثر عملی اقدامات بھی ہوں، جن کے نتیجے میں دہشت گردوں پر مضبوط ہاتھ ڈالا جائے، اُن کا نیٹ ورک ختم کیا جائے اور انہیں اِس قابل نہ رہنے دیا جائے کہ وہ جہاں چاہیں بے خوفی سے وارداتیں کرتے رہیں اور انہیں پکڑے جانے کا خوف نہ ہو۔

مزید : اداریہ