بلوچستان سمےت لمک مےں دہشت گرسدوں سے نمٹنے کا حل سےاسی ہت فوجی نہیں ، عسکری سےاسی رہنمام

بلوچستان سمےت لمک مےں دہشت گرسدوں سے نمٹنے کا حل سےاسی ہت فوجی نہیں ، عسکری ...

لاہور (جاوےد اقبال) مختلف سےاسی مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں ، عسکری اور خارجہ امور کے ماہرےن نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان سمےت ملک کے دےگر علاقوں مےں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے فوجی نہےں سےاسی حل ناگزےر ہے۔ آئےن اور جمہورےت کے رکھوالے مل جل کر حل نکالےں اس سے قبل کہ کوئٹہ سے اٹھنے والی آگ ملک کو لپےٹ مےں لے اور پورا ملک تحرےر چوک مےں تبدےل ہو جائے سب کو ذاتی اور سےاسی اختلافات کا حل نکالنا ہو گا۔ ملک اور لوگ خون مےں کودے ہوئے ہےں حکمران اور اپوزےشن جماعتوں کو جوڑ توڑ زےب نہےں دےتا، مظاہرےن حوصلے سے کام لےںاور ملکی املاک کو نقصان پہنچانے سے گرےز کرےں بلوچستان مےں غےر ملکی ہاتھ بھی ملوث ہو سکتے ہےں۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کے سلسلے کےا فوج آنے سے بلوچستان سمےت دےگر حصوں مےں امن قائم ہو سکتا ہے، دہشت گردی ختم ہو جائے گی مےں گفتگو کرتے ہوئے کےا۔ اس حوالے سے پاکستان مسلم لےگ ن کے چےئرمےن راجہ ظفر الحق نے کہا کہ بلوچستان کے حالات پر ہر پاکستانی کا دل رو رہا ہے، حکومت کوئٹہ سمےت پورے ملک مےں امن و امان قائم کرنے اور لوگوں کو جان و مال کا تحفظ دےنے مےں ناکام ہو چکی ہے اور اب تو ناکامی کی آخری حد بھی پار کر گئی ہے ۔مسلم لےگ ن سانحہ کوئٹہ کے متاثرےن کے غم مےں برابر کی شرےک ہے۔ نواز شرےف ان سے اظہار ےکجہتی کے لئے جلد کوئٹہ جائےں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل فوجی نہےں بلکہ سےاسی ہے اور حکومت کو ےہ حل نکالنا چاہےے ورنہ بہت دےر ہو جائے گی، سےکرٹری جنرل جماعت اسلامی لےاقت بلوچ نے کہا کہ ملک رنج و غم مےں ڈوبا ہوا ہے اور حکومت جوڑ توڑ مےں مصروف ہےں ، کہےں سےٹ اےڈجسٹمنٹ ہو رہی ہے اور کہےں بندے توڑے جا رہے ہےںجنہوں نے امن قائم کرنا ہے وہ اپنی کرسےاں مضبوط کرنے مےں مصروف ہو جائےں گے تو امن قائم کون کرے گا انہوں نے کہا کہ کوئٹہ مےں ےکے بعد دےگرے سےنکڑوں افراد کی دہشت گردی کے ہاتھوں ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے، دہشت گردوں نے انسانوں کو گاجر مولی بنا رکھا ہے آئےن اور جمہورےت کے رکھوالے فوری امن قائم کرنے کےلئے اقدامات کرےں۔ اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جے ےو آئی کے رہنما حافظ حسےن احمد نے کہا کہ نام نہاد جمہوری حکومت بلوچستان کے شہرےوں سمےت پورے ملک کے عوام کو امن دےنے مےں ناکام ہو گئی ہے ،اسے حکومت کا حق حاصل نہےں رہا۔ پہلے پےپلز پارٹی کی حکومت اور پھر گورنر راج بھی فےل ہو گےا انہوں نے کہا سوال پےدا ہوتا ہے کہ عوام فوج کی طرف کےوں دےکھ رہے ہےں وہ امن چاہتے ہےںامن کون دے گا؟ حالات خراب کرنے مےں بےرونی ہاتھ بھی ملوث ہےں، اےجنسےاں ان ہاتھوں کو بے نقاب کر کے کےفر کردار تک پہنچانے مےں کردار ادا کےوں نہےں کر رہی ہےں؟ پاکستان تحرےک انصاف کے مرکزی رہنما خورشےد محمود قصوری نے کہا کہ حکمران خدا کا خوف کرےں، عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے۔ کراچی اور بلوچستان کے بعد لاہور مےں بھی ٹارگٹ کلنگ شروع ہو گئی ہے مرکزی اور صوبائی حکومتےں امن قائم کرنے مےں ناکام ہو گئی ہےں، جس کی وجہ سے مجبورا کوئٹہ والے حکومت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے فوج کی طرف دےکھ رہے ہےںبہر حال، مسئلے کا حل سےاسی ہونا چاہےے اور ہر مسئلے کا حل بات چےت سے ممکن ہے کوئٹہ کے مجرموں کو ”اندر“ تلاش کےا جائے آپرےشن ضروری ہے عوامی مسلم لےگ پنجاب کے جنرل سےکرٹری خالد پروےز سندھو نے کہا کہ افسوس ملک سوگ اندھےروں مےں ڈوبا ہوا ہے اور حکمران جماعتےں خواہ پےپلز پارٹی ہوےا مسلم لےگ ن، اےم کےو اےم ہو مسلم لےگ ق ، سب نے اراکےن اسمبلی کی خرےدو فروخت کا بازار لگاےا ہوا ہے اور جوڑ توڑ مےں مصروف ہےں، عوام پر کسی کو ترس نہےں آ رہا۔ انہوں نے کہا جب جمہوری حکمران عوام کو امن و امان نہےں دے پائےں گے توپھر عوام حق رکھتے ہےں کہ وہ اسی ادارے کی طرف دےکھےں گے جو انہےں تحفظ دے سکے گا۔پاکستان مسلم لےگ ق کے مرکزی رہنما چودھری مونس الہی اور صوبائی اےڈےشنل جنرل سےکرٹری ناصر محمود گل نے کہا کہ کوئٹہ کا حل سےاسی ہے فوجی نہےں ہے فی الفور اے پی سی بلاکر دہشت گردی کا مستقل حل ڈھونڈا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سےاسی جماعتےں مل بےٹھ کر حل نکالےں، مسلم لےگ ق امن کی کوششوں کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل متاثرےن کوئٹہ کے ساتھ دھڑک رہے ہےں۔ اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق آرمی چےف جنرل (ر) ضےاءالدےن بٹ نے کہا کہ جب ہم نے غےروں کی جنگ اپنے گلے ڈال مےں ڈال رکھی ہے تو اےسا تو ہو گا، دہشت گردی اور جہاد مےں فی الفور تمےز اور لکےر کھےنچنا ضروری ہے اس مےں اندرونی و بےرونی اور مقامی عناصر شامل ہےں لےکن کمزور ترےن جمہورےت آمرےت سے کہےں بہتر ہے، بلوچستان کے مسئلے کا حل فوجی نہےں سےاسی ہے، بلوچستان مےں نو گو اےرےاز نہےں ہونے چاہئیں، عوام کو تحفظ دےنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہیں اےسا نہ ہو کہ حالات ہاتھ سے نکل جائےں، عوام کا غم و غصہ دےکھ کر فےصلے کئے جائےں۔ اےڈمرل (ر) جاوےد اقبال نے کہا کہ بلوچستان سمےت پورے ملک مےں دہشت گردوں کے خلاف بے لاگ آپرےشن ضروری ہے اور اس کا فےصلہ پارلےمنٹ کرے، مشترکہ دشمن کو سامنے لانے کےلئے پوری قوم اےک ہو جائے۔ اگر کوئٹہ مےں حالات بہتر کرنے اور زخمی عوام کے آنسو فوج کی سےکورٹی سے صاف ہوتے ہےں تو دےر نہےں کرنی چاہےے۔ اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لےگ ہم خےال کے صوبائی چےف آرگنائزر چودھری شاہد اختر گھمن نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے دہشت گرد بے لگام ہو چکے ہےں اور ان کی سرپرستی امرےکہ اور بھارت کر رہے ہےں، ان کے سفارت کاروں سے احتجاج کرنا چاہےے۔ انہوں نے کہا کہ زرداری اور ان کے حامےوں کی حکومت مکمل طور پر فےل ہو چکی ہے انہےں اٹھا کر بحر ہند مےں پھےنک دےا جائے، انہوں نے مزےد کہا کہ کوئٹہ جل رہا ہے، گھروں کے گھر اجڑ رہے ہےں اور حکمرانوں کو شرم نہےں آتی وفاقی حکومت کا قائم رہنا اخلاقی طور پر ہرگز جائز نہےں سابق وزےر خارجہ گوہر اےوب نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اتحادی خرےدو فروخت مےں مصروف ہےں، بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی تمام تر ذمہ داری پروےز مشرف کے سر ہے جنہوں نے اس پر امن صوبہ کوآگ اور خون کے کھےل کے حوالے کےا۔ بلوچستان کے مسئلے کا حل فوجی نہےں ہے سےاسی ہے، عوام کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے سامنے لاےا جائے پاکستان مسلم لےگ ہم خےال کے چےئرمےن حامد ناصر چٹھہ اور سےکرٹری جنرل ہماےوں اختر نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کاحل فوجی نہےں ہے اور نہ فوج امن قائم کر سکتی ہے بلکہ سےاسی حل ہے اور ےہ حل ٹھوس اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ حکومت ہر محاذ پر فےل ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کےلئے پوری قوم، سےاسی و مذہبی جماعتےں، سول سوسائٹی اور ادارے اےک چھتری کے نےچے آجائےں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کو چےن کے حوالے کےا گےا ہے، اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا ہو گا۔ اسی حوالے سے اظہار خےال کرتے ہوئے مرکزی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ طاہر القادری کے دھرنوں اور لانگ مارچ کے بعد ملک کے اندر دہشت گردی کی تازہ لہر کی کڑےاں کس کس سے ملتی ہےں، اس پر نظر ڈالی جائے۔ انہوں نے کہا ملک مےں جمہورےت اور جمہوری اداروں کو استحکام آزاد خود مختار عدلےہ سے مل رہا ہے لےکن پاکستان کے مسائل کا بہر حال مضبوط جمہورےت اور مستحکم جمہوری ادارے سے وابستہ ہے فوج کی حکمرانی سے نہےں۔

مزید : صفحہ آخر