ہائیکورٹ نے خواتین سے ”بداخلاقی“ کے 7 مختلف واقعات کا نوٹس لے لیا

ہائیکورٹ نے خواتین سے ”بداخلاقی“ کے 7 مختلف واقعات کا نوٹس لے لیا

 لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے ماہ رواں میں خواتین سے ”بداخلاقی“ کے پیش آنے والے 7 مختلف واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ سیشن ججوں کو کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے روزنامہ پاکستان اوردیگر اخبارات کی رپورٹوں کی بنیاد پر ”بداخلاقی“ کے جن واقعات کا نوٹس لیا ہے، ان میں سے 5 لاہور، ایک قصور اور ایک ملتان میں پیش آیا۔ ہائیکورٹ نے متعلقہ سیشن ججوںکو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ جن واقعات کا نوٹس لیا گیا ہے، ان میں پہلا قصور میں نوبیاہتا دلہن سے خاوند کے سامنے اجتماعی بداخلاقی، دوسرا جی سی یونیورسٹی لاہور میں پروفیسر کی حقیقی بہن سے اجتماعی زیادتی، تیسرا ایف آئی اے کے افسران کی لاہور میں طالبہ سے بداخلاقی، چوتھا خاتون سے بداخلاقی کے ملزم ڈی ایس پی کی رہائی، پانچواں غازی آباد میں خاتون کو زیادتی کے بعد قتل کرنے، چھٹا بھائی سے ملوانے کا جھانسہ دے کر لاہور میں لڑکی سے اجتماعی بداخلاقی اور ساتواں ملتان میں پولیس اہلکاروں کی طرف سے ماں کے سامنے بیٹی سے زیادتی سے متعلق ہے۔

ہائیکورٹ/ نوٹس

مزید : صفحہ آخر