امیدواروں کے بارے معلومات اکٹھا کرنے کےلئے 14دن ناکا فی ہےں ، اےک ماہ کا وقت دیا جائے اہلےان لا ہور

امیدواروں کے بارے معلومات اکٹھا کرنے کےلئے 14دن ناکا فی ہےں ، اےک ماہ کا وقت ...

لاہور (رانا جاوید/ملک خیام رفیق/ الیکشن سیل) امیدواروں کی چھان پھٹک کے لئے چودہ دن کم ہیں الیکشن کمیشن کو تیس دن کا ٹائم دینا چاہیے الیکشن کمیشن کو تیس دن کا ٹائم دینا چاہیے الیکشن کمیشن تیس دن کے اندر متعلقہ اداروں سے امیدواروں کے بارے میں تمام معلومات لے کر ان کوکلیئر کرے گا تو شفاف الیکشن ہوں گے۔ لاہور کے شہریوں کی اکثریت نے چودہ دن کے ٹائم کو سکروٹنی کے لئے مسترد کردیا ان کے خیال میں الیکشن کمیشن کے پاس تیس دن کا ٹائم ہونا چاہیے، تفصیلات کے مطابق ”روزنامہ پاکستان“ کے تحت ایک عوامی سروے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شادمان کے رہائشی محمد وسیم نے کہا چودہ دن میں سکروٹنی کا عمل مکمل ناممکن ہے اس کے لئے تیس دن کا وقت ہونا چاہیے تاکہ الیکشن تمام اداروں سے متعلقہ امیدوار کے بارے میں جانچ پڑتال کرسکے اور ایسے امیدوار سامنے آئیں جو کہ الیکشن کمیشن کے معیار پر پورے اترے ہوں تاکہ جعلی ڈگریوں جیسے سکینڈل سے بچاجاسکے جو کہ بعد میں ملک کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں اور کروڑوں کے اخراجات سے ضمنی الیکشن کرائے جاتے ہیں۔ شاہ جمال کالونی کے رہائشی محمد عزیز نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں اگرکوئی بہت بڑی مجبوی نہیں ہے تو 30 دن کا ٹائم ٹھیک ہے کیونکہ الیکشن کمیشن اس طرح اپنا کام آسانی سے کرسکتا ہے اور شفاف انتخابات کے لئے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال بہت ضروری ہے تاکہ انتخابات کے بعد آنے والی مشکلات سے بچاجاسکے۔ شمع کے رہائشی یاسر نوید کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن اپنا کام ٹھیک طریقے سے کرے اور متعلقہ ادارے اس کی مدد کریں تو میر نظر میں چودہ دن بہت ہیں کیونکہ سیاست دان بھی یہی چاہتے ہیں کہ چودہ دن میں سیکرونٹی کا عمل ہوا اس طرح ان کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوا۔ اچھرہ کے رہائشی ناصر حسین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو 30 دن کا ٹائم ضرور دینا چاہیے تاکہ وہ متعلقہ امیدواروں کو اچھی طرح چھان پھٹک لے اور ان کے متعلقہ تمام اداروں سے جوابات وصول کرے اگر ادارے متعلقہ امیدوار کوکلیئر کردیں تو پھر اس کے کاغذات نامزدی منظور کرلئے جائیں اور اس کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل جائے۔ اس طرح ہماری سیاست گند سے پاک ہوسکتی ہے۔ مزنگ کے رہائشی حمید اختر کا کہنا تھا کہ اگر نیت ٹھیک ہو تو چودہ دن بھی کافی ہیں مگر پھر بھی تیس دن الیکشن کمیشن کو دے دئیے جائیں تاکہ وہ اپنا کام کا آسانی سے کرلیں ورنہ موجودہ ارکان اسمبلی کی جعلی ڈگریوں جیسے سکینڈل ہی سامنے آتے رہیں گے اور اگلے پانچ سال ضمنی انتخابات ہوتے رہیں۔ گلبرگ کے رہائشی محمد وسیم نے کہا سیاست دان کیوں اعتراض کررہے ہین اگر ان کا دامن صاف ہے تو الیکشن کمیشن کو تیس دن کا ٹائم دینے میں کیا حرج ہے۔ اس طرح ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا کام آسانی سے ہوجائے گا اور الیکشن کمیشن پر ورک لوڈ نہیں بڑھے گا اب جبکہ آئندہ الیکشن قریب ہیں ایسے میں فوری طور پر فیصلہ کردینا چاہیے تاکہ الیکشن کمیشن کی مدد ہوسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر جانبدار الیکشن کمشنر تعینات ہوا ہے اسی لئے ان کو 30 دن کا ٹائم دے دینا چاہیے۔ مال روڈ کے ایک تاجر اصغر بٹ نے کہا میں حیران ہوں کہ سیاست دانوں نے چودہ دن کا ٹائم کیوں مانگا ہے جبکہ اس کام کے لئے تیس دن ٹھیک ہیں تاکہ اتنے زیادہ تعداد میں کاغذات نامزدگی کو بڑے اچھے طریقے سے جانچ پڑتال کیا جاسکے اور جو امیدوار الیکشن کمیشن کے معیار پر پورا اترے صرف اسی امیدوار کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ الیکشن کمیشن کے کام پر کوئی بھی اعتراض نہ اٹھاسکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1