عارضی بھرتیاسسٹنٹ ڈائرےکٹر وں کی طرف سے پوش علاقوں مےں غےر قانونی تعمیراتکی اجازت کا انکشاف

عارضی بھرتیاسسٹنٹ ڈائرےکٹر وں کی طرف سے پوش علاقوں مےں غےر قانونی تعمیراتکی ...

لاہور (اپنے نمائندے سے) ایل ڈی اے کی ٹاﺅن پلاننگ برانچ میں عارضی طور پر بھرتی ہونے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹروں اور ڈپٹی ڈائریکٹرز صاحبان نے ایل ڈی اے کے پوشش علاقہ جات میں بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دیدی جس کا انکشاف ہونے پر محکمہ انٹی کرپشن سمیت ایل ڈی اے کی سی ایم آئی ٹی برانچ کے افسران بھی حرکت میں آ گئے 2 سالوں میں جاری ہونے والے کمپلیشن سرٹیفکیٹ اور نقشہ جات کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے مزید معلوم ہوا ہے کہ سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر بھرتی کئے جانے والے ٹاﺅن پلاننگ برانچ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز نے اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لئے مختلف ٹھیکیداروں اور ڈیلرز سے ساز باز کر لی ہے جس کے باعث گزشتہ 2 سالوں کے دوران ماڈل ٹاﺅن، گارڈن ٹاﺅن، گلبرگ ٹاﺅن، اقبال ٹاﺅن، فیصل ٹاﺅن، جوہر ٹاﺅن سمیت پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیموں برگ سمن، لیک ویو سٹی، فضائیہ ہاﺅسنگ سکیم، اقبال نشیمن، ریونیو ایمپلائز، ویلنشیاءٹاﺅن، آرکیٹکٹ، سنی پارک، ائیر لائنز سوسائٹی سمیت دیگر پوش علاقہ جات میں غیر قانونی تعمیرات کروانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور ایل ڈی اے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کئے جانے والے گھروں کے منہ مانگی رشوت کے عوض ناصرف نقشے پاس کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے بلکہ کمپلیشن سرٹیفکیٹ بھی جاری کئے جا رہے ہیں جبکہ رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کئے جانے کے باعث جہاں حکومتی خزانے کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے وہاں محکمہ کی بدنامی میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے رشوت لے کر تعمیرات کروانے کی افواہیں گردش ہونے پر ایل ڈی اے کی سی ایم آئی ٹی برانچ کے افسران اور محکمہ انٹی کرپشن بھی حرکت میں آ چکا ہے اور اس ضمن میں عارضی طور پر کام کرنے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور ڈپٹی دائریکٹرز سے موضع فیلڈ سمیت نقشہ جات کی مد جمع ہونے والی رقوم کے حوالے سے بھی تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1