اہم مقامات کی ناقص سکیورٹی کے باعث دہشتگردیکا خدشہ

اہم مقامات کی ناقص سکیورٹی کے باعث دہشتگردیکا خدشہ

لاہور (جاوید اقبال/جنرل رپورٹر) ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے بدترین واقعات کے باوجود صوبائی دارالحکومت کے اہم مقامات سرکاری، غیر سرکاری عمارتوں، عبادت گاہوں، مارکیٹوں میں سیکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے یہ مقامات دشمن عناصر کے باآسانی ٹارگٹ پر آسکتے ہٰن۔ اس صورتحال کے باعث ان مقامات پر کام کرنے والے یا جانے والے عدم تحفظ کا شکا رہیں یہاں تک کہ شہر لاہور میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں اور اہل تشیع کے امام بارگاہوں میں ہفتہ وار دعائیہ تقریبات اور محافل منعقد ہوتی ہین مگر یہاں سکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ شہر میں اہل تشیع کی سب سے بڑی مجلس ہفتہ وار میکلوڈ روڈ پر مونس پورہ قبرستان میں منعقد ہوتی ہے یہاں بھی سیکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں اور ملکی حالات کے پیش نظر جہاں بھی سیکیورٹی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں اہم سرکاری وغیر سرکاری عمارتوں دفاتر مارکیٹوں، پلازوں، ریلوے سٹیشن، لاری اڈوں اور امام بارگاہوں کے علاوہ اہل تشیع کی مجالس گاہ اور مسیحی برادری کی ایسی عبادت گاہیں جہاں ہفتہ وار ان کی مذہبی عبادت ہوتی ہے اور ان میں سینکڑوں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ ناقص سیکیورٹی کے باعث جہاں کوئی بھی دشمن عناصر اور ملک کے اندر انارکی اور فرقہ واریت کے لئے کسی بھی وقت باآسانی ٹارگٹ بناکر فرار ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لاہور کے ریلوے سٹیشن سمیت کینٹ بادامی باغ، شاہدرہ، رائیونڈ ریلوے سٹیشنوں پر سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی غیر تسلی بخش ہیں ان سٹیشنوں پر ”اکا دکا“ میٹل ڈٹیکٹرز اور سکینر لگائے گئے ہیں جن کی اکچریت خراب ہے۔ اس طرح شہر میں واقع جنرل بس سٹینڈ لاری اڈہ سمیت اے سی سٹینڈرز، ملتان روڈ بس ٹرمینل، پرائیویٹ لاری اڈے سیکیورٹی کے بغیر چلائے جاہے ةٰن جہاں بس میں سوار ہونے والی ہر سواری کا سامان اور سواری کو چیک کرنے کے سکرینگ ضروری ہے اور میٹل ڈٹیکٹرز ہونا ضروری ہے۔ مگر اس نام کی کوئی چیز کسی اڈے پر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہر کے تمام بڑی بارکیٹوں اور پلازوں میں سیکیورٹی کے سرکاری یا غیر سرکاری طور پر سیکیورٹی کے انتظامات میں اضافہ کیا گیا ہے نہ بہتر کی گئی ہے دوسری طرف ان مارکیٹوں میں اس قدر تجاوزات ہیں کہ کوئی بھی دہشت گرد کوئی بھی کارروائی ڈال کر بڑا سانحہ رونما کرکے آرام سے فرار ہوسکتا ہے۔ اسی طرح شہر میں واقع تمام مزارات کے علاوہ امام بارگاہوں سمیت سمیت عیسائی برادری کی عبادت گاہوں پر سیکیورٹی انتہائی ناقص ہے۔ ضلع کچہری سمیت تمام کورٹس میں بھی سیکیورٹی کے انتظامات بہتر نہیں بنائے جاسکے۔ اہل تشیع کی ایسی امام بارگاہوں جہاں ہفتہ وار مجالس منعقد ہوتی ہیں جہاں بھی ہفتہ وار مجالس منعقد ہوتی ہیں یہاں بھی سیکیورٹٰ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ماڈل ٹاﺅن کچہری، کینٹ کچہری، فیروز والا کچہری، کمشنر آفس، ڈی سی او آفس، ٹاﺅن ہال میں بھی سیکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس طرح شہر میں واقع ہسپتالوں میں بھی سیکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہسپتالوں کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں سیکیورٹی کے الگ سے جواب بھرتی کئے گئے ہیں۔ مگر سیکیورٹی میں واقع تھانوں، پولیس چوکیوں اور ایس پیز کے دفاتر میں بھی سیکیورٹی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ای ڈی او ہیلتھ لاہور، ڈی پی آئی کالجز سکولز، ای ڈی او ایجوکیشن سمیت متعلقہ دفاتر تعلیمی اداروں، نرسنگ کے اداروں میں بھی سیکیورٹی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان حالات میں عوام میں خوف وہراس پھیلا ہوا ہے دفاتر میں بھی سیکیورٹی نہ ہونے سے کام کرنے والا عملہ عدم تحفظ کا شکار ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1