سیاسی میدان ایک بار پھر سجنے لگا پرانے کھلاڑی نٹ نئے داﺅ پیچ استعمال کریں گئے

سیاسی میدان ایک بار پھر سجنے لگا پرانے کھلاڑی نٹ نئے داﺅ پیچ استعمال کریں ...

                    لاہور(شہبازاکمل جندران، معاونت تنویر ساحرڈسٹرکٹ رپورٹر)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 164میں سیاست کا کھیل بھی پرانا اور کھلاڑی بھی وہی ۔5برس بعد میدان ایک بار پھر سجنے لگا۔پرانے کھلاڑی نت نئے طریقے اورداﺅپیچ استعمال کرینگے۔دھڑے بندیاں ، تھانہ کچہری ، ڈیرہ داری ،اجارہ داری اور دیہاتی کلچر این اے164کاہمیشہ سے خاصہ رہا ہے،ضلع پاکپتن پر مشتمل اس حلقے کے رھائشی زراعتی آمدن کا 80فیصد مخالفین کو نیچا دکھانے اور دیوانی و فوجداری مقدمات کی نظر کردیتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور لوڈشیڈنگ نے اپنی تمام تر خرابیوں اور برائیوں کااثراس دیہاتی کلچر کے حامل حلقے پر بھی چھوڑا ہے۔ کسانوں ، کاشتکاروں اور زمینداروں کے ذرائع آمدن اب مہنگی اوربلیک میں دستیاب کھاد ،بیج ، ادویات ، اووربلنگ اور لوڈشیڈنگ کے باعث نہ صرف کم ہوگئے ہیں بلکہ ان کے لیے ضروریات زندگی حاصل کرنا بھی مشکل ہورھا ہے۔ یہاں قتل ، اقدام قتل اور اغوا کی وارداتوں کی نسبت چوری اور ڈکیتی جیسی وارداتوں سے ہی تھانہ و کچہریاںآباد ہیں۔ پٹواری اور تھانیدارکے گرد گھومتی یہاں کی زندگی میں سیاست انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ سیاسی میدان میں کوئی نئی تبدیلی نہیں ہے کھیل بھی پرانا ہے اور کھلاڑی بھی وہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے موجودہ ایم این اے منصب ڈوگر دوبارہ بھی (ن) لیگ ہی کے امیدوار ہیں انکے مد مقابل پرانے حریف مسلم لیگ ق کے سدا بہار سیاستدان پیر احمد شاہ کھگہ ہیں جو قبل ازیں متعدد بار ایم پی اے اور ایم این اے منتخب ہوچکے ہیں، گزشتہ الیکشن میں خاندانی اختلاف کے باعث وہ ایم این اے شپ سے محروم رہے ہیں۔ تیسرے بڑے امیدوار پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر راﺅ جمیل ہاشم ہیں ، گزشتہ الیکشن میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے باعث انہیں زیادہ ووٹ ملے۔ جبکہ راﺅ فیملی کے زیر اثر چک بیدی کی یونین کونسل بھی آتی ہے جس میں ان کے اندرونی اختلافات ہی انہیں کوئی بڑی ہٹ لگانے نہیں دیتے او ر گزشتہ الیکشن میں ضلع بھر سے پیپلز پارٹی کی کوئی بھی نششت حاصل نہ کر سکنے کی وجہ سے تھانہ کچہریوں میں یا ضلعی دفاتر میں وہ عوام کی توقعات پوری نہ کر سکے جس کی وجہ سے پی پی پی کا بنیادی ووٹر بھی دیگر ڈیروں سے وابستہ ہو گیا۔ سابق تحصیل ناظم فرخ ممتاز مانیکا بھی این اے 164سے ہی امیدوار ہیں اور اپنی سلجھی ہوئی سیاست اور بھاری ووٹرز کے باجود بدقسمتی سے صوبائی اسمبلی کے لئے ان کے ساتھ کوئی بڑا یا بہتر نام نہ گزشتہ الیکشن میں تھا اور نہ اس الیکشن میں ہے۔ بھاری بھرکم سیاست دان میاں عطا مانیکا کی بھی خواہش ہے کے وہ این اے 164کاالیکشن لڑیں اور اپنے پینل میں پی پی 227 سے راﺅ برادری اور پی پی 229سے منصب ڈوگر کو لیکر میدان میں اتریں۔ اگرچہ مجوزہ پینل نا قابل تسخیر تصورکیا جاتا ہے لیکن میاں عطا مانیکا کی یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے کانٹے دار مقابلہ صرف پیر محمد شاہ کھگہ اور سردار منصب علی ڈوگر کے درمیان ہی متوقع ہے۔ گزشتہ الیکشن میں پیر محمد شاہ کھگہ کے داماد طارق قیوم شاہ کھگہ فرخ ممتاز مانیکا کے ساتھ ملکر سیاسی اکھاڑے میں اترے تھے جسکی وجہ سے پیر محمد شاہ کھگہ سمیت طارق قیوم کھگہ اور فرخ ممتاز مانیکا تینوں سیٹیں مخالفین کو دے بیٹھے اور سردار منصب ڈوگر جنہوں نے اپنے تین طاقتور دھڑوں کو اپنے ہمراہ ایم پی اے لڑانے کے دلاسے دے رکھے تھے آخری وقت پر اپنے بھائی واجد ڈوگر کو ایم پی اے لینے کے باجود مخالفین کی اندرونی مخالفت کے باعث فتح یاب رہے اور اب جبکہ واجد ڈوگر گزشتہ پانچ سال ایم پی اے رہ چکے ہیں تو موجودہ الیکشن میں قطعی سیٹ نہیں چھوڑیں گے اور منصب ڈوگر کے لئے اپنے حلقے میں سابقہ ساتھیوں اور دھڑوں کو برقرا ر رکھنا اُتنا آسان نہ ہو گا حالانکہ انہوں نے گزشتہ 5 سال میں ایم این اے شپ انجوائے کرنے کی بجائے عوامی مسائل میں دلچسپی لی اور رابطے میں رہے لیکن زمین کے تنازع کے باعث اب وہ اپنی حمایتی ارائیں برادری کے ووٹ سے محروم ہو چکے ہیں ۔ این اے 164میں صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں آتی ہیں پی پی 227آدھی این اے 165کا حصہ ہے اور آدھی این اے 164میں آتی ہے ۔پی پی 227کے امیدوار وں میں میا ں عطا محمد مانیکا ، میاں فاروق احمد مانیکا ، جمیل ہاشم ےا نعیم ہاشم اور خالد سعید خاں شامل ہیں جبکہ پی پی 229کے امیدوار وں میں مسلم لیگ ن کی طرف سے سابق ایم پی اے سردار واجد علی ڈوگر الیکشن میں حصہ لیں گے۔ گزشتہ الیکشن میں صرف خوش قسمتی ان پر سایہ فگن رہی کیونکہ منصب ڈوگر اور واجد ڈوگر دونوں بھائی ہی کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل ان سے بھی پرانے کھلاڑی محمد شاہ کھگہ اور پیر احمد شاہ کھگہ دونوں بھائی تھے اور اس الیکشن میں بھی واجد ڈوگر کے مد مقابل ق لیگ کے امیدوار احمدشاہ کھگہ ہی ہوں گے۔ دیگر امیدواروں میں اگرچہ تحریک انصاف کے متو قع ٹکٹ ہولڈر اور ہانس برادری کے سابق ناظم ملکہ ہانس میاں مظہر فرید ہانس بھی کمزور امیدوارنہیں ہیں اور پی ٹی آئی کے اسلم ڈوگر بھی میدان میں ہیں ۔ ایم کیو ایم کے نوازش وڑائچ اور پیپلز پارٹی کے عمران اکرم بیٹو بھی پی پی 229سے ہی امیدوار ہوں گے ۔ لیکن اصل مقابلہ سردار واجد ڈوگر ، پیر احمدشاہ کھگہ اور مظہر شریف ہانس کے درمیان ہوگا۔ حلقہ این اے164میں سوئی گیس کی فراہمی اور ملکہ ہانس کے لئے گرلز کالج کی منظوری اہم مسائل ہیں جن پر سیاستدانوں اور ایم این ایز نے کبھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی۔ ملکہ ہانس ہی بہت بڑا علاقہ ہے جبکہ نور پور سب تحصیل کا مقام رکھتا ہے اور سب تحصیل نور پور میں سیوریج نظام آج تک متعارف ہی نہیں ہوا ۔ گندے پانی کی نکاسی ہی نہیں جس کے باعث اُس علاقے کے ہزاروں افراد گلہڑ کی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ علاوہ ازیںہیپا ٹائٹس جیسی موذی مرض سے بچاﺅ کا کوئی انتظام نہیں سینکڑوں دیہات کو سوئی گیس میسر نہیں ملکہ ہانس، نور پور اور گرد و نواح میں لڑکیوں کے لئے کوئی گرلز کالج نہیں جس کی وجہ سے لڑکیاں اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔ لوگ اپنی بچیوں کو دور دراز کے شہروں پاکپتن یا ساہیوال ضلع میں تعلیم کے لئے جانے کی اجازت نہیں دیتے جسکی وجہ سے علم کمزور اور جہالت فروغ پا رہی ہے جس کے باعث ذاتی چپقلشوںکی غلامی میں جکڑا دیہاتی کلچر انسانی محکومیت کا شکار ہو کر ووٹ کا حق بھی آزادی سے استعمال نہیں کرسکتا۔

مزید : صفحہ اول