سانحہ کوئٹہ، خفیہ اداروں نے سول انتظامیہ کو ناکام قراردیدیا، جو سوال پوچھے، اُن کا جواب نہیں ملا، رپورٹ دوبارہ جمع کرائیں : سپریم کورٹ

سانحہ کوئٹہ، خفیہ اداروں نے سول انتظامیہ کو ناکام قراردیدیا، جو سوال پوچھے، ...
سانحہ کوئٹہ، خفیہ اداروں نے سول انتظامیہ کو ناکام قراردیدیا، جو سوال پوچھے، اُن کا جواب نہیں ملا، رپورٹ دوبارہ جمع کرائیں : سپریم کورٹ

  


اسلام آباد ( ما نیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے ہفتے کو کوئٹہ کے کیرانی روڈ پر ہونیوالے دھماکے سے متعلق خفیہ اداروں کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کردی ۔ عدالت کاکہناتھاکہ جو سوالات پوچھے گئے ہیں ، اُن کے جواب نہیں ملے ، وہی باتیں بتائی گئیں جو پہلے سے اخبارات میں آچکی ہیں ،بارود لاہورسے کوئٹہ پہنچ گیالیکن کسی کو خبر نہیں ہوئی ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سانحہ کیرانی روڈ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل، سیکرٹری داخلہ کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، سیکرٹری دفاع لیفٹینٹ جنرل آصف یاسین ملک نے سانحہ کوئٹہ پر آئی ایس آئی کی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق ایم آئی اس معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی،وہ اپنی معلومات آئی ایس آئی کے حوالے کر دیتی ہے۔ سیکرٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی نے دہشتگردی کے خلاف 130 آپریشنز کیے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا سابقہ آپریشنز کا نہیں پوچھا ،کیا حالیہ دہشت گردی کے واقعے کی کوئی اطلاع تھی؟ سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ ایسے کسی واقعے کی کوئی اطلاع نہیں تھی، ایجنسیاں ہر وقت ہر کسی پر نظر نہیں رکھ سکتیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو سوالات ہم نے پوچھے ،ان کا جواب آئی ایس آئی کی رپورٹ میں موجود نہیں ہیں،وہ باتیں ہیں جو اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ ہم نے پوچھا تھا کہ ایجنسیاں یہ دہشت گردی روکنے میں کیوں ناکام رہیں؟ آج یہ صورتحال ہے کہ دھرنا ختم ہوتا ہے اور پھر شروع ہو جاتا ہے،بالآخر ذمہ داری حکومت کی ہے ،وہ معاملات کو سنبھالے۔ جسٹس خلجی عارف نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بارود لاہور سے چل کر کوئٹہ پہنچ جاتا ہے، ایجنسیاں اور پولیس کیا کر رہی ہیں؟ یہ بات خطرناک ہے کہ سول حکومت ایسے واقعات روکنے میں ناکام ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج فوج کو بلانے کے نعرے لگ رہے ہیں۔ آئی ایس آئی نے ”الزام “عائد کیا کہ سول حکومت انسداد دہشت گردی کا پروگرام طے نہیں کر رہی، سول انتظامیہ ناکام ہوگئی جس پر سپریم کورٹ نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

مزید : اسلام آباد /Headlines