فلمی سٹار کا دائرہ فلموں میں کام تک ہی نہیں ‘ متھن چکرورتی

فلمی سٹار کا دائرہ فلموں میں کام تک ہی نہیں ‘ متھن چکرورتی

  

ممبئی (اے این این) بالی ووڈ اداکار متھن چکرورتی نے کہا ہے کہ فلمی سٹارز کا دائرہ اب صرف فلموں میں کام تک ہی نہیں رہا بلکہ وہ عیش و آرام اور سٹارڈم کو برقرار رکھنے کے لئے دوسرے کاروبار میں بھی لگے ہوتے ہیں‘ فلمواں کے علاوہ ایڈ فلموں میں کام کرناتو بہت عام بات ہو چکی ہے۔ اسی طرح فلم کی شوٹنگ سے متعلق وسائل فراہم کرانا‘ سٹوڈیو چلانا‘ ڈسٹربیوشن کمپنی چلانا اور فلم سازی کے باقی کاموں کو بھی سٹارز پہلے سے ہی کرتے آ رہے ہیں۔ کوئی ریستوران چلاتا ہے تو کوئی ہیروئن بیوٹی سیلون چلاتی ہے تو کوئی سٹار بڑے ہوٹل کا مالک ہے۔ غرض کہ اب زیادہ تر فنکار فلموں میں کام کے ساتھ ساتھ متوازنی کاروبار میں بھی لگا ہوا ہے۔ سنیل شیٹھی ہوں یا متھن چکرورتی ہوں یا دھرمندر یا رونت رائے یہ سب اداکاری کے علاوہ مختلف بزنس بھی کرتے ہیں۔ متھن چکرورتی نے تو بہت سال پہلے ہی جنوبی ہند کے مشہور ہل س ٹیشن اوٹی میں اپنا ایک شاندار ہوٹل شروع کردیا تھا۔ اس ہوٹل میں شروع شروع میں تو صرف شوٹنگ کے لئے جانے والی فلمی ہستیاں ہی ٹھہرا کرتی تھیں۔

 لیکن اب تو اس ہوٹل کے دروازے سب کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ سنیل شیٹھی کے بھی ممبئی میں کئی ریستوران ہیں۔ گرگا¶ں چوپاٹی پر ان کا ایج ٹو اونام کا واٹر سپورٹس سنٹر بھی ہے جہاں چھوٹی چھوٹی نا¶ں میں بیٹھ ک ر روز سینکڑوں لوگ سمندر کی لہروں کا لطف اٹھاتے ہیں۔ پہلے فلموں اور پھر ٹی وی میں خوب سارا کام کرکے اداکار کے طور پر اپنا مقام بنا چکے۔ رونت رائے ایس سیکیورٹی اینڈ پروٹیکشن نام ایک سیکیورٹی کمپنی چلاتے ہیں۔ فلم اداکار ارجن رامپال بھی ریستوران ک میدان میں ایک کامیاب بزنس مین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ تو ممبئی‘ دہلی کے علاوہ دبئی میں بھی ہوٹل ہیں۔ ٹی وی اینکر انوچ گپتا بھی ریستوران چلاتے ہیں۔ ان کی ایک کمپنی اور بھی ہے ای ایلڈر فارما جو دوا بناتی ہے۔سلمان خان بھی ریستوران کھولنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ شلپا شیٹھی‘ پریتی زنٹا اور شاہ رخ خان وغیرہ کرکٹ کمپنیوں کے مالک ہیں۔ شلپا کی راجستھان رائلز‘ شاہ رخ خان کی کولکتہ نائٹ رائیڈر اور پریتی زنٹا کی کنگز الیون پنجاب ٹیمیں ہیں۔ یہ سب پیسے زیادہ سے زیادہ حاصل کرلینے کے ہتھکنڈے اس لئے آزمائے جا رہے ہیں کہ انہوں نے پیسے کی اہمیت کو سمجھ لیا ہے اور اے کے ہنگل‘ بھگوان دادا‘ پروین بابی جیسے عمدہ فنکاروں کی زندگی کو قریب سے دیکھا ہے۔ اے کے ہنگل جیسا عظیم آرٹسٹ اپنی ز ندگی کے آخری دنوں میں پیسے کی تنگی کی وجہ سے بیمار ہوتا چلا گیا۔ بھگوان دادا جیسا غضب کا اداکار کسمپرسی کی وجہ سے چل بسا۔ پروین بابی بریڈ دودھ کے پیسے بھی نہیں دے پائی تھیں۔ ان فنکاروں کی طرح آج کے فنکاروں کو سٹارڈم ختم ہونے کے بعد تنگی کا سامنا کرنا پڑا اس لئے یہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی فراق میں لگے ہوتے ہیں۔

مزید :

کلچر -