والدین.... جنت کا پروانہ

والدین.... جنت کا پروانہ
والدین.... جنت کا پروانہ
کیپشن: hafiz

  

بچوں کے لئے لکھی گئی کہانی جس میں بڑوں کے لئے بھی دعوتِ فکر ہے، اس لئے وہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

دنیا کا ہر شخص اس حقیقت کو جانتا ہے کہ والدین اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو اسے بڑی حفاظت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔والدین خود مشقت اٹھا کر اسے ہر طرح کی حفاظت فراہم کرتے ہیں۔ اسے چلنا نہیں آتا، اٹھ کر کھڑا ہوتا ہے، چلنے کی کوشش کرتا ہے، گر جاتا ہے، والدین اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتے ہیں۔ وہ اس کے چلنے کے لئے یہ اہتمام کرتے ہیںکہ اسے واکرلاکر دیتے ہیں اور اس پر بٹھاتے ہیں۔ پھر وہ کمزور سا بچہ واکر کے ذریعے چلنے، بلکہ بھاگنے دوڑنے لگتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی ہر خوشی کا خیال رکھتے ہیں اور اگر بچے کسی بات پر ضد کرتے ہیں تو والدین بسا اوقات انہیں اپنی استطاعت سے زائد بھی مطلوبہ چیز فراہم کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ والدین اور اولاد کے بارے میں اساتذہ اور بزرگوں سے کئی سبق آموز واقعات سنے تھے۔ آج ایسا ہی ایک واقعہ آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں، جس کے اندر ہر انسان کے لئے بڑا سبق ہے۔

ایک شادی شدہ جوڑے کو اللہ تعالیٰ نے بچہ عطا فرمایا، لیکن اللہ کی قدرت کہ وہ بچہ چند دنوں کے بعد ہی فوت ہوگیا۔اسی طرح ان کے ہاں یکے بعد دیگرے دو تین بچے اللہ نے عطا کئے۔ مگر ان سب کی عمر یہی کوئی تین چار ماہ ہی رہی۔ ان بن کھلے مرجھا جانے والے پھول جیسے بچوں کا باپ بڑا غم زدہ تھا اور ان کی ماں اس سے بھی زیادہ غم سے نڈھال تھی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک اور بچہ عطا کیا۔ ماں باپ کے ذہن میں یہی دھڑکا لگا ہوا تھا کہ پہلے بچوں کی طرح پتا نہیں اس کا بھی کیا انجام ہوگا اور وہ کتنے وقت تک زندہ رہے گا؟ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس بچے کو لمبی زندگی عطا فرمادی۔ اس کا نام فاروق رکھاگیا۔ فاروق بہت ہوشیار بچہ تھا، جب ذرا بڑا ہوا تو توتلی زبان میں اس نے باتیں کرنا شروع کیں۔ وہ گھر کے اندر بھاگتا پھرتا تھا، ہر چیز کو الٹ پلٹ کرتا، برتن توڑتا اور تمام چیزوں کے بارے میں بار بار سوال کرتا تھا۔

دیکھا گیا ہے کہ زیادہ سوال کرنے والے بچے عموماً ذہین ہوتے ہیں اور وہ ہر چیز کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ فاروق اپنے ماں باپ سے ہر چیز کے بارے میں پوچھتا تو وہ بتاتے کہ یہ فلاں چیز ہے۔ پھر بھی وہ سوال کرتا رہتا۔ اس کے والد سکول میں ٹیچر تھے۔ وہ اس کی باتیں اپنی ڈائری میں نوٹ کرتے رہتے تھے۔ وقت گزرتا چلا گیا، فاروق پانچ سال کا ہوا تو اسے سکول میں داخل کرادیا گیا، پھر اس نے کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم بھی مکمل کرلی۔ تعلیم سے فارغ ہوا تو ایک بوائز کالج میں استاد لگ گیا۔ اسی ملازمت کے دوران اس نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کرلی۔ اب وہ پروفیسر ڈاکٹر فاروق تھا۔

ڈاکٹر فاروق کے والد بہت بوڑھے ہوگئے تھے اور ان کی یادداشت بھی کافی حد تک ختم ہوگئی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو بڑا کمزور ہوتا ہے،اس کے بعدجب اس کا بچپن گزرتا ہے تو جوانی آتی ہے۔ جوانی کے ساتھ بھرپور قوت آتی ہے، اس کے بعد پھر اپنے وقت پر بڑھاپا آجاتا ہے اور بعض اوقات وہ عمر کے اس حصے میں پہنچ جاتا ہے، جس کو ارذل العمر کہا گیا ہے۔ اس دور میں عموماً انسان کی یادداشت ختم ہوجاتی ہے۔ جو چیزیں اس کے علم میں تھیں، وہ ساری یا ان میں سے بیشتر بھول جاتی ہیں اور وہ بالکل خالی الذہن ہوجاتا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عمر سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

فاروق کے والد بڑھاپے کو پہنچے تو ان کی یادداشت اور حافظہ اس قدر متاثر ہوا کہ بسااوقات خود انہیں اپنا نام بھی یاد نہیں رہتا تھا، لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اپنے بیٹے کا نام وہ ہمیشہ ٹھیک طرح سے بلاتے تھے۔ ایک دن انہوں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ فاروق بیٹے! آج کیا دن ہے؟ بیٹے نے کہا: ”ابا جی آج جمعہ ہے“۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر بوڑھے والد نے کہا کہ فاروق بیٹے! آج کیا دن ہے؟ بیٹے نے پھر جواب دیا کہ ابا جی آج جمعہ ہے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ انہوں نے پھر وہی سوال کردیا۔ اب پروفیسر صاحب قدرے غصے میں آگئے اور انھوں نے کہا کہ ابا جی کتنی بار بتا چکا ہوں کہ آج جمعہ ہے۔ جب بوڑھے باپ نے چوتھی مرتبہ وہی سوال دھرایا تو سخت الفاظ میں جواب ملا: ”اباجی آپ مغز چاٹ لیتے ہیں، ایک ہی بات کو بار بار پوچھتے ہیں، جواب دیتا ہوں، پھر وہی بات بار بار پوچھے چلے جارہے ہیں مَیں نے کہا نا کہ آج جمعہ ہے جمعہ“۔

اللہ نے انسان کا دماغ بہت عجیب بنایا ہے۔ اس کے اندر سیل ہوتے ہیں جو چیزوں کو سمجھتے اور محفوظ کرتے ہیں۔ یہ سیل بعض اوقات کمزور ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات مردہ ہوجاتے ہیں، لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ سیل جو کمزور ہیں، اچانک کسی واقعہ پر کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔ جب فاروق نے اپنے والد کو غصے کے ساتھ جھڑکی دی تو ان کے وہ کمزور سیل اچانک حرکت میں آئے اور کچھ دیر کے لئے پوری طرح فعّال ہوگئے۔ انہیں اپنی بھولی ہوئی بعض چیزیں یاد آگئیں اور انہوں نے کہا: ”فاروق بیٹے! فلاں الماری میں میری ایک نیلے رنگ کی ڈائری پڑی ہے وہ تو ذرا اٹھا کر لے آ¶“۔

پہلے تو پروفیسر صاحب نے سوچا ابا جی کو ڈائری کیسے یاد آگئی، ویسے ہی ایک سوال کردیا ہے۔ پھر اس کو خیال آیا کہ اس نے ان کو تھوڑا سا جھڑک دیا تھا اور اسے ندامت کا احساس بھی ہورہا تھا، اس لئے ڈائری لینے کے لئے چلا گیا۔ الماری سے وہ پرانی ڈائری اٹھا کر لایا تو فاروق کے والد نے وہ ڈائری کھولی، اس میں سے ایک صفحہ نکالا اور اسے بلند آواز سے پڑھنا شروع کیا۔ بوڑھا باپ پڑھ رہا تھا اور ڈاکٹر بیٹا سن رہا تھا: ”فاروق بیٹا آج دو سال کا ہوگیا ہے، آج اس کی سالگرہ ہے، وہ بہت پیاری پیاری باتیں کرتا ہے، سوال کرتا ہے تو بار بار دھراتا ہے اور بہت پیارا لگتا ہے۔ بعض اوقات وہ بہت زیادہ سوال کرنے لگتا ہے تو جی چاہتا ہے کہ اس کے سوال کا جواب نہ دیا جائے، مگر پھر خیال آتا ہے کہ اس کا دل ٹوٹ جائے گا۔ اس عمر میں اس کی دل شکنی کی بجائے اس کو حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری کسی بات سے وہ بددل اور مایوس ہوجائے اور اس کے ذہن پر الٹا اثر پڑ جائے۔ آج اس نے مجھ سے پوچھا کہ ابا جی وہ درخت پر کیا بیٹھا ہے؟مَیں نے کہا بیٹے یہ کوّا ہے۔ اس نے پندرہ مرتبہ مجھ سے بار بار یہی سوال پوچھا اورمَیں نے اس کو پندرہ مرتبہ بتایا کہ بیٹے یہ کوّا ہے۔ اس کے بعد اس کی توجہ کسی اور جانب مبذول ہوگئی اور وہ کھیلتا کھیلتا کہیں اور جا نکلا“....جب بزرگ یہ روداد پڑھ رہے تھے تو فاروق نے اسے سنتے سنتے اپنے دل میں عجیب سی شرمساری محسوس کی۔ اس سے احساس ہوا کہ اس سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے۔ اس نے کہا: ”ابا جی! مجھے معاف کردیں، مَیں نے آپ سے گستاخی کی ہے، حالانکہ مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔مَیں آئندہ کبھی یہ غلطی اور گستاخی نہیں کروں گا“۔ اب پھر ان کا ذہن اپنی پرانی ڈگر پر چلا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کون سی گستاخی، کون سی غلطی اور کون سی معافی؟

حضرات! والدین اور اولاد کا تعلق ایسا ہی ہے کہ دنیامیں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ والدین اپنی اولاد کے لئے سب کچھ قربان کرتے ہیں اور ہونہار، سمجھ دار اور ہوشیار بچے اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتے ہیں۔خوش نصیب اور سعادت مند بچے کوشش کرتے ہیں کہ اپنے والدین کی خدمت کرکے جنت کے مستحق بن جائیں۔ والدین کی خدمت سے اللہ تعالیٰ بہت راضی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم بھی یہی دیا ہے کہ والدین کو خوش رکھا جائے، ان کے سامنے اُف بھی نہ کی جائے۔ اگر کبھی ناراض ہوجائیں تو انہیں راضی کیا جائے۔ جس کے والدین اس سے راضی ہوں گے، اللہ رب العزت بھی اس سے راضی اور خوش ہوگا اور جس کے والدین اس سے ناراض ہوں گے، اللہ پاک بھی اس سے ناراض ہوگا۔ یہی قرآن وسنت کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔

مزید :

کالم -