سوا لاکھ کا ہاتھی

سوا لاکھ کا ہاتھی
سوا لاکھ کا ہاتھی
کیپشن: naseem

  

راولپنڈی میں ایک ہی روز دو سابق وزرائے اعظم اور ایک سابق مطلق العنان آمر مختلف عدالتوں میں پیش ہوئے۔سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف احتساب عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ سابق صدر و چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف نے بالآخر خصوصی عدالت میں حاضری دی۔ دونوں سابق وزرائے اعظم کا پیش ہونا ایسے ہی تھا جیسے عوام عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔نہ ان کے لئے سیکیورٹی کے کوئی خصوصی انتظامات کئے گئے او ر نہ ہی پروٹوکول کا جھنجھٹ پالا گیا۔ وہ خود مزے سے عدالتوں میں آئے اور واپس چلے گئے،لیکن یہ بات سابق جرنیل کے لئے روا نہیں رکھی گئی، انہیں ہسپتال سے خصوصی عدالت تک لانے کے لئے اڑھائی ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کئے گئے۔ سیکیورٹی کی خصوصی گاڑیوں نے انہیں اپنے حصار میں لئے رکھا اور انہیں سربراہ مملکت کا پروٹوکول دیتے ہوئے عدالت میں لایا گیا۔ مَیں یہ دونوں مناظر دیکھ کر سوچنے لگا کہ ہمارا سابق وزیراعظم یا سابق سویلین صدر کتنا ہی بااثر اور مقبول کیوں نہ ہو، عہدے سے اترنے کے بعد صفر ہو کر رہ جاتا ہے، مگر اس مملکت خداداد میں کوئی ڈکٹیٹر چاہے کرسی پر بیٹھا ہو یا کرسی سے محروم کر دیا گیا ہو، اس کی اہمیت بھی برقرار رہتی ہے اور اسے ریاست کی طرف سے مکمل پروٹوکول بھی ملتا ہے۔

اس کے لئے دلیل یہ لائی جاتی ہے کہ پرویز مشرف کو چونکہ شدید خطرات لاحق ہیں، اس لئے ان کی حفاظت کے لئے سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔سوال یہ ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی یا راجہ پرویز اشرف کو خطرات لاحق نہیں ہوں گے؟....سید یوسف رضا گیلانی کا تو بیٹا بھی طالبان کے پاس ہے اور اس کی برآمدگی نہیں ہو پا رہی۔ ذرا سوچیں کہ جب 23مغوی ایف سی اہل کاروں کے قتل کی خبر آئی تو سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے اہل خانہ پر کیا گزری ہوگی؟ان خطرات کے باوجود سید یوسف رضا گیلانی احتساب عد الت کے سامنے پیش ہو گئے۔ کل پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری کہہ رہے تھے کہ پرویز مشرف کا عد الت میں پیش ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم عدالتوں کا بھرپور احترام کرتے ہیں۔یہ بات انہوں نے شاید زیب داستان کے لئے کہی ہے، کیونکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔پرویز مشرف نے عدالت کی طلبی سے خود کو بچانے کے لئے جو حربے آزمائے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پرویز مشرف عدالت کے احترام میں نہیں، قانون کے خوف سے عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلتا ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ تو آئندہ چند روز میں آ جائے گا۔ سوال یہ نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی کا دعویٰ کرنے سے کیا قانون کی حکمرانی قائم ہو جاتی ہے، کیا زمینی حقائق اس کے برعکس نہیں،جو دو سابق وزرائے اعظم عدالت میں پیش ہوئے، وہ اپنے دور اقتدار میں بھی سپریم کورٹ کے سامنے کھڑے ہو کر اس کے احترام کی تاریخ رقم کر چکے ہیں۔کیا کسی آمر یا حاضر سروس جرنیل کو اسی طرح عدالت کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے، یہاں تو ایک ریٹائرڈ جرنیل اور سابق آمر عدالت میں پیشی کو ایک عرصے تک مذاق بنائے رکھتا ہے۔ پھر اسے پیش کرنے کے لئے پوری ریاستی مشینری یوں اس کی حفاظت پر لگ جاتی ہے، جیسے پورے ملک میں صرف اس کی جان قیمتی ہے یا صرف اسے ہی خطرہ لاحق ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں یہ معاملہ سیکیورٹی کا نہیں، بلکہ پروٹوکول کا ہے۔جب اتنے بڑے لاﺅلشکر کے جلو میں ایک سابق جرنیل عدالت پہنچے گا اور انتظامیہ عدالت کو یہ باور کراتی رہے گی کہ اسے پیش کرنا کوئی آسان کام نہیں، بہت بڑے انتظامات کرنے پڑتے ہیں، تو عدالت لامحالہ یہ سوچے گی کہ اسے حاضری سے استثنا دینے پر غور کیا جائے۔

سابق آمر کی صفت یہ ہے کہ وہ قیدی بننے پر بھی جیل نہیں جاتا، بلکہ اس کے عالیشان فارم ہاﺅس کو ہی جیل قرار دے دیا جاتا ہے، لیکن ایک سابق وزیراعظم اس قسم کی کسی سہولت سے فیض یاب نہیں ہو سکتا، اس کا ٹھکانہ ایڈیالہ جیل بنتی ہے یا پھر کوٹ لکھپت جیل۔ سابق وزیراعظم کو پھانسی پر بھی چڑھا دیا جاتا ہے اور جیل میں بھی ڈالا جا سکتا ہے کبھی ایک سابق آمر اور جرنیل چاہے تو وی آئی پی بن کر ملک کے سب سے مہنگے ہسپتال میں قیام کر سکتا ہے اور اگر موڑ آ جائے تو عدالت میں پیش ہونے کے لئے ہزاروں اہلکاروں کی سیکیورٹی کے حصار میں اپنے آنے کا اعلان بھی کر سکتا ہے۔اخبارات نے لکھا ہے کہ18فروری2014ءملک میں قانون کی عمل داری کا دن تھا۔ اس دن دو وزرائے اعظم اور ایک سابق صدر اور چیف آف آرمی سٹاف عدالتوں میں پیش ہوئے۔ اب اگر ہمارے ہاں قانون کی عمل داری کا معیار یہی رہ گیا ہے کہ بااثر افراد عدالتوں میں اپنی مرضی سے پیش ہو جائیں، تو اس پر اظہار افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ دونوں سابق وزرائے اعظم کی پیشی تو کوئی معنی ہی نہیں رکھتی، کیونکہ وہ دونوں تو اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔ اصل خبر تو پرویز مشرف کا پیش ہونا ہے، تاہم وہ جس طمطراق سے عدالت میں پیش ہوئے، وہ اس بات کا اظہار ہے کہ انہیں اقتدار میں ہونے کے باوجود سربراہ مملکت جیسا پروٹوکول حاصل ہے۔

اس کے برعکس سول حکمران جب تک اقتدار میں رہتے ہیں اس کا طوطی بولتا رہتا ہے، جونہی اقتدار سے فارغ ہوتے ہیں، کوئی ادارہ اُن کی پشت پر کھڑا نہیں ہوتا۔ اُن کی پارٹی بھی ان سے بے اعتنائی برتنے لگتی ہے، انہیں سیکیورٹی کے لئے علاقے کے پولیس افسروں کے سامنے منت سماجت کرنا پڑتی ہے۔ شکرہے احتساب عدالت نے سید یوسف رضا گیلانی کی حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کر لی، وگرنہ انہیں اسی طرح سیکیورٹی کے بغیر عدالت میں پیش ہونا پڑتا اور جان داﺅ پر لگی رہتی۔ پرویز مشرف عدالت میں پیش تو ہو گئے، مگر ان پر فردِ جرم نہیں لگ سکی، کیونکہ عدالت نے اپنے اختیاراتِ سماعت کا فیصلہ جمعہ کو سنانا ہے۔ پرویز مشرف کے وکلاءکا استدلال ہے کہ انہوں نے چونکہ تمام فیصلے وردی میں کئے ، اس لئے اُن پر سول عدالت پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ اُن کے خلاف فوجی ضابطوں کے تحت خود فوج ہی کارروائی کر سکتی ہے۔ اگر عدالت وکلاءکے اس موقف کو تسلیم کر لیتی ہے، تو پھر سمجھ لینا چا ہئے کہ پرویز مشرف کے خلاف تمام کیس قصہ ¿ پارینہ بن گئے ہیں، کیونکہ فوج اپنے سابق چیف آف آرمی سٹاف کو کبھی کٹہرے میں نہیں لائے گی۔

جو لوگ پرویز مشرف کو نشانِ عبرت بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ شاید احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ ان کے خلاف مقدمہ قائم کرتے ہوئے اس قدر خلاءر کھ دیئے گئے ہیں کہ انہیں کوئی سزا ہو ہی نہیں سکتی۔ اول تو مَیں اس نظریئے کے ہی خلاف ہوں کہ پرویز مشرف کو غداری کیس میں سزا دلوا کر جمہوریت کو محفوظ اور مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ پرویز مشرف کو سزا ہو بھی گئی تو کیا صرف اس سزا کے خوف سے آرمی کی سیاست میں مداخلت کا راستہ رُک جائے گا؟ میرا نہیں خیال کہ کوئی باشعور شخص اس کا جواب اثبات میں دے سکتا ہے۔ فوج کی مداخلت کے لئے جب تک مواقع موجود نہ ہوں یا دوسرے لفظوں میں قوم کے حالات بہت زیادہ دگر گوں ہو چکے ہوں تو فوج اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کر کے نظام کی بساط لپیٹنے کی مشق دہراتی رہی ہے۔ ملک میں آنے والے تین مارشل لاء تو اسی حقیقت کو آشکار کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ کرنا کہ پہلی بار ایک سابق حکمران اور آمر کو قانون کے شکنجے میں لا کر عبرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اپنے آپ کو خوش فہمی میں رکھنے کی کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں۔ شواہد تو یہی بتا رہے ہیں کہ پرویز مشرف کے گرد تنگ کیا جانے والا گھیرا اب ڈھیلا پڑ رہا ہے۔ انا کی لڑائی میں پرویز مشرف مصلحتاً عدالت میں پیش ہو گئے ہیں۔ اب ممکن ہے وہ جلد جائز اور قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اُن کا عدالت میں پیش ہونا بے معنی نہیں ہے۔

فوج کے امراضِ دل کے ہسپتال میں اُن کے داخلے سے لے کر آج تک بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ گیا ہے۔ سعودی ولی عہد پاکستان سے ہو کر چلے گئے ہیں۔ پرویز مشرف کے وکلاءکو بھی کامیابیاں ملنا شروع ہو گئی ہیں۔ پہلے عدالت اُن کی بات سننے کو تیار نہیں تھی، اب پرویز مشرف کیس میں عدالت نے اُن کا یہ موقف تسلیم کر لیا ہے کہ پہلے عدالت کے اختیارات سماعت کا فیصلہ ہونا چاہئے۔ میرے نزدیک تو یہ کیس پہلے دن سے ہی لایعنی ہے۔ جس ملک میں ہرکوئی پنے جاہ و منصب کے نام پر آئین و قانون کو پامال کرنا اپنا حق سمجھتا ہے، وہاں ایک ایسے سابق آمر کو نشانِ عبرت بنانے کی خواہش، جسے جمہوری حکومت کو ختم کر کے مارشل لاءنافذ کرنے کا ملزم نہیں ٹھہرایا گیا، بلکہ اسے اس ”جرم“ کی پاداش میں غداری کا مرتکب قرار دیا گیا ہے کہ اُس نے اپنے اقتدار کے چھ سال بعد دوبارہ ایمرجنسی کیوں لگائی۔ مَیں سمجھتا ہوں اس قسم کے ٹوٹکوں سے ملک میں آئین و قانون کی عمل داری قائم نہیں ہو سکتی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم آئین کو نہ ماننے والوں کے نرغے میں ہیں۔ طاقتور گروہ ملک کے اقتدار اعلیٰ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ طالبان سے مذاکرات کے بعد یہ عقدہ بھی کھلا ہے کہ آئین کی بہت سی شقوں پر تو شروع دن سے عمل درآمد ہی نہیں ہو رہا۔ یوںلگتا ہے پرویز مشرف کو نشانِ عبرت بنانے کا جوبخار اقتدار میں موجود کچھ لوگوں کو چڑھا ہے، اب حالات کو دیکھتے ہوئے غالباً اُتر رہا ہے۔ یہ اسی شوق کی منزل کا اثر نظر آتا ہے کہ پرویز مشرف بھی پورے جاہ و جلال کے ساتھ عدالت میں پیش ہو گئے ہیں، حالات یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہمارے ہاں مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔

مزید :

کالم -