تھانہ ڈیفنس بی اور تھانہ مصطفےٰ ٹاﺅن کی کارکردگی؟

تھانہ ڈیفنس بی اور تھانہ مصطفےٰ ٹاﺅن کی کارکردگی؟
تھانہ ڈیفنس بی اور تھانہ مصطفےٰ ٹاﺅن کی کارکردگی؟
کیپشن: ch

  

گھر میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔ ہفتہ بھر سے ڈھولک بج رہی تھی، عزیز و اقارب کی آمد و رفت جاری تھی، پھر سہرے والا دن بھی آیا، بارات گئی اور رات دلہن بھی آ گئی۔ ماں، باپ اور بہن کے ساتھ ساتھ قریبی رشتہ دار سب شاد تھے۔ اگلے روز16فروری (اتوار) کو دعوت ولیمہ تھی۔ سبھی لوگ گھر سے سات بجے روانہ ہوئے اور میرج ہال پہنچ گئے، یہ سب خوش، لیکن بے خبر تھے کہ ان کی عدم موجودگی میں ان پر کیا گزری۔ جب دعوت ولیمہ سے فارغ ہو کر گھر پلٹے تو مرکزی دروازہ کھلا پایا، ماتھا ٹھنکا، جلدی سے گھر میں داخل ہوئے تو گراﺅنڈ فلور کے ساتھ ہی پہلی منزل کے دو بیڈ روموں کی الماریوں سے تالے ٹوٹے اور سامان بکھرا پڑا تھا، پڑتال پر معلوم ہوا کہ نئی دلہن کے ساتھ والدہ اور بیٹی کے زیورات سمیت قریباً ساڑھے تین لاکھ روپے نقد، ایک ہزار ڈالر اور پرائز بانڈ غائب تھے ان سب کی مجموعی مالیت ساڑھے 35لاکھ روپے بنی۔ ایک دم ساری خوشیاں دم توڑ گئیں۔ دیکھ بھال سے معلوم ہوا کہ کوئی چور کوٹھی کے پچھلی جانب سے کھڑکی کی جالی کاٹ کر اندر آیا اور واردات کر کے مرکزی دروازے کے راستے فرار ہو گیا، گھر میں لگائے گئے سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں چور دروازے کے قریب گٹھڑی رکھ کر کھیس کو لپیٹتے ہوئے نظر آیا۔

یہ حادثہ ہمارے بھانجے علی مشتاق کے سسرال 171۔ ای۔ ڈیفنس فیز5 میں پیش آیا، برخوردار کے سسر افتخار الحق سمیت سبھی لوگ پریشان ہو گئے، پولیس سے رجوع کرنے کے سوا چارہ کار نہیں تھا۔ تھانہ ڈیفنس۔ بی۔ والے آئے تو فرانزک لیبارٹری کی گاڑی اور سی آئی اے کی ٹیم بھی آئی۔ روایتی طور پر تصاویر دکھائی گئیں اور فنگر پرنٹس لئے، جس کے بعد ایف آئی آر کے اندراج کا مسئلہ پیش آیا تو مدعی کو ملزموں کی طرح سوالات کے جواب دینا پڑے۔ بار بار یہ پوچھا جا رہا تھا کہ اتنی رقم اور زیورات گھر پر کیوں رکھے گئے، عرض کیا گیا کہ بیٹے کی شادی تھی اور اخراجات بھی ہونا تھے، متعدد ادائیگیاں بھی مقصود تھیں جہاں تک پرائز بانڈز کا تعلق ہے تو یہ گھر پر ہی رکھے جاتے ہیں۔ پولیس والے حسب روایت مالیت کم کرانا چاہتے تھے اس کی مصلحت عقل سے باہر ہے۔ بہرحال ایف آئی آر لکھ کر انوسٹی گیشن والوں کے سپرد کر دی گئی اور اب مدعی پریشان حال تھانے کے چکر لگا رہے ہیں۔ ابھی تک کوئی سراغ نہیں پایا گیا۔

اس سے اگلے روز ایک عزیز کی بچی کی رخصتی تھی۔ جب اس شادی سے فارغ ہو کر گھر پہنچے تو گلی میں محلے داروں کو کھڑے پایا، پولیس کی دو تین موبائل بھی تھیں۔ معلوم ہوا کہ ایک ہمسائے کے گھر میں ڈاکہ زنی کی واردات ہو گئی۔ بزرگ سید زادے ہیں اور ان کے صاحبزادے ڈی پی ایس میں ٹیچرہیں۔ قریباً سوا نو بجے عمر فاروق گھر آئے تو اسی وقت لوڈشیڈنگ ہوئی اور اندھیرا چھا گیا۔ انہوں نے مرکزی دروازہ کھولا اور اپنی سوزوکی کار گیراج میں لے گئے وہ کار کھڑی کر کے باہر نکلے ہی تھے کہ پانچ افراد ہاتھوں میں موذر اور ریوالور لئے اندر داخل ہوئے اور انہوں نے مرکزی دروازہ اندر سے بند کر کے اسلحہ تان لیا۔ ایک عمر فاروق کے سر پر مسلط ہوا تو دوسرے نے ان کے والد کو نشانے پر لے لیا اور آواز نکالنے سے منع کیا۔ یہ سب نوجوان تھے، جین پہنے، مُنہ کو رومال سے چھپائے ہوئے تھے۔ دو ڈاکو نیچے رہے اور تین اوپر کی منزل پر چلے گئے، بزرگ نے جو خود بھی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ہیں منت کی اور کہا کہ وہ تنخواہ دار اور ریٹائرڈ لوگ ہیں اُن کے پاس کچھ بھی نہیں۔ ڈاکو بھائی جو لینا چاہتے ہیں لیں اور جاں بخشی کر کے تشریف لے جائیں۔

 ملزموں نے تلاشی لی، عمر فاروق کا لیپ ٹاپ اور ان کی جیبوں اور ایک لٹکی جیکٹ سے نقدی لی۔ جب ان کو اور کچھ نہ ملا تو مایوس بھی ہوئے۔ ان میں سے ایک موبائل کے ذریعے مسلسل کسی سے رابطے میں تھا، جس سے یہ احساس ہو رہا تھا کہ ان کا کوئی ساتھی باہر بھی ہے۔ ہاتھ کی صفائی دکھانے کے بعد ان ملزموں نے بڑے صاحب اور ان کے صاحبزادے کو گھر ہی سے کپڑے لے کر باندھا، مُنہ میں کپڑا ٹھونسا اور بڑے اطمینان سے دروازہ باہر سے بھی بند کر کے چلے گئے یہاں مجموعی طور پر ڈیڑھ پونے دو لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ اس میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان ملزموں نے دونوں باپ بیٹے کے موبائل فون دیکھے ضرور لیکن چھوڑ کر چلے گئے۔ بڑی مشکل سے گھسٹ کر یہ لوگ دروازے کے قریب آئے اور غوں غوں کرتے ٹانگوں سے دروازہ بجاتے رہے۔ لوڈشیڈنگ ختم ہونے کے بعد باہر سے دروازہ کھول کر ان کو آزاد کرایا گیا تو15پر ایمرجنسی کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد ایلیٹ فورس، سی آئی اے اور فرانزک والے بھی آئے اور تھانہ مصطفےٰ ٹاﺅن والوں نے بھی دیدار کرایا تاہم کسی کا متعلقہ ایس ایچ او سے رابطہ نہ ہو پایا کہ وہ فون نہیں اٹھا رہے تھے۔

قارئین! یہ بظاہر دو الگ الگ وارداتیں ہیں، یہاں ذکر اس لئے کیا کہ ان میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ تھانہ ڈیفنس بی اور تھانہ مصطفےٰ ٹاﺅن کے علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل وارداتیں ہو رہی ہیں اور ابھی تک کسی ایک کا سراغ نہیں ملا۔ دوسرے یہ کہ ہر دو تھانوں کے انچارج جب سے آئے تب سے یہ سلسلہ شروع ہے۔ مصطفےٰ ٹاﺅن میں تو ہمارے گھر کے سامنے ہماری ہمسائی کو سہ پہر کے وقت گن پوائنٹ پر لوٹا گیا، وہ تب سے نفسیاتی مریضہ بن کر رہ گئی ہیں اور پیر کی شب ہونے والی واردات نے پورے علاقے کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ محلے داروں نے مظاہرہ بھی کیا تھا۔ تیسری مماثلت یہ ہے کہ 15 پر فون کرنے سے نہ صرف سی آئی اے والے آئے، بلکہ فرانزک والوں کی گاڑی بھی آئی اور حتیٰ الامکان فنگر پرنٹس یا کسی اور سراغ کی کوشش کی گئی، چوتھی مماثلث یہ ہے کہ واردات کے بعد ہر دو مدعی پریشان ہیں اور تفتیش کی گاڑی رکی ہوئی ہے۔

یہ صورت حال تشویش ناک ہے۔ وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف جرائم پر قابو پانے کی صرف تلقین ہی نہیں کر رہے، بلکہ پولیس کو سہولتیں بھی فراہم کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سی سی پی او بڑے مستعد ہیں اور ناکام پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ ایک راز ہے کہ ہر دو تھانوں میں راہزنی، چوری اور ڈ اکوں کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ابھی تک کسی ایک کا بھی سراغ نہیں ملا، لیکن سی سی پی او کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ بھی انہی کو معلوم ہو گا، شہری بوجوہ خوفزدہ ہیں۔ ان کی تسلی کون کرے گا۔ یہ تو صرف اسی طرح ممکن ہے کہ چور اور ڈاکو پکڑے جائیں جو قابو نہیں آ رہے اور اس حوالے سے مختلف کہانیاں مشہور ہو رہی ہیں۔کیا وزیراعلیٰ اور سی سی پی او ان علاقوں کو مثال بنائیں گے؟

مزید :

کالم -