آخر یہ سب کب تک ؟

آخر یہ سب کب تک ؟

  

طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی نے شرط عائد کی ہے کہ طالبان پہلے جنگ بندی کا اعلان کریں، اس کے بعد مذاکرات کئے جائیں گے۔اس کے بغیر بات چیت کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔ یہ فیصلہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں اب تک کے مذاکراتی عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، یہ کہا گیا کہ مہمند ایجنسی اور کراچی کے واقعات نے قیام امن کی کوششوں پر انتہائی منفی اثر ڈالا ہے۔ اب تشدد رکنے پر ہی مذاکرت ہوں گے۔ ہر قسم کی پُر تشدد کارروائیاںغیر مشروط اور فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کر دےا جائے اور اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایاجائے۔ اس ٹھوس اقدام کے بغیر بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکراتی عمل جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ قوم امن کی آرزو مند ہے اور ہم غیر معینہ مدت کے لئے قوم کے اعصاب سے نہیں کھیل سکتے۔ اس کے بعد مذاکراتی ٹیم نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں مذاکراتی عمل کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کمیٹی کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ کمیٹی کے ارکان آپس میں مشاورت جاری رکھیں اور حکومت کی رہنمائی کرتے رہیں۔ کمیٹی کی خدمات ہمیں بدستور حاصل رہیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے نیک نیتی سے مذاکراتی عمل شروع کیا تھا۔ تاکہ ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ مثبت حکومتی کوششوں کا منفی کارروائیوں سے جواب دیا گیا۔ اب حکومت ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کرے گی۔ ادھر وزیراعظم سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی، جس میں ملکی سلامتی، طالبان سے مذاکرات اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ بندی پر تمام طالبان کے گروپوں سے رابطہ ہو چکا ہے۔ جلد کسی بہتر نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ مذاکرات میں سنجیدہ ہیں۔ تمام حلقوں کے ساتھ مشکل کا سامنا نہیں۔ مہمند ایجنسی کے ساتھیوں کی وضاحت اہم ہے۔ شوریٰ نے جائزہ لیا جو گروپ رہ گئے مان جائیں گے۔ مذاکرات کے لئے پرتشدد واقعات کی روک تھام ضروری ہے۔ تحریک انصاف کا ایک اہم اجلاس عمران خان کی زیر صدارت ہوا، جس میں کہا گیا کہ طالبان فوری طور پر غیر مشروط جنگ بندی کریں۔ ایف سی اہلکاروں کی شہادت نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہ امن کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ ایف سی اہلکاروں کی طالبان کے ہاتھوں شہادت کے سلسلے میں حکومت نے اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فضا میں بھی دہشت گردی ختم ہونے کے بجائے جاری ہے پشاور کے قریب فوجی گاڑی پر حملہ میں ایک میجر شہید ہو گیا، جوابی کارروائی میں تین دہشت گرد مارے گئے۔ لدھا میں بھی فائرنگ کا واقعہ ہوا، ہنگو میں پولیس موبائل پر حملہ ہوا۔ سرچ آپریشن میں17افراد گرفتار کر لئے گئے۔ بفہ میں ٹرانسمشن لائن تباہ کردی گئی۔

یہ ساری صورت حال مسائل کے پیچیدہ اور گھمبیر ہونے کی نشاندہی کر رہی ہے۔ زیادہ مسائل قبائلی علاقوں کی طرف سے پیدا ہو رہے ہیں، جہاں افغانستان میں بھارت کے تربیت یافتہ دہشت گرد جمع ہو چکے ہیں۔ طالبان بھی جانتے ہیں اور حکومت کے بھی یہ بات علم میں ہے کہ طالبان کے کئی گروہوں کے پاکستان دشمن طاقتوں سے تعلقات ہیں۔ مذاکرات کے سلسلے میں دونوں طرف سے جیسی بھی سنجیدگی اور نیک نیتی سے کام لیا جا رہا ہو، طالبان کی صفوں میں شامل ایسے لوگ پوری کوشش کر کے مسائل پیدا کرتے رہیں گے۔ ان کے ساتھ ساتھ بعض نامعلوم گروہوں اور خود دشمن کے بھیجے ہوئے افراد بھی ایسی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ اس بات کا صرف امکان ہی نہیں، بلکہ دشمن کی طرف سے ایسا سب کچھ کیا جانا یقینی ہے۔ ایسے عناصر پر حکومت اور طالبان دونوں طرف سے نظر رکھنے کی ضرورت ہے، بلکہ ان کو طالبان کی قیادت قابو کرنے کی زیادہ پوزیشن میں ہے۔ قوم کے تمام مکاتب فکر کے لو گ اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں سے ساتھ ہی ساتھ نمٹنا چاہئے۔ ان کو ان کے کئے کی سزا فوری طور پر ملنی چاہئے۔ ان کی کارروائیوں کے بعد سریع الحرکت فورس فوری طور پر حرکت میں آنی چاہئے۔ ان کے ٹھکانے تباہ کرنے کے بعد چن چن کر ایسے لوگوں کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ یہ درست ہے کہ دہشت گرد عام پُرامن آبادیوں میں بھی چھپے ہوئے ہیں اور ان کے اپنے نو گو ایریاز بھی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں انہوں نے اپنے مضبوط ٹھکانے بنا رکھے ہیںاور سیکیورٹی ایجنسیوں پر گھات سے وار کرنا ان کا معمول ہے، لیکن اگر ابتداءہی سے ایسے لوگوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی اپنائی جاتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ اگر حکومتیں دہشت گردی سے نمٹنے اور اس سلسلے میں دشمن کے عزائم کو سمجھ کر سریع الحرکت فورس تیار کرتیں، دہشت گردی اور تخریب کاری سے ملک کو محفوظ بنانے کے لئے ضروری آلات حاصل کئے جاتے، ان کے مقابلے کے لئے ہر علاقے میں رضاکار فورسز تیار کی جاتیں، تو پھر دشمن کو ہر پہلو سے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا اور ملک ان مسائل سے محفوظ رہتا، لیکن یہ انتظامات نہیں کئے گئے، جس وجہ سے معاملات زیادہ پیچیدہ اور ملک میں دشمن کا نیٹ ورک زیادہ مضبوط ہوتا چلا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے ساتھ بھتہ خوروں، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلرز اور قبضہ گروپوں اور منظم ڈاکوﺅں نے بھی بہت سے مقامات پر سر اٹھا لیا۔ کئی جگہ انتہاءپسند فرقہ بازوں نے اپنے مسلح گروہ تیار کرکے بھتے اور تاوان وصول کرنا اور بالواسطہ اور بلاواسطہ ڈاکہ زنی کو فروغ دینا شروع کیا تو کئی جگہ لسانی اور علاقائی و نسلی بنیادوں پر نفرت کا کھیل کھیلنا شروع کیا گیا۔ حکومتوں کی بے حسی اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی عدم استطاعت کے باعث یہ سب کچھ ایک مہیب عفریت کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا علاج صرف مذاکرات ہی نہیں، اس میدان میں دشمن کا مقابلہ بھی کرنا پڑے گا۔ طالبان اور دوسرے گروہوں سے امن کے لئے معاہد ہ ہوجانے کے بعد بھی دشمن کے پروردہ گروہوں کی طرف سے دہشت گردی کی وارداتیں جاری رہنے کا امکان ہے، جرائم پیشہ گروہ بھی اپنی کارروائیاں بڑے پیمانے پر جاری رکھیں گے۔ طالبان کا امن کی طرف آنا پاکستان کے لئے ایک نیک شگون ہو گا، لیکن ان کی طاقت پاکستان کے لئے استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں ملکی اندرونی سلامتی کے انتظامات بھی کرنا ہوں گے۔

موجودہ سنگین حالات میں پاکستان کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حکومت، سیکیورٹی فورسزاور مختلف ادارے محنت اور جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔ ایک طرف دہشت گردی کے مسائل ہیں۔ دوسری طرف جرائم پیشہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ہیں اور تیسری طرف بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال کے اثرات ہیں کہ جو ناقابل برداشت مہنگائی اور بیروزگاری کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ بجلی کے بحران میں اگرچہ کمی واقع ہورہی ہے، لیکن پٹرول اور ڈیزل کے علاوہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے بھی عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ رشوت اور سرکاری اداروں کی بدعنوانیوں اور عوام دشمن روئیے نے سب کو پریشان کر رکھا ہے۔ ہر کوئی شکوہ برلب ہے۔

 عام آدمی کو شکوہ ہے کہ حکمران ان کے مسائل سے نظریں پھیر کر لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں اور جو موقع انہیں ملا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آئندہ ہمیشہ کے لئے اس ملک پر اپنی اور اپنی نسلوں کو حکمرانوں کے طور پر ٹھونسنے کا انتظام کر رہے ہیں۔ دہشت گردی اور تخریب کاری کے لئے دشمن ہمارے ملک سے ایک بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو بھرتی کر کے تربیت کے بعد ہر طرح کے ہتھیاروں سے مسلح کر چکا ہے۔ قبائلی علاقوں کے لوگوں میں پاکستان کے خلاف نفرت بھری جا چکی ہے۔ حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ہر طرح کی کوششوں کے باوجود ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں اور دفاعی تنصیبات پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ اب طالبان کی طرف سے اپنے مختلف گروہوں سے بات کرنے اور مکمل جنگ بندی کی یقین دہانی کے باوجود کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے، دشمن کا مقصد ہمارے معاشرے میں بدنظمی، بے دلی، نفرت اور بے یقینی و افراتفری پیدا کئے رکھنا ہے۔ یہ کام امن و استحکام قائم کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے، جس طرح کے حالات ملک میں اب تک پیدا کردیئے گئے ہیں، جس طرح مختلف گروہوں میں مختلف بہانوں سے حکومت اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف نفرت بھر دی گئی ہے اسے دور ہونے اور بگڑے ہوئے لوگوں کے حقائق کو سمجھ کر معقول رویہ اختیار کرنے میں بھی کافی وقت لگے گا۔

ساری صورت حال پر قابو پانے او رمختلف گروہوں کو راہ راست پر لانے کے لئے مذاکرات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن حکومت کو ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی حاصل کرنا ہو گی۔ صرف فوجی آپریشن ہی دوسرا آپشن نہیں ہونا چاہئے۔ آخر حکومتی سیاسی جماعتیں جو اپنے پاپولر ہونے کے دعوے کرتی تھکتی نہیں ان کی پاپولر سپورٹ کہاں ہے؟ ان کی طرف سے عوام کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف متحد و متحرک کرنے اور اس جنگ سے سرخرو ہونے کے لئے عوام میں شعور پیدا کرنے ملک کے ہر حصے میں مقامی رضاکار تیار کرنے کا کام کیوں نہیں شروع کیا جاتا؟ملک کے تمام علاقوںکے لوگوں میں بھائی چارہ اور اخوت کے جذبات پیدا کرنے کے لئے بڑی سطح پرتحریک شروع کیوں نہیں ہوتی؟ سیاسی جماعتوں کی وہ قیادت کہاں ہے، جو عوام کی صحیح رہنمائی اور عوامی جوش و جذبہ اور حب الوطنی کے جذبات کو ابھار کر ہر بڑی سے بڑی مصیبت سے قوم کو نکال سکتی ہے؟ قوم حکومت کی طرف سے حکومتوں والی ذمہ داریاں پورا ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔ یک طرفہ طور پر عوام کو دہشت گردوں کے سپرد کئے رکھنا اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے اِکا دُکا کارروائیوں کے بعد پھر سے دوسری انسانیت سوز کارروائیوں کا انتظار کرنا کیسی حکومت کاری ہے؟ ملکی معاملات حکومتی بیانات اور روائتی اظہار تشویش سے بہت آگے جا چکے ہیں۔ عوام کا صبر اور حوصلہ جواب دے رہا ہے، ہر جگہ ملک کے نوجوان اور دانشور کسی بڑی تبدیلی کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ حالات ایسے ہی رہتے ہیں تو پھر کسی کو پُرامن ذرائع سے اپنے مسائل کا حل نظر نہیں آئے گا۔ ملک کے جو حصے اور طبقات آج تک امن اور انصاف کی راہ تک رہے ہیں ان کی طرف سے بھی جلد کسی بڑے رد عمل کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ”سب اچھا ہے یا سب اچھا ہو جائے گا“ کے راگ الاپنے والوں کو اب اس سے آگے بھی قوم کو کچھ دینا ہو گا۔ اسی میں ان کی اور ہم سب کی عافیت ہے۔

مزید :

اداریہ -