پاکستانی تاجر عجمان فری زون میں سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائیں: علی حسین فہمی

پاکستانی تاجر عجمان فری زون میں سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائیں: علی حسین فہمی

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستانی سرمایہ کاروں کو عجمان فری زون میں سرمایہ کاری کرکے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں موجود وسیع کاروباری مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ عجمان فری زون میں اس وقت 1800سے زائد پاکستانی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیںجبکہ دنیابھر کی 9000سے زائد کمپنیاں عجمان فری زون میں رجسٹرڈ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار عجمان فری زون اتھارٹی کے ہیڈ آف کسٹمر سروس علی حسین فہمی نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔علی فہمی نے بتایاکہ عجمان فری زون کا 2رکنی وفد پاکستانی سرمایہ کاروں سے جمعرات 20فروری کو مقامی ہوٹل میں منعقد کئے گئے سیمینار میں ملاقات کرے گا اور انہیں عجمان فری زون میں موجود کاروباری مواقعوں اور مختلف طرح کے کاروبار شروع کرنے کیلئے موجود آپشنز پر تفصیلی بریفنگ دے گا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل عجمان محمود الہاشمی نے کہاکہ پاکستان عجمان فری زون اتھارٹی کیلئے نہایت اہم ملک ہے ۔ ہم پاکستانی بزنس کمیونٹی کے ساتھ کاروباری تعلقات مضبوط بنانے اور تجارت کوفروغ دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس روڈ شوکا مقصد ان پاکستانی کاروباری طبقے،انٹر پرینیورز اور سرمایہ کاروںکو قائل کرنا ہے جو بین الاقوامی سطح خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں اپنے کاروبار کو توسیع دینا چاہتے ہیں ۔ ہیڈ آف کسٹمر سروس عجمان علی حسین فہمی نے کہاکہ متحد عرب امارات ایکسپو 2020 کی میزبانی کرے گا۔ جس میں 2کروڑ سے زائد لوگوں کی آمد متوقع ہے۔ایکسپو 2020میں انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ ، سرمایہ کاری ،کاروبار اور روزگارکے وسیع مواقع موجود ہوں گے اور پاکستان متحدہ عرب امارات اور مشرقِ وسطیٰ میں اقتصادی سرگرمیوں کا بہتر انداز میں فائدہ اٹھا سکے گا۔ انہوں نے کہاکہ دنیابھر سے سرمایہ کار عجمان فری زون کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے کاروبار کو توسیع دے رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی مینوفیکچررز اور ٹریڈرز سے کہاکہ وہ عجمان فری زون میں سرمایہ کاری کر کے اپنی علاقائی موجودگی قائم کریں اورمشرقِ وسطیٰ میں موجودکاروباری مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کے سرمایہ کاروں کو انرجی کی مستقل فراہمی، ورک فورس کی باآسانی دستیابی ، تمام برآمدات اور درآمدات ڈیوٹیوںسے استثنیٰ، کسی قسم کے سروس چارجز نہ ہونا اور کسٹم آپریشن ایسی مراعات ہیں جو عجمان کو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کےلئے اوّلین ترجیح بناتی ہےں۔ علی فہمی نے کہا کہ پوری دنیا سے سرمایہ کاروں کو دعوت دینے کیلئے کاروبار شروع کرنے کے مراحل کو نہایت آسان بنایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عجمان میں 100فیصد ملکیت، منافع کی 100فیصد اپنے ملک منتقلی اور کسی قسم کے انکم ٹیکس کا نہ ہونا بین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے عجمان میں سرمایہ کاری کرنے کے فوائد میں سے شامل ہیں۔عجمان ہر طرح کے کاروبار کر نے والے سرمایہ کاروں کیلئے مختلف طرح کے لائسنس جاری کرتا ہے۔ ٹریڈنگ لائسنس برائے درآمدات و برآمدات، سروس لائسنس، انڈسٹریل لائسنس اور نیشنل انڈسٹریل لائسنس ان میں شامل ہیں۔ عجمان میں کاروبارکا آغاز کر نے والے سرمایہ کاروں کیلئے اسمارٹ آفس، بڑے آفس، وئیرہاﺅس اور زمین جیسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ علی حسین فہمی نے بتایا کہ انڈسٹریل مقاصد کیلئے زمین حاصل کر کے سرمایہ کار اپنی ضروریات کے مطابق کاروبار کا آغاز کر سکتے ہیں۔ زمین 20سال کیلئے لیز پر فراہم کی جاتی ہے جو کہ 20سال کے اختتام پر مزید 20سال کیلئے بڑھادی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈسٹریل مقاصد کیلئے سرمایہ کاری کر نے والے سرمایہ کار ٹیکس اور کسٹم فری مراعات سے فائداہ اٹھاسکتے ہیں۔

مزید :

کامرس -