ایمنسٹی سکیم کامقصد ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرناہے: اعجاز اسدرسول

ایمنسٹی سکیم کامقصد ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرناہے: اعجاز اسدرسول

  

لاہور(کامرس رپورٹر) ایف بی آر کے کمشنر ان لینڈ ریونیو اعجاز اسد رسول نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے ایمنسٹی سکیم کے اجراءکا مقصد محاصل بڑھانا ، ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور اُن لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے جو گذشتہ دس سالوں سے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ وہ لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر کاشف انور نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ سابق صدر میاں انجم نثار، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین ظفر محمود، ناصر حمید، میاں زاہد جاوید، محمد افضل اور ابرار احمد نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ اعجاز اسد رسول نے کہا کہ سکیم کا مقصد ٹیکس چوری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہرگز نہیں بلکہ اس کا مقصد ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہے ، قوی امید ہے کہ اس سکیم کے بہت اچھے نتائج برآمد ہونگے کیونکہ یہ معیشت کی بحالی کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے نائب صدر کاشف انور نے وزیراعظم کی ایمنسٹی سکیم کی کامیابی کے لیے بہت سی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی سستی توانائی کی دستیابی، انڈورانوائسنگ و سمگلنگ کے خاتمے، ٹیکس اصلاحات، ٹیکسوں کے نظام کی آسانی اور زراعت سمیت مزید شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے کیونکہ 90فیصد سے زائد محاصل اسی سے حاصل ہوتے ہیں لہذا اسے سہولیات دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اگر کوئی شخص انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہے مگر سیلز ٹیکس میں نہیں تو اسے سیلز ٹیکں میں رجسٹرڈ ہونے کے لیے تمام کاروائیاں نئے سرے سے پوری کرنی پڑتی ہیں لہذا اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

 کاشف انور نے انکم ٹیکس سرکلر 15,2013 کی شق 9 اورانکم ٹیکس آرڈیننس 2001کے سیکشن 122(5)اور 122(5A)کے تحت کمشنر کو دئیے گئے اختیارات پر تشویش کااظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا بنیادی مقصد صرف ٹیکسوں کی وصولی نہیں بلکہ تاجروں کی رہنمائی اور سہولیات کی فراہمی ہونا چاہیے تاکہ کاروبار دوست ماحول پیدا کیا جاسکے۔ ٹیکسوں کا نظام بہت پیچیدہ اور ناقابلِ فہم ہے جسے آسان بنانا اور ٹیکسوں کی شرح کم کرنا ضروری ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان کو نچوڑنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ نجی شعبہ ٹیکس ادا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن جواباً اسے سہولیات دی جائیں اور صنعت و تجارت سے متعلق پالیسیوں پر اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے اور چھوٹے کاروباری شعبوں کے درمیان امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے کیونکہ اس سے کاروباری حالات خراب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر بڑے شعبوں کو ایس آراوز کے ذریعے آسانی فراہم کردی جاتی ہے جبکہ چھوٹے کاروباری شعبے کو ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکس یا ڈیوٹی متعارف کراتے ہوئے اس کا اطلاق تمام شعبوں پر یکساں کیا جائے۔ حکومت ٹیکس نیٹ سے باہر شعبو ںکو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے سہولیات کا اعلان کرے جس سے موجودہ ٹیکس دہندگان پر دباﺅ کم ہوگا۔ کاشف انور نے کہا کہ حکومت غیرملکی سرمایہ کاروں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے لیکن اس کے ساتھ مقامی سرمایہ کاروں کو بھی مراعات دینا ضروری ہے کیونکہ مقامی سرمایہ کاری بھی تشویشناک کمی واقع ہورہی ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ انڈرانوائسنگ اور سمگلنگ کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے فول پروف منصوبہ بندی کرے کیونکہ اس سے مقامی صنعتوں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

مزید :

کامرس -