جدید تحقیق وٹیکنالوجی کے بغیر دکھی انسانیت کی مو¿ثر خدمت ممکن نہیں‘ پروفیسر ظفراللہ

جدید تحقیق وٹیکنالوجی کے بغیر دکھی انسانیت کی مو¿ثر خدمت ممکن نہیں‘ ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر)کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کے صدر پروفیسر ظفراللہ چودھری نے کہا ہے کہ میڈیکل کے شعبے میں مسلسل پیشہ وارانہ ترقی کیلئے کوششیں اور محنت کے ذریعے اعلیٰ معیار کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ علاج ومعالجہ کی جدید تحقیق وٹیکنالوجی اور طریقہ کار سے آشناءہوئے بغیر دکھی انسانیت کی مو¿ثر خدمت ممکن نہیں۔ سی پی ایس پی اورپی جی ایم آئی مل کر مستقبل کے ڈاکٹروں کے نالج کو اپ ڈیٹ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور پی جی ایم آئی کو منفرد مقام دلانے میں موجودہ پرنسپل پروفیسر انجم حبیب وہرہ کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام لاہور جنرل ہسپتال میں سائنٹفک سمپوزیم باعنوان ”Quality assurance by continuous professsional development “ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا بعدازاں انہوں نے ہیلتھ سے متعلق جدید ریسرچ اور ٹیکنالوجی پر مبنی پوسٹر کی نمائش بھی دیکھی۔ سمپوزیم کے پہلے سیشن سے پرنسپل پروفیسر انجم حبیب وہرہ‘ پروفیسر خالد مسعود گوندل ‘ پروفیسر آغا شبیر علی‘ پروفیسر غیاث النبی طیب‘ پروفیسر اسرار احمد‘ پروفیسر سید اصغر نقی‘پروفیسر احمد سلمان وارث ‘ پروفیسر خالد محمود اور پروفیسر محمد اسلم نے بھی خطاب کیا۔

ا س موقع پر پی جی ایم آئی کے سابق ڈینز ‘ فیکلٹی ممبران اور ملک بھر سے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروفیسر ظفراللہ چودھری نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس سمپوزیم کا ماٹو ہی اعلیٰ معیار کی ضمانت کے لیے مسلسل پیشہ ورانہ ترقی ہے انہوں نے کہا کہ اس ماٹو کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے صحت کے شعبہ سے منسلک تمام افراد کو انتہائی محنت اور پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ تعلیم وتحقیق پر بھر پور توجہ دینا ہوگی اور ڈاکٹروں کی جدید خطوط پر تربیت ہی معیار کی کسوٹی پر انہیں پورا اتار سکتی ہے۔پروفیسر خالد مسعود گوندل نے ڈاکٹروں کی میڈیکل کے شعبے میں جدید تربیت نے سی پی ایس پی کے کردار اور خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پی جی ایم آئی بھی گزشتہ چار دہائیوں سے ڈاکٹروں کی اعلیٰ تعلیم وتربیت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سائنٹیفک سمپوزیم کا انعقاد دور حاضر کی اہم ضرورت ہے جس سے نوجوان ڈاکٹروں کے علم اور پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ ہوگا۔ قبل ازیں افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر انجم حبیب وہرہ نے کہا کہ دنیا میں سائنس و ٹیکنالوجی کے انقلاب میں طب کے شعبہ کو بھی متاثر کئے بغیر نہیں چھوڑا اور آج میڈیکل کے شعبہ میں ہونے والی جدید ترقی بھی اسی ٹیکنالوجی کی ہی مہرون منت ہے جس کے ذریعے پیچیدہ ترین آپریشن اور تشخیصی ٹیسٹ باآسانی ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ اس جدید ٹیکنالوجی سے اپنے آپ کو روشناس کرانے کے لیے زیادہ محنت اور لگن کے ساتھ تحقیقی کاموں میں حصہ لیں تاکہ وہ میڈیکل کے شعبے میں ہونے والی جدید انقلابی تبدیلوں اور نئے نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر سکیں نامور طبی ماہرین اور پروفیسر صاحبان ہر سیشن میں ڈاکومینٹریز ‘ لیکچرز اور مقالہ جات کے ذریعے اپنے تجربات بیان کر رہے ہیں۔ سائنیٹفک سمپوزیم آج جمعرات کو اختتام پذیر ہوگا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -