سینکڑوں شہادتوں کے بعد بالآخروزیر اعظم نواز شریف کی مشاورت سے فاٹا میں شرپسندوں کیخلاف کارروائی شروع، لڑاکاطیاروں کی بمباری سے تاجک کمانڈر سمیت درجنوں ہلاک ،بارودبنانیوالی فیکٹری بھی تباہ

سینکڑوں شہادتوں کے بعد بالآخروزیر اعظم نواز شریف کی مشاورت سے فاٹا میں ...

طالبان شوریٰ کا مذاکراتی پیغام بھی حکومت کو موصول ، دہشتگردی کی روک تھام کی یقین دہانی ہونی چاہیے : حکومت ، گورنرخیبرپختونخواہ سے نقل مکانی کی صورت میں رہائش بارے مشاورت

Air Strike in Waziristan
کیپشن: Jet Plane Shelling

  

میرانشاہ، اسلام آباد، راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف کی مشاورت سے شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ میں سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف بالآخرکارروائی شروع کردی ہے اور بدھ کی رات تحصیل میرعلی کے مختلف علاقوں میں لڑاکاطیاروں کی مختلف شدت پسندکمانڈروں کے مراکزپر بمباری تاجک کمانڈر سمیت 35شرپسندمارے گئے تاہم طالبان کمانڈر جہادیار کے بچ جانے کی اطلاعات ہیں ۔خیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ میں خفیہ اطلاعات پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر تین حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں بارود بنانے والی فیکٹری تباہ اور بڑی تعداد میں شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے تاہم حتمی تعداد معلوم نہیں ہوسکی ۔سیکیورٹی حکام کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اب تک مختلف کارروائیوں میں 114فوجیوں سمیت 460افراد شہید ہوچکے ہیں ۔ حکومت نے اپنی کمیٹی کو ہدایت کی کہ جو گروپ مذاکرات کرناچاہتے ہیں ،ا ُن کے ساتھ معاملات آگے بڑھائیں جبکہ طالبان شوریٰ کی طرف سے مذاکرات کیلئے سنجیدگی کے اظہار کے پیغام کے جواب میں حکومت نے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی کمیٹی سے رابطہ کریں، دہشتگردی کی کارروائیوں کی بندش کی یقین دہانی ہونی چاہیے جبکہ گورنرخیبرپختونخواہ سے آپریشن کی صورت میں رہائش کے بارے میں بھی مشاورت کرلی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق لڑاکاطیاروں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں چھ مقامات پر بمباری کی جہاں ازبک ، ترکمان ، تاجک اور تحریک طالبان کے مراکز تھے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق پہلا حملہ کمانڈر عبدالستار کے ٹھکانے پر کیاگیاجہاں موجودبارود کا ذخیرہ تباہ ہوگیاجبکہ وہاں 9شدت پسند مارے گئے تاہم کمانڈرعبدالستار کی موت کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔ دوسرا اور تیسراحملہ ازبک اور ترکمان کمانڈر کے مراکز پر کیاگیاجس کے نتیجے میں خود کش جیکٹس اور بارودی گاڑیاں بنانے والے ماہرسمیت 11شرپسندمارے گئے ۔چوتھاحملہ تاجک کمانڈرطارقی کے مرکز پر کیاگیاجس میں وہ ساتھیوں سمیت ماراگیا۔ پانچواں حملہ تحریک طالبان کے کمانڈر جہادیار کے مرکز پر کیاگیاجس کے نتیجے میں مرکز تباہ اور 15شرپسند مارے گئے تاہم وہاں عدم موجودگی کی وجہ سے جہاد یار کے بچ جانے کی اطلاعات ہیں ۔ چھٹاحملہ طالبان کمانڈر عبدالرزاق کے ٹھکانے پر کیاگیاجن کی موت کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔ بتایاگیاہے کہ شدت پسندوں نے علی الصبح اپنے ساتھیوں کی لاشیں نکال لی ہیں تاہم متاثرہ علاقوں حصوخیل ، حیدرخیل ، ایدک ، شول اور خوشحالی میں دیگرلوگوں کی رسائی نہیں جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی ۔اُدھر خیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ میں تین مختلف مقامات پر بھی سیکیورٹی فورسز نے فضائی حملہ کیاجس کے نتیجے میں دیشی ساختہ بم ، بارودی سرنگیں بنانے والی فیکٹری اور بڑی تعداد میں تیار بارودی مواد تباہ ہوگیا۔عسکری ذرائع کے مطابق یہ حملے خفیہ اطلاع پر باڑہ میں خفیہ ٹھکانوں پر کیے گئے جہاں پشاورسینماگھروں میں دھماکے اور ایف آر پشاور میں میجر جہانزیب کو شہید کرنیوالے شرپسندچھپے ہوئے تھے ۔ذرائع نے بتایاکہ بڑی تعداد میں شرپسندوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں تاہم ابھی تک تفصیلات موصول نہیں ہوسکیں ۔سرکاری ذرائع کے مطابق لڑاکاطیاروں نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایااور کسی قسم کا اجتماعی نقصان نہیں ہوا۔جیونیوز کے مطابق یہ حملے وزیراعظم نواز شریف اور عسکری قیادت کے درمیان گذشتہ تین روز میں ہونیوالی مشاورت کے بعد کیاگیاجبکہ حکومت نے مذاکراتی کمیٹی کوہدایت کی ہے کہ جو گروپ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں اور مذاکرات کرناچاہتے ہیں تو اُن سے فوری رابطہ کرکے معاملات حل کریں ۔ دوسری طرف آل پارٹیز کانفرنس کے بعد سے اب تک 114فوجی اہلکاروں سمیت 460افراد دہشتگردی کی کارروائیوں میں زندگی گنواچکے ہیں ۔سیکیورٹی حکام کے مطابق اے پی سی کے بعد ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں اب تک مجموعی طورپر460 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں308 شہری،114 فوجی اور38 پولیس اہلکار شامل ہیں جبکہ1264 افراد زخمی ہوچکے ہیں ۔اُدھر طالبان شوریٰ نے وزیرستان سے حکومت کو پیغام بھجوایاہے کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں اور مزید چھ گروپ مذاکرات کے لیے آمادہ ہوگئے ہیں جس پر حکومت نے کہاکہ اگر وہ مذاکراتی عمل کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو اپنی کمیٹی سے رابطہ کریں ، دہشتگردی کے واقعات کی بندش کی یقین دہانی ہونی چاہیے ، بات چیت براہ راست نہیں ، کمیٹی کے ذریعے ہوگی ، بات چیت کے ذریعے سنجیدہ قوتوں سے مذاکرات ہوں گے ۔دوسری طرف جنوبی اور شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف ممکنہ آپریشن کی صورت میں ان علاقوں سے ہزاروں افراد کی نقل مکانی کرنے پر ان کو رہائش سمیت دیگر سہولتوں کی فراہمی کےلئے گورنر ہاﺅس پشاور میں بدھ کو بھی اعلیٰ سطحی صلاح مشورے جاری رہے ، گورنرخیبرپختونخوا ہ انجینئرشوکت اللہ سے ریاستوں اورسرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے بدھ کو ملاقات کی اورفاٹا کے معامات پر انتہائی اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہوا جس میں فاٹا میں امن وامان کی صورتحال اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ آئی ڈی پیز کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹاارباب محمدعارف نے بریفنگ دی ، اجلاس میں سیکرٹری لاءاینڈآرڈرفاٹا ڈاکٹرجمال ناصر،سیکرٹری فنانس فاٹا وقا رالحسن ، سیکرٹری اے ،آئی اینڈ سی فاٹا،ڈی جی ایف ڈی ایم اے ،چیف اکنامسٹ پی اینڈ ڈی فاٹا اوردیگرمتعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں وفاقی وزیر کو صدرمملکت اور وزیراعظم کے اعلان کردہ فاٹاکے طلباءکیلئے مختص کردہ سکالرشپس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ آئی ڈی پیز کودرپیش مسائل کے علاوہ فاٹاکی مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ وفاقی وزیرکو بتایاگیاکہ فاٹا کے مخصوص حالات کے پیش نظر ایف ڈی اےم اے کا کردار زیادہ اہمیت کاحامل ہے جسے مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی وقت نامساعد حالات کامقابلہ کیاجاسکے۔وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے فاٹا کے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پرحل کرنے کیلئے وفاق کی جانب سے یقین دہانی کرائی اور کہاکہ فاٹا کی ترقی اور استحکام کیلئے حکومت تمام تردرکار سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے۔

مزید :

وزیرستان -اہم خبریں -