اسلام آباد محفوظ ہے، حکومت نے ستمبر سے اب تک کوئی فوجی کارروائی نہیں کی تو جنگ بندی کیا کرے؟: چوہدری نثار

اسلام آباد محفوظ ہے، حکومت نے ستمبر سے اب تک کوئی فوجی کارروائی نہیں کی تو ...

سیکیورٹی فورسز سے دفاع کا حق نہیں چھین سکتے، پچھلے 24 گھنٹوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دفاع میں کیا ہے: وزیر داخلہ

اسلام آباد محفوظ ہے، دہشت گردی کا مقابلہ ناکے لگا کر نہیں کیا جا سکتا: چوہدری نثار
کیپشن: Ch Nisar

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد ایک محفوظ شہر ہے، کراچی، بلوچستان، فاٹا اور خیبرپختونخواہ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے، مذاکرات مذاکرات میں تعطل ہے، کمیٹی اپنی جگہ قائم ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ پوری ذمہ داری سے کہنا چاہتے ہیں کہ اسلام آباد محفوظ شہر ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک کو درپیش خطرات بھی کم ہوں تاہم کراچی، فاٹا اور کوئٹہ میں دہشت گردی جاری رہنے تک خطرہ برقرار رہے گا جبکہ اسمبلی میں وزارت داخلہ کی بریفنگ عمومی تھی۔ چوہدری نثار نے کہا کہ پچھلے چند مہینوں میں ملک کو درپیش دھمکیوں میں کمی آئی ہے اور اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ پورے ملک کو محفوظ بنایا جائے۔ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ ناکے لگا کر نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کا مقابلہ ٹیکنیکلی کرنا ہو گا، اپنی سیکیورٹی فورسز کو جدید ہتھیاروں سے لیس کر رہے ہیں اور پویس کو مزید گاڑیاں دی جا رہی ہیں جبکہ چین سے درآمد سامان بھی جلد پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے ہزاروں کی تعداد میں کراچی سے دہشت گرد اور جرائم پیشہ افراد گرفتار کئے ہیں جبکہ کوئٹہ میں بھی پولیس ناکوں میں کمی آئی ہے، اسلام آباد میں دہشت گردی کا خطرہ کم ہے لیکن یہ اور بھی کم ہونا چاہئے، بارہ کہو واقعہ کے تانے بانے وزیرستان سے ملتے تھے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اسلام آباد کو محفوظ شہر بنانے کیلئے سیف سٹی پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں، شہر کی نگرانی کیلئے 1500 خفیہ کیمرے لگائے جائیں گے۔ طالبان سے مذاکرات کے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کا عمل پورے خلوص کے ساتھ آگے بڑھایا، ستمبر سے لے کر اب تک کوئی فوجی کارروائی نہیں کی تو کس طرح کی جنگ بندی کریں؟ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کی، طعنے دینے والوں نے دہشت گردوں کے خلاف اپنے دور میں فوجی آپریشن کیوں نہیں کیا، طالبان کی طرف سے نامزد ارکان کا کردار بہت مثبت تھا لیکن مذاکرات تبھی آگے بڑھ سکتے ہیں جب آگ اور خون کی ہولی کو روکا جائے،اس ماحول میں مذاکرت کو آگے بڑھانا زیادتی ہو گی۔ چوہدری نثار نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے عسکری قیادت کے مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ اب مذاکرات کو آگے بڑھانا زیادتی ہوگی اور اس ضمن میں تقریر بھی تیار کر لی گئی تھی مگر ایک مرتبہ پھر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس خلوص کے بدلے کچھ مخصوص گروہوں نے ہماری فوج، سیکیورٹی اداروں اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا، دو قدم آگے بڑھتے تھے تو دہشت گردی چار قدم پیچھے لے جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسی پر شک نہیں ہونا چاہئے، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھرپور دفاع کا اختیار رکھتی ہیں اور پچھلے 24 گھنٹوں میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ دفاع کیلئے ہو رہا ہے کیونکہ سیکیورٹی ایجنسیوں سے اپنے دفاع کا حق نہیں چھین سکتے۔

مزید :

اسلام آباد -Headlines -