قوم کی ایک عظیم ماں کی آخری نصیحت

قوم کی ایک عظیم ماں کی آخری نصیحت
قوم کی ایک عظیم ماں کی آخری نصیحت

  

پاکستانی قوم کی ایک عظیم ماں اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے سپوتوں کو آخری نصیحت فرماتے ہوئے پیغام دیتی ہے کہ ’’آپس میں مت لڑنا، محنت سے کام کرنا، صبر سے کام لینا اور اپنے وطن کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا!!‘‘۔۔۔یہ الفاظ ہیں ایک عظیم ماں کی اس نصیحت کے جو گزشتہ دنوں سر زمین پاک کی خاک میں ابدی نیند سوگئیں! خبر تو آپ نے بھی پڑھی ہو گی، اور شاید اس عظیم ماں ،عظیم فرزند کی وہ تصویر بھی اخبارات میں دیکھی ہو گی جس میں وہ اپنی بہشتی والدہ ماجدہ کے جنازے کو کندھا دے رہے ہیں، مگر ان کے چہرے پر ایک سکون اور اطمینان ہے جو رعب اور ہیبت سے بھی لبریز ہے! شاید وہ یہی سمجھ رہے ہوں گے کہ میری عظیم ماں اپنے فرض سے پوری طرح سبکدوش ہو کر دنیا سے جا رہی ہے! ایسی ماں کا تو جنت میں بھی انتظار ہو رہا ہوگا۔ایسی مائیں ہمیشہ اپنے سپوتوں کے کارناموں سے زندہ رہتی ہیں، دنیا ان کی سرا پا ستائش رہتی ہے، قوموں کے دل ان کے احترام، عظمت اور یادوں سے ہمیشہ آباد رہتے ہیں! ایسی مائیں زندہ جاوید عبرت کا حکم رکھتی ہیں!

جی! یہ بات ہے ہمارے ہر دلعزیز اور محب وطن سپہ سالار کی جو سرزمین وطن کو شرپسندوں اور انسانیت دشمنوں سے پاک کرنے کے عزم بالجزم کے ساتھ معرکہ کار زار میں شیر کے دل اور چیتے کی سی لپک کے ساتھ اترے ہوئے ہیں! یہ الفاظ تھے ان کی بہادر ماں کے جو اپنے عظیم فرزند جنرل راحیل شریف کے توسط سے پوری قوم کے فرزندوں کو سبق دے رہی تھیں اپنی آخری نصیحت میں، جو انہوں نے وفات سے پہلے فرمائی!

اسی خبر میں جب مَیں نے یہ پڑھا کہ یہ بہادر ماں نہ صرف یہ کہ ہمارے دلیر اور ہر دلعزیز سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی والدہ ہیں، بلکہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں دشمن فوج کے دستوں کو ناکام اور نامراد بنا کر جہنم واصل کرنے والے میجر شبیر شریف نشان حیدر سے سرخرو ہونے والے شہید کی والدہ بھی ہیں! یہی نہیں بلکہ یہ تو 1965ء کی تاریخ ساز پاک بھارت جنگ میں میرے لاہور پر قبضے کی ناپاک آرزو کرنے والے دشمن کا منہ پھیر دینے والے میجر عزیز بھٹی نشان حیدر کی بہن بھی ہیں۔ وہی عزیز بھٹی شہید جس نے بھارت کے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل چودھری کی اس ناپاک آرزو کو خاک میں ملا دیا کہ لاہور فتح کرنے کے بعد لاہور جم خانہ میں اس صبح کا ناشتہ کرے گا! میں خود بھی اس صبح کو لاہور میں موجود تھا، ہم پنجاب یونیورسٹی کے نوجوان اساتذہ اور طلبہ عزیز بھٹی شہید کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے تمام دن نعرے لگاتے رہے تھے اور سرحدی محافظوں کو تحفے بھیجنے کے لئے لاہوریوں کو جوش دلاتے رہے تھے!!

اب جب بھی 1965ء کی جنگ ستمبر کی یاد منائی جاتی ہے تو میرا دل خوشی اور فخر سے جھومنے لگتا ہے! اب بھی اس بہادر ماں کی یہ نصیحت پڑھ کر میرا دل چاہتا تھا کہ اپنے محسن شہیدوں کی ماں اور بہن جو ہم کروڑوں پاکستانیوں کی بھی ماں اور بہن ہیں، ان کی لحد پر عقیدت و تحسین کے کچھ پھول سجا دوں، کیونکہ مجھے اب یہ یقین اور اطمینان بھی ہو گیا ہے کہ پاکستان کے اس محسن گھرانے کا چشم و چراغ ہمارا سپہ سالار اپنے آپریشن ضرب عضب میں ضرور کامیاب و سرخرو ہو گا، بلکہ وطن پاک کو بھی اس فاسد مواد سے پاک کر کے دم لے گا جو اجرتی قاتلوں اور دہشت گردوں کے روپ میں ہمارے پاک وطن کو نقصان پہنچا کر ہمارے دشمنوں کو خوش کر رہا ہے!

اس بہادر ماں کی یہ نصیحت مجھے قرن اولیٰ کی ان مقدس ماؤں کی بھی یاد دلا رہی ہے جو جنگ میں شہید ہونے والے اپنے جگر کے ٹکڑوں کی شہادت کی خبر سن کر سجدہ شکر میں گر جاتی تھیں اور صرف یہ جاننے کے لئے بے قرار رہتی تھیں کہ کیا ان کے جگر گوشے بہادری سے لڑے؟ میدان میں پیٹھ تو نہیں دکھائی! بلکہ میرے خیال میں تو اس نصیحت کے اصل محتاج تو ہمارے قومی لیڈر ہیں! انہیں بھی چاہئے کہ اس نازک گھڑی میں اپنے تمام اختلافات بھول کر صبر سے کام لیتے ہوئے محنت کریں اور وطن کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں! اللہ تعالیٰ توفیق دے! آمین!

مزید :

کالم -