سیاسی اجارہ داریاں

سیاسی اجارہ داریاں
 سیاسی اجارہ داریاں

  

اس محرر نے حالیہ دِنوں میں آرمی، سپریم کورٹ اور نیب کے سربراہوں کے ان بیانات کو بہت دلچسپی سے پڑھا ہے ، جن میں انہوں نے مُلک کو درپیش بنیادی مسائل کی نہ صرف نشاندہی کی ہے، بلکہ ان کے حل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان مسائل میں سرفہرست یقیناًدہشت گردی اور کرپشن کی جلی اور خفی مختلف صورتیں ہیں، مُلک کو تباہی کی طرف لے جانے والے حالات پر جو دانشور اور تجزیہ نگار جلتے کڑھتے ہیں اُنہیں زیادہ تر انہی تین اداروں میں امید کی کرن نظر آتی ہے۔ یہی وہ ادارے ہیں، جو عمومی طور پر انتظامیہ کی مرضی کے تابع نہیں رہتے، اِس لئے ان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر کاریگر لوگ ان کے پَر کٹ کر انہیں غیر موثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک فعال میڈیا کی موجودگی کے باوجود ایسی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ ایسا کیوں ہو گا یا ایسا کیوں ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب میرے اس اظہاریے کے آئندہ حصے میں مل جائے گا، جو میرا آج کا اصل موضوع ہے۔ دہشت گردی اور کرپشن پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے، جس میں مَیں نے بھی کچھ حصہ ڈالا ہے۔ آج مَیں اس میں کچھ اضافے کی بجائے ’’اجارہ داری‘‘ کے فیکٹر پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں جو ان مسائل کے پُرخلوص، دیانت دارانہ اور شفاف حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مجھے یہ تسلیم ہے کہ تمام مسائل کی جڑ کرپشن ہے، لیکن مُلک کی جڑوں میں بیٹھے ہوئے بنیادی مسائل کے آس پاس اجارہ داروں کا گٹھ جوڑ گاہے نظر آتا ہے گاہے نظر نہیں آتا۔ سبب یہ ہے کہ اس باہمی مفادات پر مبنی ناپاک اتحاد کا ہاتھ زیادہ تر خفیہ رہ کر ہی اپنا کام دکھاتا ہے، جہاں تک مَیں پڑھتا، سنتا یا دیکھتا رہا ہوں اس معاملے کو ایک مکمل مسئلہ سمجھ کر اس پر بھرپور توجہ نہیں دی جاتی۔ میرا آج یہی مقصد ہے کہ اس مسئلے کو مرکز میں لایا جائے۔ ایک نشست میں اس موضوع سے انصاف نہیں ہو سکتا اور مَیں قسطوں میں مضمون بیان نہیں کرتا کہ اس سے میرا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ صرف اس کے خدوخال واضح کروں گا۔ اس پر ٹارچ مار کر ایک طرف سے اُٹھا کر صرف مرکز میں رکھنا چاہتا ہوں تاکہ یہ نظروں سے اُوجھل نہ ہو سکے۔

اجارہ داریاں سب شعبوں میں ہو سکتی ہیں ان شعبوں کے اجارہ دار اپنے ساتھیوں کا حق کھا جاتے ہیں۔ ان ناانصافیوں کا یقیناًتدارک ہونا چاہئے، لیکن مجھے صرف سیاسی اجارہ داریوں کی بات کرنی ہے، کیونکہ یہ اس کی سب سے زیادہ خطرناک اور ظالم صورت ہے۔

جمہوریت کے خوبصورت پردے کے پیچھے چھپ کر باہمی مفادات کے تحفظ کے خفیہ اتفاق رائے کا بہت ذکر ہوتا ہے۔مَیں خود بھی ایسا کہتا رہا ہوں، لیکن یہ مکمل سچ نہیں ہے۔ ساری تنقید کا مرکز صرف دو بڑی پارٹیاں بنتی ہیں۔ یہ تو سیاسی اجارہ داریوں کے وسیع نظام کا محض ایک معمولی سا حصہ ہے۔ یہ تو ایک ان لکھا خفیہ آئین ہے،جس پر تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی شدید مخالف ہونے کے باوجود، پوری فرمانبرداری سے عمل کرتی ہیں۔ بلا امتیاز تمام سیاسی جماعتوں کے نچلی سطح کے مخلص اور محنتی کارکن جانے انجانے میں اس جبر کا نشانہ بنتے ہیں، جو اس غیر اعلانیہ نظام نے ان پر مسلط کر رکھا ہے۔ پاکستان بلا شک ایک جمہوری مُلک ہے،جس کی جمہوریت اپنے آغاز کے وقت بہت بے چاری اور سادہ تھی۔ غریب والدین کی اس بیٹی کی طرح جسے انہوں نے تین کپڑوں میں رخصت کر دیا تھا، پھر بانئ پاکستان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے دُنیا سے اُوجھل ہونے کے بعد ’’سیاسی بیوٹی پارلر‘‘ وجود میں آئے،جہاں اجارہ دار سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے جمہوریت کے سادہ چہرے پر اپنے مفادات کا غازہ مل کر اسے حسین بنا کر سامنے کھڑا کر دیا اور اپنے مکروہ چہرے اس کے پیچھے چھپا لئے اور پس پردہ رہ کر لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہو گئے۔ تین مرتبہ فوج نے انہیں پردوں کے پیچھے سے گھسیٹ کر نکالا۔ اجارہ داروں کے ظلم و تشدد کے شکار مفلوک الحال عوام نے اپنے آنسو پونچھے اور تالیاں بجائیں، لیکن آپ کو پتہ ہے فوج تو آمریت کا نشان ہوتی ہے۔ فوج مقبول بھی ہو تب بھی اسے بارکوں میں واپس جانا ہوتا ہے اور بالآخر جمہوریت کو واپس آنا ہوتا ہے۔ اب بیوٹی پارلر جدید سازو سامان سے آراستہ ہو چکے تھے۔ کاریگر لوگوں نے جمہوریت کے چہرے پر پڑنے والے داغ دھبوں کو مٹا کر دیرپا اثر والا غازہ ملا کہ اس کے اترنے کی گنجائش کم سے کم رہ جائے۔ دوبارہ کھیل کھیلنے اور دیر تک جاری رکھنے کے لئے ایسا ضروری تھا۔

اختیارات، مفادات، سہولتوں اور عیاشیوں کو اپنی مٹھی میں بند رکھنے کی جدوجہد کرنے والے اجارہ داروں کی کئی سطحیں ہیں۔ یقیناًاعلیٰ ترین سطح پر موجود اشرافیہ کا کنٹرول سب سے زیادہ ہے، لیکن وہ اپنے نیچے موجود دو سطحوں کے ساتھ کچھ اختیارات اور مفادات شیئر کرتی ہے۔ یہ اس کی مجبوری ہے، کیونکہ وہ ان کی نچلی سطحوں کے بغیر اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ اختیارات کا نیچے کی طرف ہونے والا جزوی TRICKLE DOWN قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی سطح تک پہنچ کر رُک جاتا ہے۔اسے شعوری کوشش کے ساتھ بلدیاتی سطح تک جانے سے روک دیا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ بھی سُن لیجئے! ہمارے مُلک میں جمہوریت رائج ہے اور جمہوری نظام میں طاقت کا سر چشمہ عوام ہوتے ہیں۔ اجارہ داروں کی خواہش تو یہ ہوتی ہے کہ عوام بس اُن کی مرضی کے مطابق ووٹ دیں اور جواب میں جو تھوڑا بہت انہیں ملے اسے رضائے الٰہی سمجھ کر قبول کر لیں، اِس لئے زیادہ نہ سوچیں، لیکن بلدیاتی نظام وہ ہے جس میں عوامی سطح کے محنتی اور مخلص کارکن نسبتاً کم خرچہ کر کے منتخب ہو سکتے ہیں۔ ان کے بعد انتہائی نچلی سطح پر عوام سے براہ راست متعلق CIVIC ترقیاتی کام کرائے گا فنڈ اور اختیار بھی ان اداروں کے پاس ہوتا ہے یہ سب سے نچلی سطح پر پیدا ہوئے اور پھر ابھرنے والی سیاسی قوت عوام سے براہِ راست رابطہ ہونے کی وجہ سے اوپر کی سطح کے اجارہ داروں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کو سیاسی اجارہ داروں کے بارے میں میری اس رائے سے اختلاف ہے تو آپ خود سیاسی جماعتوں کاجائزہ لے کر دیکھ لیں۔ آئین جو بھی ہو اس میں ہمیشہ بلدیاتی اداروں کے قیام اور ان کے انتخابات اور اختیارات کا ذکر ہوتا ہے۔ اب آپ حساب کریں کہ یہ انتخابات کیوں آئین کی خلاف ورزی کر کے اتنی دیر سے ہوئے ہیں اور وہ بھی سپریم کورٹ کی بار بار مداخلت کے بعد۔اب بلدیاتی ادارے وجود میں آ رہے ہیں تو ان کے زیادہ تر اختیارات صوبائی اسمبلیوں یا صوبائی حکومتوں کے پاس جا چکے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے اختیارات کم کرنے والے بلوں کو منظور کرنے کی راہ میں آپ کو کہیں بھی کوئی اپوزیشن جماعت رکاوٹ ڈالتی نظر نہیں آئے گی۔

بلدیاتی ادارے زیادہ بااختیار اور موثر شکل میں فوجی حکمرانوں کے دور میں کام کرتے رہے ہیں اس کی وجہ بہت واضح ہے۔ فوجی حکمران سیاسی اجارہ داروں پر مشتمل اشرافیہ کے ذریعے برسر اقتدار نہیں آتے، وہ تو ملکی حالات خراب ہونے یا اس کا بہانہ بنا کر مایوس عوام کو ترقی اور خوشحالی کی امید دِلانے کے لئے آتے ہیں، مفلسی کی زنجیروں میں جکڑے عوام ان کا استقبال کرتے ہیں۔ عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے فوجی حکمران ان بلدیاتی اداروں کو مضبوط بناتے ہیں، جنہیں سیاسی اجارہ داروں نے اپنے مخصوص مقاصد کے تحت دبا کر رکھا ہوا تھا۔

اگر آپ کو اب بھی یقین نہیں ہے تو جاتے جاتے ایک تازہ مثال ملاحظہ کر لیں۔ آپ سبھی فوجی حکمرانوں کے نام نہاد غیر جمہوری دور کو دیکھیں۔ یونین کونسل سے لے کر ضلع کونسل کی سطح تک اقلیتی یا خواتین کی مخصوص نشستوں کا انتخاب وہی ادارے اکثریتی ووٹ کے ساتھ کرتے تھے۔ اب جمہوری دور کی صوبائی اسمبلی نے اتفاق رائے سے ایک بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت مخصوص نشستوں کا انتخاب ووٹ کے ذریعے نہیں ہو گا۔ ان اداروں میں تمام نشستوں کے تناسب سے سیاسی جماعتوں کو ان نشستوں کا کوٹہ دے دیا گیا ہے، یعنی یہ کام بلدیاتی اداروں کے ارکان کی بجائے اعلیٰ ترین اشرافیہ خود کرے گی، جیسا کہ مَیں نے شروع میں خدشہ ظاہر کیا تھا۔ کالم کی جگہ ختم ہو رہی ہے اور محرر سیاسی جارہ داریوں کے موضوع سے انصاف کی بجائے شاید اس کے خدوخال بھی پوری طرح واضح نہیں کر سکا۔

مزید :

کالم -