چین کا یورپ میں وہ اقدام جس نے جرمنی کو ہلا کر رکھ دیا، جرمن حکومت پہلی مرتبہ وہ بات کہنے پر مجبور ہوگئی جو پہلے کبھی نہ کہی

چین کا یورپ میں وہ اقدام جس نے جرمنی کو ہلا کر رکھ دیا، جرمن حکومت پہلی مرتبہ ...
چین کا یورپ میں وہ اقدام جس نے جرمنی کو ہلا کر رکھ دیا، جرمن حکومت پہلی مرتبہ وہ بات کہنے پر مجبور ہوگئی جو پہلے کبھی نہ کہی

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک چین اقتصادی راہداری چین کے معاشی منصوبے ”ون بیلٹ، ون روڈ“ کا ایک حصہ ہے۔ چین اس منصوبے کو یورپ تک پھیلانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہا ہے اور اب تک کئی یورپی ممالک کو اپنا ہم نوا بنا چکا ہے۔ اب تک چین مشرقی اور جنوبی یورپی ممالک میں اپنا اس حد تک اثرورسوخ بنا چکا ہے کہ یورپی یونین کے اہم ترین رکن جرمنی کو اس پر تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ اس سے قبل جرمنی نے کبھی یورپی یونین کے متعلق اپنی بے تابی کا برملا اظہار نہیں لیکن اب بیجنگ میں تعینات جرمن سفیر مائیکل کلاز نے ایک انٹرویو میں کھلے عام اقرار کر لیا ہے کہ مشرقی اور جنوبی یورپ میں چین کے بڑھتے اثرو رسوخ پر جرمنی کو سخت تشویش لاحق ہے اور یورپی یونین کے متوازی نئی گروپ بندی پران کا ملک دباﺅ کا شکار ہے۔

شامی فوج کی بمباری، چھوٹا سا بچہ اپنی ٹانگوں سے محروم ہوگیا اورپھر اس واقعہ کے فوراً بعد کیا کہہ رہا ہے؟ ایسی ویڈیو سامنے آگئی کہ پوری دنیا کورُلا دیا

scmp.comکی رپورٹ کے مطابق چین اب تک 16 ممالک کے ساتھ مل کر 5کانفرنسز کا انعقاد کر چکا ہے۔ گزشتہ سال بیجنگ نے بیلگریڈ سے بوڈاپیسٹ تک ایک ہائی سپیڈ ریلوے تعمیر کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے سرمایہ کاری چائنہ پالیسی بینک فراہم کرے گا اور اس کی تعمیر چینی سٹیٹ ریلوے کنسٹرکشن کمپنی کرے گی۔ 16ممالک کے اس گروپ میں البانیا، بوسنیا، مقدونیہ، مونٹے نیگرو، سربیا، بلغاریہ، کروشیا، جمہوریہ چیک، ایستونیا، ہنگری، لیٹویا، لیتھوانیا، پولینڈ، رومانیہ، سربیا، سلواکیا اور سلونیا شامل ہیں۔ ان میں 6غیریورپی جبکہ 10یورپی ملک ہیں۔ چین ان ممالک کے ساتھ مل کر ایک گروپ تشکیل دینے کا خواہاں ہے جس کے ذریعے اس کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی تکمیل ممکن ہو سکے گی۔ 16میں سے 7ممالک پہلے ہی چین کے ساتھ اس منصوبے کے متعلق معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں۔مائیکل کلاز کا کہنا تھا کہ ”چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ ایشیاءاور یورپ کو مزید قریب لا سکتا ہے لیکن اسے چاہیے کہ اس میں چین کو دیگر ممالک کی رائے بھی ملحوظ رکھنی چاہیے۔

مزید :

بین الاقوامی -