اگر عرب ملک میں کوئی کمپنی آپ کو وزٹ ویزے پر ہی نوکری شروع کرنے کا کہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ جانئے انتہائی ضروری بات جو باہر جانے والے تمام پاکستانیوں کو معلوم ہونی چاہیے

اگر عرب ملک میں کوئی کمپنی آپ کو وزٹ ویزے پر ہی نوکری شروع کرنے کا کہے تو آپ کو ...
اگر عرب ملک میں کوئی کمپنی آپ کو وزٹ ویزے پر ہی نوکری شروع کرنے کا کہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ جانئے انتہائی ضروری بات جو باہر جانے والے تمام پاکستانیوں کو معلوم ہونی چاہیے

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک)بیرون ملک نوکری کی تلاش کرنے والے افراد کے ساتھ نوسربازی ہونامعمول کی بات بن چکی ہے۔ کچھ اپنے ہی ملک میں ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹ جاتے ہیں اور کچھ دوسرے ملک جا کر استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ اس بھارتی نوجوان کے ساتھ ہوا جو دبئی میں نوکری کے لیے گیا لیکن کمپنی نے اسے غیرقانونی طور پر وزٹ ویزے پر ہی ملازمت پر رکھ لیا اور پھر کئی ماہ کی تنخواہ دیئے بغیر نوکری سے بھی فارغ کر دیا گیا۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ نوجوان وزٹ ویزے پر دبئی گیا اور وہاں ڈی ایم سی سی نامی ایونٹ کمپنی میں انٹرویو دے کر واپس بھارت چلا گیا تاکہ کمپنی اسے ورک ویزہ اور ٹکٹ بھیجے اور وہ واپس دبئی جا سکے۔ تاہم کمپنی نے اسے کہا کہ وہ دوبارہ وزٹ ویزے پر ہی آ جائے۔

چنانچہ نوجوان وزٹ ویزے پر دبئی چلا گیا اور نوکری کرنے لگا۔ ساتھ ہی منتظر رہا کہ کمپنی اسے ورک ویزہ فراہم کر دے گی، لیکن ایسا کبھی نہ ہو سکا۔ پھر کمپنی نے وہ ڈیپارٹمنٹ ہی ختم کر دیا جس میں وہ کام کرتا تھا۔ اس کی پانچ ماہ کی تنخواہ بھی کمپنی نے ادا نہیں کی۔ اب اشیش کا کہنا ہے کہ ”کمپنی سے کئی بار رابطہ کر چکا ہوں لیکن وہ تنخواہ ادا نہیں کر رہے۔ میں حکام سے بھی رابطہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں وزٹ ویزے پر غیرقانونی طور پر کام کرتا رہا ہوں۔“دبئی کی لاءکمپنی اشیش مہتا اینڈ ایسوسی ایٹس کے بانی اشیش مہتا کا کہنا ہے کہ ”متحدہ عرب امارات میں وزٹ ویزے پر کسی بھی طرح کی نوکری یا کوئی ذاتی کاروبار کرنا قانوناً جرم ہے۔ اگر کوئی کمپنی کسی کو وزٹ ویزے پر نوکری دیتی ہے تو وہ بھی برابر کی مجرم تصور کی جاتی ہے۔“

عرب ملک میں یہ شہری 3 سال قبل کفیل کے خلاف مقدمہ جیت گیا، عدالت نے لاکھوں روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا لیکن پھر کفیل نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ جان کر ہر شہری کانپ اُٹھے

اشیش مہتا نے یہ بھی بتایا کہ ”عموماً دبئی میں مقیم غیرملکیوں کو یہ بھی مسئلہ درپیش آتا ہے کہ ان کی رہائش گاہ کے مالکان اچانک کرایہ بڑھا دیتے ہیں، حالانکہ قانون انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ مالکان ہر سال کرایہ نامہ کی تجدید کے وقت 5فیصد تک کرایہ بڑھا سکتے ہیں لیکن قانونی طور پرکرایہ دار کو اس اضافے یا رہائش خالی کرنے کا 2ماہ قبل نوٹس دینا لازم ہے۔ اگر مالک دو ماہ قبل نوٹس نہیں دیتا تو کرایہ نامے کی تجدید پرانی شرائط پر ہی ہو گی اور مالک قانونی طور پر کرایہ دار کووہاں سے نکال بھی نہیں سکتا۔“

مزید :

عرب دنیا -