’سکول جانے والے بچوں کو اجنبی ٹافی کا کہہ کر یہ خطرناک ترین چیز کھلارہے ہیں، اس کے بعد انہیں اغوا نہیں کیا جاتا بلکہ۔۔۔‘ معروف سکول کی انتظامیہ نے خط لکھ دیا، ایسا خوفناک انکشاف کردیا کہ پاکستانی والدین کے پیروں تلے واقعی زمین نکال دی

’سکول جانے والے بچوں کو اجنبی ٹافی کا کہہ کر یہ خطرناک ترین چیز کھلارہے ہیں، ...
’سکول جانے والے بچوں کو اجنبی ٹافی کا کہہ کر یہ خطرناک ترین چیز کھلارہے ہیں، اس کے بعد انہیں اغوا نہیں کیا جاتا بلکہ۔۔۔‘ معروف سکول کی انتظامیہ نے خط لکھ دیا، ایسا خوفناک انکشاف کردیا کہ پاکستانی والدین کے پیروں تلے واقعی زمین نکال دی

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) تعلیمی اداروں میں منشیات کا فروخت ہونا کسی المیے سے کم نہیں مگر وطن عزیز میں یہ المیہ بھی انہونی نہیں رہا۔ گزشتہ دنوں لاہور کے سکولوں اور کالجوں میں بڑے پیمانے پر منشیات فروشی کا انکشاف سامنے آچکا ہے۔ اب اس حوالے سے کراچی سے ایک انتہائی افسوس ناک خبرسامنے آئی ہے جہاں ایک پرائیویٹ سکول سسٹم کی طرف سے طلبہ اور والدین کو ایک نئی نشہ آور دوا کے متعلق خبردار کیا ہے۔ ویب سائٹ mangobaaz.comکی رپورٹ کے مطابق سکول انتظامیہ نے انتباہی نوٹس لکھا ہے کہ سکولوں میں ایک نئی نشہ آور دوا بچوں کو دی جا رہی ہے جس کا نام ’سٹرابری کوئیک“ ہے۔ اسے ”سٹرابری میتھ“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں خطرناک منشیات میتھامفیٹامین (Methamphetamine)پائی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھوک کا خاتمہ، پسینے کا بہت زیادہ اخراج، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، خون کے بہاﺅ میں خرابی آنا، چہرے پر پھوڑے پھنسیاں نکلنا، بے حس ہوجانا، سر چکرانا اور جسم پر کپکپی طاری رہنا میتھامفیٹا مین کے استعمال کی بڑی علامتوں میں سے ایک ہیں۔ اس کا استعمال بعدازاں ایڈز اور دیگر جنسی تعامل سے منتقل ہونے والی بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔اس کے انسان کے عصبی نظام پر بھی انتہائی نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے وہ ڈپریشن، رعشہ اور دیگر ایسی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے۔

’’وہ انتہائی ذہین لڑکی سکول میں میرے ساتھ پڑھتی تھی، تعلیم مکمل ہوئی تو والدین نے اس کی شادی نہ چاہتے ہوئے بھی ایک انتہائی امیر گھر کے لڑکے سے کروادی اور پھر ۔۔۔۔‘پاکستانی نوجوان لڑکے نے اپنی سہیلی کی ایسی کہانی سنادی کہ جان کر آپ کا دل بھی افسردہ ہوجائے گا

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تاحال سٹرابری کوئیک استعمال ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا اور دنیا بھر میں سکیورٹی ایجنسیوں نے اس پر تحقیق کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دراصل مختلف رنگوں کی نشہ آور دوا لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے نہیں بنائی جاتی بلکہ اس دوا کو بنانے کے مختلف طریقوں کے باعث اس کی رنگت مختلف ہوتی ہے۔ تاہم بچے آسانی سے دھوکہ کھا سکتے ہیں اور اس کو چاکلیٹ یا دیگر کھانے پینے کی اشیاءسمجھ کر کھا سکتے ہیں۔یہ بات باعث اطمینان ہے کہ تاحال ایسی کسی نشہ آور دوا کا ثبوت سامنے نہیں آ سکا تاہم والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو کسی بھی اجنبی سے کوئی بھی چیز لے کر کھانے سے سختی سے منع کریں کیونکہ منشیات فروشوں کو انسانوں کے تحفظ اور ان کی فلاح سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور بچے ان کا آسان ہدف ہو سکتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -