آلو کے درآمدی بیجوں کی کاشتہ خزاں فصل اس وقت تیاری کے آخری مراحل میں ہے،محکمہ زراعت

آلو کے درآمدی بیجوں کی کاشتہ خزاں فصل اس وقت تیاری کے آخری مراحل میں ...

  

لاہور(اے پی پی )محکمہ زراعت پنجاب نے آلو کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ درآمدی بیجوں کی کاشتہ خزاں فصل اس وقت تیاری کے آخری مراحل میں ہے لہذا ان نئی اقسام والی کاشتہ بیج کی فصل کے کھیتوں کا 3سے 4بار معائنہ کیا جائے اور بیمار پودوں کو آ لو سمیت اکھاڑ کر دبادیا جائے۔محکمہ کے ترجمان نے بتایا کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن ٹشوکلچر کے طریقہ سے تیار کردہ بیج موسم خزاں کی فصل کے لئے مہیا کرتا ہے، حال ہی میں تحقیقاتی ادارہ آلو، ساہیوال نے آلو کی زیادہ پیداوار کی حامل سرخ قسم ''پی آر آئی ریڈ'' منظور کروائی ہے جو کہ دھند ، کورے اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہے، اس مرحلہ پر کسی قسم کی سستی یا کوتاہی سے پیداوار میں کمی کے علاوہ کوالٹی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،فصل اس وقت برداشت کریں جب بیلیں پیلی ہونی شروع ہو جائیں اور زمین پر گرنے لگیں۔

، آلو کی بیلیں برداشت سے 15 روز قبل کاٹ کر وٹوں کے اوپر ڈالنے سے آلو کی فصل تیلے اور وائرس کے اثرات سے محفوظ ہوجاتی ہے اور تیار آلو کی جلد بھی سخت ہو جاتی ہے، برداشت شدہ آلو کی فصل کو زیادہ دیر تک دھوپ میں نہ پڑے رہنے دیا جائے بلکہ اس کو جلدی سایہ دار جگہ پر منتقل کر دیا جائے،آلو ٹوکریوں میں ڈال کر ڈھیر پر منتقل کرتے وقت ٹوکریوں کو زور سے نہ پھینکا جائے تاکہ آلو چوٹ لگنے سے محفوظ رہ سکیں اور زخمی نہ ہوں، کھیت میں ذخیرہ شدہ آلو کے ڈھیروں میں ہوا کا مناسب گزر نہ ہونے کے باعث آلو نہ صرف گلنے سڑنے لگتے ہیں بلکہ درجہ حرارت زیادہ ہونے کی بناء پر خشک اور بد شکل بھی ہو جاتے ہیں جس سے مارکیٹ میں کم قیمت وصول ہوتی ہے۔ زرعی ماہرین نے ذخیرہ شدہ آلو کی سنبھال کے اس طریقہ کو زیادہ بہتر بنا دیا ہے جس کے ذریعے ڈھیروں کے اندر ہوا کو گزارنے کے لئے ڈکٹ لگایا جاتا ہے نیز برداشت شدہ آلو کی فصل کی بھرائی سے پہلے درجہ بندی ضرور کریں تاکہ مارکیٹ میں فصل کا اچھا ریٹ مل سکے، 55 ملی میٹر گولائی سے بڑے سائز کے آلو جو کہ تقریباً سیب یا مسمی کے سائز کے برابر ہوتے ہیں انہیں بطور خوراک یعنی راشن کے طور پر مارکیٹ میں فروخت کے لئے علیحدہ کیا جائے۔ 35 تا 55 ملی میٹر گولائی تک کے آلو جو کہ تقریباً انڈے کے سائز کے برابر ہوتے ہیں ان کو بطور بیج استعمال کرنے کے لئے علیحدہ رکھا جائے، 15 تا 35 ملی میٹر گولائی والے آلو جن کا سائز تقریباً کانچ کی گولی یا آملہ کے سائز کے برابر ہوتا ہے انہیں بطور گولی الگ کیا جاتا ہے اور اگر بیج کم ہو تو انہیں بطور بیج بھی استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن بیج کی فراوانی کی صورت میں ان کو بھی درجہ سوم کے آلو کے طور پر مارکیٹ میں فروخت کیا جائے۔

مزید :

کامرس -