باغبان پھولوں میں بارآوری کے عمل کو بہتربنانے کیلئے زرعی ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں،محکمہ زراعت

باغبان پھولوں میں بارآوری کے عمل کو بہتربنانے کیلئے زرعی ماہرین کی ہدایات ...

  

لاہور(اے پی پی )محکمہ زراعت پنجاب نے باغبانوں کو خبردارکیاہے پودوں کے شگوفوں کے مکمل ہونے اوربور نکلنے تک زرعی ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ پھولوں میں بارآوری کے عمل کو بہتر بنانے میں مددمل سکے۔محکمہ کے ترجمان کے مطابق آم کی کاشت کے زیادہ باغات والے اضلاع میں اس سال کورا نہیں پڑا اور موجودہ سیزن میں رات کے وقت کادرجہ حرارت زیادہ ہونے کے اثرات آم کے باغات میں نئے شگوفے نکلنے کی صورت میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ معمول کے مطابق نکلنے والے شگوفوں پر انتھراکنوز (منہ سڑی) اور سفوفی پھپپھوندی کے حملہ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آم کے بور اور چھوٹے پھل کو سفوفی پھپھوندی کے حملہ سے بچانے کیلئے پھپھوندکش زہر پینکونا زول بحساب 50 ملی لٹر یا ٹیبوکونازول زہر بحساب 150ملی لٹر اور انتھراکنوز یا منہ سڑی کے تدارک کیلئے کاپر کی حامل پھپھوند کش کاپر ہائیڈرو آکسائیڈ یا کاپر آکسی کلورائیڈ یا مینکو زیب یا کلوروتھیلونل+ پروسیمیڈن بحساب 250گرام فی 100 لٹر پانی میں حل کرکے حفاظتی سپرے کیا جائے اور اس عمل کو ہفتہ یا 10دن کے وقفہ سے دہرایا جائے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ آم کے پودوں پرپھولوں سے پھل بننے کا عمل بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پودوں پر لگنے والے کل پھولوں کا 0.01 سے 0.03 فیصد تک پھل بن کر قابل برداشت حالت تک پہنچ جائے تو یہ بہت اچھی پیداوار گردانی جاتی ہے،پھولوں میں زردانے بننے اور ان کی زرپاشی کے لیے درجہ حرارت 15 سے 33 ڈگری سینٹی گریڈ درکار ہوتا ہے،کم اور زیادہ درجہ حرارت کا پھل لگنے سے گہرا تعلق ہے جیسا کہ پھول نکلتے وقت اگر رات کا درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم ہو تو زردانے مرنے لگتے ہیں اسی طرح اگر درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو جائے تو پولن ٹیوب کی نشوو نما رک جاتی ہے، نر اور مادہ خلیوں کے ملاپ کا عمل نامکمل رہ جاتا ہے اور پھل بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

مزید :

کامرس -