پاکستان میں سالانہ اڑھائی ارب ڈالر کی اسمگلنگ ہوتی ہے : صدر راولپنڈی چیمبر

پاکستان میں سالانہ اڑھائی ارب ڈالر کی اسمگلنگ ہوتی ہے : صدر راولپنڈی چیمبر

  

 راولپنڈی(اے پی پی )راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر راشد وائیں نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریبا اڑھائی ارب ڈالر کی اسمگلنگ ہو تی ہے جس سے نہ صرف قومی خزانے پر محصولات کی مد میں برا اثر پڑتا ہے بلکہ یہ مقامی صنعت کو بھی پستی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائمقام صدر چیمبر نے کہاکہ اسمگلنگ ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں اسمگل شدہ اشیاء کی بہتات ہے ،حکومت کو چایئے کہ وہ سرحدوں پر نگرانی کے نظام کو موثر بنائے ۔انہوں نے کہاکہ سمگلنگ سے صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو تا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فونز، گاڑیوں کے ٹائر، ڈیزل، چائے، آٹو پارٹس، الیکٹرانکس، پلاسٹک، اسٹیل کی شیٹس اور کپڑے کی اسمگلنگ سر فہرست ہے۔ زیادہ تر اسمگلنگ سمندر کے راستے یا افغان سرحد سے ہوتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سرحدوں پر نگرانی کا جدید اور موثرنظام لائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اسمگلنگ ختم ہو جائے تو ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں چار سے آٹھ فیصد کی بہتری لائی جاسکتی ہے راشد وائیں نے مزید کہا کہ غیر رسمی کاروبار کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ٹیکسوں کے نظام کو حقیقت پسندانہ بنانے اور انڈر انوائسنگ پر چیک رکھنے کی اشد ضرورت ہے ۔

مزید :

کامرس -