افغانستان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کرے

افغانستان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کرے
 افغانستان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کرے

  

ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعدسیکیورٹی فورسز نے تخریب کاروں کے خلاف کارروائیاں تیز کر تے ہوئے چند گھنٹوں کے دوران 100 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پنجاب سمیت ملک کے مختلف شہروں میں انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشن کئے گئے۔ سینکڑوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ کراچی کے علاقے منگھو پیر اور سپر ہائی وے پر رینجرز کی کارروائیوں کے دوران 27 دہشت گرد مارے گئے۔ بھاری تعداد میں آٹومیٹک ہتھیار دستی بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد کرلیا گیا۔

کومبنگ آپریشن میں ہلاک دہشت گردوں میں جماعت الاحرار کراچی کے امیر نوشاد خان عرف لالہ یونس عرف شمس ماما کے علاوہ کالعدم لشکر جھنگوی کراچی کا امیر ملک تصدق بھی شامل ہے۔ ملک تصدق خطرناک دہشت گردوں آصف چھوٹو، آصف رمزی اور نعیم بخاری کا قریبی ساتھی بتایا جاتا ہے اور طویل عرصے سے عبادت گاہوں اورسیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا۔ ملک تصدق کے سر کی قیمت پانچ لاکھ روپے مقرر تھی۔ اس نے افغانستان میں ایک ماہ کی عسکری ٹریننگ حاصل کی تھی۔ وہ غیر ملکی صحافی ڈینئیل پرل کے قتل میں بھی ملوث تھا۔ دہشت گرد نوشاد خان قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان اور اسلحہ کی ترسیل میں ملوث تھا۔ ابھی تک جن دیگر دہشت گردوں کی شناخت ہوئی ہے، ان میں شیراز احمد بم بنانے اور بارودی سرنگیں لگانے کا ماہر تھا۔ عزیز اللہ جس کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے تھا، بیت اللہ محسود کا قریبی ساتھی اور فوجی قافلوں پر حملوں اور فوجی جوانوں کو ذبح کرنے میں ملوث تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسلام آباد کے گردونواح میں سرچ آپریشن کرکے 10افغانوں سمیت 42افراد کو حراست میں لے کر اسلحہ برآمد کرلیا۔

دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کے بعد ملک بھر کی جیلوں میں بند کالعدم تنظیموں، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں سے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ اس پوچھ گچھ کے نتیجہ میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اہم شواہد ملے جس کی روشنی میں آپریشن کیا گیا۔ پاک افغان بارڈر طورخم کو سیل کرنے کے بعد ملحقہ علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیا ۔بارڈر پرہر قسم کی آمد ورفت معطل ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں گشت بڑھا دیا ہے۔ پاک فوج نے افغان سرحد پر جماعت الاحرار کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمانڈر عدیل باچا کے کیمپ سمیت متعدد کیمپ تباہ کردیئے۔ پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر مہمند اور خیبر ایجنسی کے دوسری جانب سرحد پار جماعت الاحرار کے دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ کارروائی میں دہشت گردوں کے جانی نقصان کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ پاکستان نے افغانستان سے 76 ایسے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے جو اس کی سرزمین پر چھپے ہوئے ہیں، جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکلسن کو فون کر کے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں شدت پسندی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہونے والی شدت پسندی کے حالیہ واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیموں کی قیادت بھی افغانستان میں ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرکے ہماری سرحد پار کارروائی نہ کرنے کی تحمل کی پالیسی کا امتحان نہ لیا جائے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہونے سے روکا جائے۔ آرمی چیف نے امریکی کمانڈر سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کو تعاون اور مالی معاونت کے خاتمے میں کردار ادا کریں۔ جنرل جان نکلسن کو مطلع کیا گیا کہ پاکستان نے افغانستان میں روپوش دہشت گردوں کی ایک فہرست افغان حکام کے سپرد کی ہے تاکہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جنرل نکلسن نے پاکستان میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے تحفظات دور کرنے کے لئے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔

افغان سفیرکو جی ایچ کیو طلب کر کے ان سے کہا گیا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے یا انہیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ افغان سفارتکاروں کو جی ایچ کیو بلانا ایک غیر معمولی اقدام ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس قسم کی صورت حال میں سفارتی حکام کو دفتر خارجہ طلب کر کے میزبان ملک کے مطالبات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ انٹیلی جنس ادارے حالیہ واقعات کے پیچھے نیٹ ورکس بے نقاب کرنے میں پیشرفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے افغان مشیر قومی سلامتی حنیف اتمار سے ٹیلیفون پر بات کی اور انہیں بتایا کہ جماعت الاحرار افغانستان میں موجود اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہے، جبکہ افغانستان کی حکومت متعدد بار مطالبے کے باوجود اس کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کر رہی۔ سرتاج عزیز نے افغان مشیر قومی سلامتی پر زور دیا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ دہشت گردی کے حملوں کے باعث گہرے رنج و غم سے دوچار ہیں، کیونکہ ان دہشت گرد حملوں میں بڑی تعداد میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے لئے افغان سرزمین استعمال ہونے اور کابل انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کرنے کے بعد پاک فوج نے جماعت الاحرار کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی جس سے اس کے متعد د ٹھکانے تباہ ہوئے، جبکہ اہم کمانڈر سمیت 22 دہشت گرد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

افغان آرمی چیف جنرل قدم شاہ شاہیم نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی فہرست پاکستان کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی ملی ہے۔ افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی سرگرمیاں روکنے کے لئے کوشاں ہیں۔ دہشت گردوں کی فہرست پر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ضرورت پڑنے پر مزید معلومات کا مطالبہ بھی کریں گے۔ افغانستان نے بھی پاکستان کو دہشت گردوں کی فہرست اور شواہد مہیا کئے ہیں۔ پاکستان سے بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی امید کرتے ہیں۔

مزید :

کالم -