اے ایس ایف اور اسلامی نظام تعلیم

اے ایس ایف اور اسلامی نظام تعلیم
 اے ایس ایف اور اسلامی نظام تعلیم

  

عبدالقدیر فاروقی جو اس تنظیم کے آل پاکستان صدر ہیں، اُن کی کاوشوں کے ذکر کے بغیر یہ مضمون ادھورا ہے، ہم ابتدا پاکستان کے نظام تعلیم کی خامیوں سے کرتے ہیں، چند نکات کی شکل میں ایک سادہ طریقے میں ان کا خلاصہ پیش خدمت کیا جاتا ہے۔ محکمہ تعلیم کے دفاتر کرپشن کے پھیلاؤ میں دریا دلی سے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں فرنیچر اور دیگر سائنسی آلات،واش روم اور صاف پانی ضرورت کے مطابق موجود نہیں، دیہات کے پرائمری اور مڈل سکولوں میں اساتذہ کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ طلبہ کی ابتدائی تعلیم میں مادری زبان سے اعراض کرنا، تعلیمی اداروں میں حکمت عملی کی بجائے جسمانی سزا کا چل چلاؤ، کورس کی کتابوں کے بوجھ میں اور بچوں کی عمر میں تفاوت، یکساں نظام تعلیم کا عنقاء ہونا، اساتذہ کا غیر تربیت یافتہ ہونا، اساتذہ کے تقررمیں سیاسی رشوت کا بنیاد بننا، سکولوں کی عمارت کا نامناسب مقام پر تعمیرہونا، دینی مدارس کی طرف سے حکومت کا آنکھیں بند کرنا، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی فیسوں کا ہوش ربا ہونا، دینی مدارس کے طلبہ کا غیر مہذب ہونا اور کالج و یونیورسٹیوں کے طلبہ کی بابت یہ تصور کرنا کہ وہ دین کے باغی ہیں۔۔۔ان تصورات کا خاتمہ ضروری ہے۔ دینی اور دنیاوی اداروں کے مابین طریقہ تعلیم میں بعد المشرقین ہے۔۔۔ اس سے انکار نہیں کہ دُنیا میں وہی زبان مسابقت کی دوڑ میں کامیاب رہے گی،جس میں جدید علوم کا ذخیرہ وافر ہو گا، جس زبان کے جاننے والوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور جس زبان کے جاننے سے عالمی سطح پر میل جول اور پیشہ ورانہ کارکردگی میں سہولت پیدا ہو گی۔ ہماری اس بات سے مقصود یہ ہے کہ جس قدر انگریزی کی ضرورت ہے،اسے اس کے مطابق برقرار رکھا جائے، مگر اپنے نظام و نصاب کو اُردو کی طرف منتقل کرنے کے اقدامات جاری رکھے جائیں۔

اُردو میڈیم اور انگلش میڈیم کے فرق سے جہاں اور مسائل پیدا ہو رہے ہیں ،وہیں غریب طلبہ میں احساس کمتری کو بھی جنم دینے کا باعث بن رہا ہے۔ نصابی کتب کو قومی امنگوں اور بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔قابلیت بڑھانے اور نقل کے لئے رجحان میں کمی کے لئے معروضی طریقہ کار پوری دُنیا میں مقبول ہے۔ چین نے ایک یورپین کمپنی سے کمپیوٹر خریدے تو اس کے سارے پروگرام انگلش میں تھے، مگر چین نے کروڑوں روپیہ خرچ کر کے تمام پروگرام چینی زبان میں منتقل کئے،اس کے بعد اسے عام استعمال کے لئے عوام کے حوالے کر دیا۔ اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قومیں اپنی زبانوں کی بابت کس قدر حساس ہیں۔ اصل کرنے کا کام یہ ہے، جیسا کہ دُنیا میں ہو رہا ہے کہ کیمبرج یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی یا ہاورڈ یونیورسٹی سمیت دُنیا میں کسی بھی ترقی یافتہ مُلک کی یونیورسٹی میں پلاننگ، میڈیکل، انجینئرنگ، معاشیات،جدید ریسرچ نفسیات قانون پر کوئی بھی نئی کتاب شائع ہوتی ہے، جس رفتار سے ان یونیورسٹیوں میں جدید تحقیق پر کوئی کتاب شائع ہوتی ہے،اسی رفتار سے اس کا ترجمہ چائنیز زبان، جرمن زبان، روسی زبان، جاپانی زبان اور فرانسیسی زبان میں کر دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں کی رینکنگ کے اعتبار سے تقریباً پہلی 800 یونیورسٹیوں میں ایک بھی پاکستانی یونیورسٹی شامل نہیں ہے۔

سارے تعلیمی نظام میں وہی بچے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں،جو رٹا اچھا لگا لیتے ہیں۔آج ہمارے بے شمار ڈاکٹر، انجینئر اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ یورپ میں برتن دھونے یا صفائی کا کام کر رہے ہیں۔ موجودہ تعلیمی نصاب متشدد رویوں کو جنم دے رہا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام شروع سے آخر تک صرف حفظ کتاب پر زور دیتا ہے، حالانکہ اصل چیز کسی سبجیکٹ کا سمجھنا ہوتا ہے۔ ہمارے سکولوں کے کلاس رومز میں یک طرفہ ٹریفک چلتی ہے، جہاں استاد اپنی ذہنی سطح کے مطابق پڑھاتا نظر آتا ہے اور عام طور سے تیار شدہ نوٹس مواد سے سالہاسال گزارہ کرتا ہے۔ اکثر اساتذہ اپنی کوتاہیوں کا الزام طلبہ، و الدین، نصابی کتب اور امتحان کے طربقہ کار پر ڈالتے ہیں۔ تعلیم کا جدید طریقہ تو مکالمہ ہے۔ نصابی کتب کو قومی، بین الاقوامی اور اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہئے اور کورس کے سالانہ نظام میں اگر تبدیلی بہتر نظر آئے تو اسے بدل دیا جائے تاکہ طلبہ پر امتحان کا نفسیاتی دباؤ کم ہو سکے۔ ان تمام باتوں میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ استاد عملی نمونہ بنیں۔ اسلامی تربیت، وعظ و تقریر کا نام نہیں، بلکہ حقیقت میں تعلیم کا مقصد عبودیت الٰہی ہونا چاہئے،ہمارے ہاں معلومات کو پیش کرنے کا انداز غیر اسلامی ہے۔ جب ہم موجودہ نظام تعلیم کو بدلنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ کیمسٹری، فزکس وغیرہ کو بدل دیا جائے، بلکہ الحادی اور سیکولر رویے کو ترک کرنا مراد ہوتا ہے۔ ہم نیچر سے خالق کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، یعنی خالق حقیقی کی طرف، یہاں عمرانی علوم تک کو بھی مغربی طریقے میں سمویا جا رہا ہے، اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ بظاہر صرف اسلامیات کے پیریڈ بڑھا دئیے جائیں۔ سکولوں اور کالجوں میں اسلامیات رٹائی جاتی ہے اور مدرسے میں صرف عبادات اور فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ آج کل کا نظام تعلیم (Hybrid system) یعنی ملغوبہ ہے اور اس میں بہتری کے لئے ضروری ہے کہ نچلی سطح سے لے کر پوسٹ ڈاکٹریٹ سے اوپر تک تعلیم کے لئے کتب کی تطہیر کی جائے تاکہ طلبہ اسلام کے آفاقی نقطہ نظر سے واقف ہو سکیں۔ لازمی ہے یہ کتابیں سائنسی اور سماجی علوم میں اسلامی نقطہ نظر کو دوبارہ سمو سکیں۔ملغوبہ سکول اور ملغوبہ تعلیمی ماڈل پاکستان کی منزل نہیں۔

حیدر آباد یونیورسٹی جو 1917ء میں قائم ہوئی اور 1948ء تک چلتی رہی، اس میں1923ء میں انجینئرنگ کالج اور1926ء میں میڈیکل کالج قائم کئے گئے اور تمام تر نصاب اُردو تھا، مگر وقت کے تقاضوں کے مطابق انگریزی بطور ایک لازمی مضمون پڑھائی جا رہی تھی۔ اب ہم اپنے وعدے کے مطابق اے ایس ایف کی بابت، یعنی ان کی پاکستان کے نظام تعلیم کے سلسلے میں کاوشوں کو مختصر کرتے ہیں۔اے ایس ایف کا قیام 1989ء میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کی ایک ذیلی تنظیم کے طور پر کیا گیا، مارچ1989ء میں غازی علم الدین شہید کے پوتے اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے، یعنی غازی عبدا لباسط صاحب۔ اس کے مشہور مقاصد یہ ہیں۔

*۔۔۔ مخلوط تعلیمی نظام سے اعراض کرنا اور عربی زبان کا فروغ شامل ہیں۔ مگر ہمیں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ2005ء سے لے کر2011ء تک یہ تنظیم جمود اور تعطل کا شکار رہی۔2011ء میں اس کی قیادت ایک قابل، ذمہ دار، مخلص شخص، عبدالقدیر فاروقی کے حوالے کر دی گئی، انہوں نے تھوڑے عرصے کے اندر اپنی انتھک محنت سے اے ایس ایف کو ایک مرتبہ پھر باعزت اور زندہ تنظیموں میں شامل کر دیا، مُلک کے طول وعرض میں اس کے نظم کو پھیلا دیا۔ سیمینار کا سلسلہ مختلف شہروں میں جاری رہتا ہے، لیکن یہاں یہ مثال صادق آتی ہے کہ قیادت کی جوہری صلاحیتوں کے بغیر ان سیمینارز کا انعقاد جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، مگر جنابِ ساجد میر، امیر محترم کی زیرک اور بھانپنے والی نظروں کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی ،کہ ایک جوہری ہی جوہر کو تلاش کر سکتا ہے تو سمندر میں سے اس موتی اور جوہر کی تلاش یہ جناب پروفیسر ساجد میر کا کارنامہ ہے۔ عبدالقدیر فاروقی کی شکل میں ہیرے کو ڈھونڈ نکالا اور طلبہ کی قیادت کے لئے اسلامی نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی بہتری کے سلسلے میں ذمہ داری ان کے کندھوں پر ڈال دی اور انہوں نے اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں کبھی کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا اور امیر محترم کی توقعات سے بڑھ کر اپنے آپ کو ثابت کیا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آج تک مرکزی جمعیت کی ذیلی تنظیمات کو ایسی قیادت میسر نہیں آئی۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ انہیں اسی طرح سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مزید :

کالم -