عوام اور سفری سہولتیں!

عوام اور سفری سہولتیں!
 عوام اور سفری سہولتیں!

  

کہاں جانا ہے ’’جی!جیل روڈ روزنامہ پاکستان کے دفتر، آئیں، بیٹھیں‘‘ بھائی! کتنے پیسے لوگے، ’’جو آپ پہلے دے کر جاتے ہیں‘‘ نہیں بھائی! تم بتاؤ، اگر ٹھیک ہوا تو چلا چلوں گا، ’’اچھا تو! ڈھائی سو روپے دے دیں‘‘۔

یہ مکالمہ صبح صبح رکشا والے سے ہوا کہ آج برخوردار چھوڑنے نہیں آسکا اور مجھے خود ہی دفتر آنا تھا، ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا، جب بھی مصطفی ٹاؤن میں یو،ایم،ٹی ہوسٹل کے باہر کھڑے رکشا والوں سے دفتر آنے کے بارے میں پوچھا تو پہلا جواب یہی ہوتا ہے، جو آج ہوا، جب گزارش کی کہ بھائی! کم سفر کے لئے زیادہ ہیں تو دوسو روپے پر اتر آیا اس سے کہا کہ 180 روپے لے لو وہ بات سنے اور جواب دیئے بغیر چل دیا، یوں یہ بات تو آئی گئی ہو گئی، صاحبزادہ فون پر ’’اوبر‘‘ سے گاڑی بھجوانے کی کوشش کررہا تھا، اسی کشمکش میں محلے دار اور سیر صبح کے ساتھی چودھری صدیق آگئے اور انہوں نے لفٹ دے کر بھیکھے وال موڑ تک پہنچا دیا۔

یہاں سے نئی داستان شروع ہوتی ہے کہ میں پنجاب یونیورسٹی کی طرف والے بس سٹاپ پر چلا گیا کہ 41نمبر بس پربیٹھ سکوں، بس آئی ضرور لیکن اس نے اس بس سٹاپ کا رخ ہی نہیں کیا، ڈرائیور یہاں کے مسافروں کو نظر انداز کر کے اگلے چوک میں پہنچ گیا، یہاں سے دائیں مڑکر رکا اور مسافروں کو اتار چڑھا کر بس آگے چل دی اور میں محروم رہ گیا۔

وہاں سے چل کر اس طرف پہنچا تو بس نہ مل سکی البتہ 148نمبر ویگن کھڑی تھی، کنڈکٹر مسافروں کے لئے آواز لگا رہا تھا، سوچا کہ یہ مزہ بھی لے لیں، بیٹھ گیا اور پھر جو ہوا وہ کسی بھی عام آدمی کے لئے اچھا نہیں تھا کہ کنڈکٹر سواریوں سے ایسے لہجے اور انداز میں بات کررہا تھا جیسے اس کا مسافروں پر احسان ہے، اور پھر روانگی سے پہلے پہلے اس نے تنگ نشستوں پر اپنی گنتی کے مطابق مسافر ٹھونک لئے اور ساتھ ہی ایک نوجوان کو کھڑا بھی کرلیا، اس کی اپنی نشست پر بھی ایک مسافر تھا، یوں پھنس کر بیٹھنے کی وجہ سے کپڑوں کا تو ستیاناس ہو رہا تھا، ساتھ ہی دم بھی گھٹنے لگا، راستے بھر کنڈکٹر مسافروں کو ہدایات دے کر آگے پیچھے بھی کرتا چلا آرہا تھا، بمشکل مسلم ٹاؤن موڑ تک سفر ہوا اور پھر ہمارا حوصلہ جواب دے گیا، ہم نے کرایہ دے کر جان چھڑالی کہ یہاں سے رکشالے کر چلوں گا، ایک رکشے والے نے رک کر پوچھاتو اسے بتایا کہ جیل روڈ پر روزنامہ پاکستان کے دفتر جانا ہے، اس نے بیٹھنے کی پیشکش کی اور سو روپے مانگے، اصرار کے باوجود کم کرنے پر آمادہ نہیں تھا جب بات طے ہوگئی اور میں بیٹھنے لگا تو معلوم ہوا کہ ایک خاتون مسافر پہلے سے بیٹھی ہوئی ہیں، ڈرائیور کی توجہ مبذول کرائی تو وہ بولا ! بیٹھیں انہوں نے آگے اتر جاتا ہے، چنانچہ اچھرہ تک ایک کونے میں لگ کر آئے یہاں وہ خاتون اتر گئیں اور ہم دفتر تک چلے آئے، یوں یہ سفر تمام ہوا۔

اس رودادسے مراد یہ ہے کہ سرکار نے پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام موثر نہیں کیا، اور نہ ہی نجی ٹرانسپورٹ کے ذرائع کو فعال اور مسافر دوست بنایا ہے، رکشا والوں کا جہاں تک تعلق ہے تو ان کی کافی بہتات ہے لیکن ان کے لئے کرائے کی کوئی پابندی نہیں یہ اپنی پسند کے مطابق سواری سے بھاؤ تاؤ کرتے ہیں، پھر اب نئے رکشا نظر آتے ہیں تو پرانے بھی ہیں جن کی حالت خراب ہے، دھواں دینا تو الگ بیٹھنے کی نشتین بہت خراب اور پھٹی ہوئی ہیں جن کے کیل نکلے ہوئے ہیں اور ان سے الجھ کر کپڑے بھی پھٹ جاتے ہیں ان کی جنبش تو کوئی نہیں دیکھتا یہی حال ویگنوں کا ہے، سیٹیں پھٹی ہوئی ہیں، کیل کانٹے باہر ہیں اور اوور لوڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، یوں مسافر دربدر اور پریشان ہیں نہ تو بسیں ملتی ہیں اور نہ ہی ویگنوں اور رکشوں کی حالت بہتر ہے اور پھر رکشا والے کرایہ بھی زیادہ لیتے ہیں کہ میٹر کا کوئی نظام نہیں ہے، ہمارے گھر سے دفتر کا سفر قریباً دس کلو میٹر ہے، اس کے لئے عمومی طور پر دو سو روپے اور کبھی کبھار 180 روپے میں رکشا آتا ہے، یوں ادائیگی 18سے 20روپے فی کلو میٹر کے حساب سے کرنا پڑتی ہے، اس سے عوام کو بہت بوجھ اور شرمندگی برداشت کرنا پڑتی ہے۔

صوبائی حکومت خصوصاً وزیر اعلیٰ پنجاب نے عوا کو سفری سہولتیں پہنچانے کے لئے میٹرو بس چلائی، اب میٹرو اورنج ٹرین بن رہی ہے، اس کے علاوہ میٹروبس اور میٹروٹرین تک مسافروں کو پہنچانے کے لئے شٹل بس سروس بھی چلانا مقصود ہے، بتایا گیا کہ اب تک دو سوبیس بسیں آچکی ہیں، ان کے روٹ بھی متعین کردیئے گئے اور یہ بسیں روٹ پر سروے کے طور پر سفر بھی کررہی ہیں تاہم مسافر نہیں بٹھائے جارہے، معلوم نہیں کس وقت کا انتظار کیا جارہا ہے۔ جب افتتاح ہوگا اگر اور نج ٹرین کی تکمیل کا مسئلہ ہے تو اس میں وقت لگے گا، اس وقت تک یہ بسیں کیا کریں گی؟ کیا اسی طرح روٹ ٹرائل ہوتا رہے گا؟ کیا خادم اعلیٰ اپنے محکمہ ٹرانسپورٹ کو یہ مسائل حل کرنے کی ہدائت اور شنل بس سروس شروع کرنے کا حکم دیں گے؟ کہ عوام کو سہولت تو ملے۔

مزید :

کالم -