فراڈ کہانی (1)

فراڈ کہانی (1)
 فراڈ کہانی (1)

  

کچھ دن پہلے سڑک کنارے ایک ادھیڑ عمر عورت رو رہی تھی۔ پتہ چلا کسی نے کال کرکے اسے بتایا اس کی انعام میں گاڑی نکل آئی ہے۔ سادہ لوح عورت تھی،اس کے جھانسے میں آگئی۔ دس ہزار روپے خرچ کے نام پر دھوکے باز کے بتائے ہوئے طریقے سے دے بیٹھی اور اب شوہرکے غصے سے نکال دینے کے بعد رو رہی تھی۔ بے نظیرانکم اسکیم کے نام ہر ایک کو روزانہ میسج موصول ہوتا ہے کہ مبارک ہو، آپ کا تیس ہزار منظور ہوا ہے۔ ظاہر ہے فراڈ ہے جب آپ نے درخواست ہی نہیں دی تو منظوری کیسی؟ لیکن سادہ لوح لوگ تیس ہزار کے چکر میں چار پانچ ہزار گنوا بیٹھتے ہیں اور یہ کھیل روزانہ ہو رہا ہے لیکن کبھی یہ خبر نہیں پڑھی کہ اس کیس میں کوئی گرفتار بھی ہوا ہے حالانکہ میسج بھیجنے والے نے دھڑلے سے اپنا موبائل فون برائے رابطہ ساتھ بھیجا ہوتا ہے۔ میں نے دو تین ’’فراڈ زدہ‘‘ افراد سے درخواست کی کہ مجھے اپنی کہانی تفصیل سے بتائیں میں اسے اپنے الفاظ میں کالم کی شکل میں شائع کراتا ہوں تاکہ ہمارے دوسرے بہن بھائی اس کو پڑھ کر محتاط رہیں لیکن سبھی نے ایک ہی بات کی کہ لوگ مذاق اڑائیں گے،رہنے دیں۔ اتفاق ایسا ہوا ہے ایک کہانی قارئین کے لئے مل ہی گئی ہے اور وہ کسی کی نہیں بلکہ خود راقم کی، تازہ ترین اور سچی۔ لیجئے’’فراڈ کہانی‘‘ پڑھئے۔آپ مذاق اڑائیں یا نہ، راقم کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

جمعرات 9 فروری2017ء وقت دوپہر3 بجکر 41منٹ۔ بمقام سیالکوٹ شہر ، میں اخبار پڑھ رہاتھا کہ میری موبائل ٹیب پر میسج کی کلک ہوئی ۔ میں نے میسج دیکھاتو ’’زونگ‘‘ کمپنی کا تھا جس کے اوپر نمبر کی جگہ ’’MyZong‘‘لکھا تھا یعنی یہ واقعی کمپنی ہی کی طرف سے تھا۔میسج میں ایک 6 ہندسوں کا پن کوڈ تھاجس کے ساتھ یہ تنبیہہ بھی تھی کہ یہ کسی کو بھی نہ بتائیں۔میں نے یہ پن کوڈ اخبار ہی کے ایک کونے میں لکھ لیا لیکن ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ میں نے نہ کوئی نئی سم لی ہے اور نہ ہی زونگ سے متعلقہ کوئی ایپس ڈاؤن لوڈ کی ہے تو اس پن کوڈ کا کیا مطلب ہے؟ تو اسی وقت ایک کال آئی جس کا نمبر 03114302360 تھا۔ دوسری طرف سے پہلے ایک نسوانی آواز آئی کہ ہم دوبئی کے زونگ آفس سے بات کررہے ہیں،کیا آپ کو ہماری طرف سے پن کوڈ کا کوئی میسج آیا ہے ۔ اثبات میں جواب سن کر وہ ’’میٹھی آواز‘‘ بولی کہ آپ کو مبارک ہو ،زونگ کمپنی کی ایک اسکیم ’’جیتوپاکستان‘‘کے تحت پانچ نمبروں کی ایک قرعہ اندازی میں آپ کا بھی پانچ لاکھ کا انعام نکلا ہے۔

یہ کال ہمارے سپر وائزمحمد ندیم کو ٹرانسفر کی جارہی ہے وہی آپ سے بات کریں گے۔ ’’ٹوں ٹوں‘‘ کی آواز اور دفتری ماحول کی آوازوں کے ساتھ ہی ندیم صاحب لائن پر آ موجود ہوئے۔ بولے آپ کو پانچ لاکھ اور چار تولے سونا مبارک ہو۔ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں،جواب دیا کہ محسوس تو اس وقت کریں گے جب یہ سب ہمارے ہاتھ میں ہوگا فی الوقت تو یہ محسوس کررہے ہیں کہ ہمارے سا تھ کوئی ’’فراڈ‘‘ہونے لگا ہے۔ندیم صاحب بہت ہی شائستہ لہجے میں بولے کہ آپ بالکل درست سوچ رہے ہیں کیونکہ آج کل واقعی ہر جگہ فراڈ ہورہے ہیں ، نجی اداروں کے علاوہ سرکاری ادارے بھی فراڈ کررہے ہیں جس کی نمایاں مثال بجلی اور گیس کے محکموں کی ’’اوور بلنگ‘‘ ہے،بہرحال آپ نے موبائل اداروں کی یہ وارننگ تو سنی ہوگی کہ انعامی اسکیم کا میسج کسی نمبر سے نہیں بلکہ ہمیشہ اس کمپنی کے ٹائٹل سے آتا ہے جیسا کہ آپ کو آیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن جس نمبر سے آپ کال کررہے ہیں اس کی جگہ بھی تو بجائے نمبر کے Zongلکھا ہونا چاہئے تھا۔بولے نہیں آپ کوڈ دیکھیں تو یہ نمبر Zong ہی کا ہے اور دوسری بات یہ کہ ہم آپ سے کچھ مانگ نہیں رہے بلکہ کمپنی کی طرف سے آپ کو انعام بھیجنے کے لئے مطلوبہ معلومات کی تصدیق کررہے ہیں۔ آپ اپنا شناختی کارڈ نکالیں میں آپ کا نمبر بولتا ہوں،آپ تصدیق کردیں،ندیم صاحب نے میرا نمبر اور پتہ بالکل درست بتایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ سم واقعی آپ ہی کے نام رجسٹرڈ ہے لیکن انعام دینے میں بڑی اڑچن آپ کے موبائل میں بیلنس نہ ہونا ہے اور یہ تین ماہ میں بہت کم استعمال ہوا ہے، کیا آپ اس کی وجہ بتا سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ موبائل نہیں بلکہ TAB ہے جو کہ میں سفر وغیرہ میں استعمال کرتا ہوں یا ptcl انٹر نیٹ نہ آرہا ہوتو متبادل کے لئے یہ رکھ چھوڑا ہے اسی لئے اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

ندیم صاحب بولے کہ اصولاً تو آپ انعام کے حق دار نہیں لیکن چونکہ آپ سید ہیں ، آپ لوگوں سے میں اور میرے بزرگ ہمیشہ سے عقیدت رکھتے ہیں، آپ کے ساتھ کی گئی نیکی آخرت میں میرے کام آئے گی،اس لئے میں آپ کو یہ رعایت دے رہا ہوں کہ آپ اس موبائل نمبر پر فوری طور پر سو سو روپے کے پانچ کارڈ لوڈ کرائیں، میں نے کہا ٹھیک ہے آپ کال بند کریں تو میں ابھی ’’ایزی لوڈ‘‘ کرا لیتا ہوں۔ جواب ملا کہ ایسا تکنیکی طور پر ممکن نہیں کیونکہ یہ سارا ’’پروسیجر‘‘ مکمل ہونے تک رابطہ نہیں ٹوٹنا چاہئے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ آپ انعام کے بعد لوڈ کرائیں۔ یہ میں اپنے حساب سے لوڈ کرتا ہوں کہ بیلنس بھی آپ ہی کے نمبر پر لوڈ ہوجائے اور یہ بھی نہ پتہ چلے کہ یہ ابھی ہوا ہے ۔آپ فوری طور کسی کو بھیج کر یا خود جاکر زونگ کے سو سو والے پانچ کارڈ لے کر ان کو ’’سکریچ‘‘ کرکے وہ نمبر مجھے لکھا دیں میں وہ آپ کے اکاؤنٹ میں جمع کرکے فائل مکمل کرتا ہوں اور یہ انعامی رقم ابھی آپ کے بتائے ہوئے بنک اکاؤنٹ میں بھیج دی جائے گی۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ تسلی ہونی چاہئے کہ ہم نے جو معلومات آپ کو دی ہیں وہ صرف آپ جانتے ہیں یا کمپنی۔ آپ کو بیس منٹ دئیے جارہے ہیں یہ کال خودکار سسٹم کے تحت بند نہیں ہوگی ، جونہی کارڈ آئیں آپ نے صرف ’’ہیلو‘‘ کہنا ہے، لائٹ آن ہوجائے گی اور ہمیں پتہ چل جائے گا۔میں نے بیٹے کو بھیجا تو وہ قریبی دکان سے زونگ کے کارڈ لے آیا لیکن اسی دوران بجائے بیس کے پچیس منٹ ہو چکے تھے۔ کارڈ ’’سکریچ‘‘ کرکے ان کے نمبر کاغذ پر لکھے اور ہیلو کہا۔ رابطہ واقعی قائم تھا ،فوری جواب ملا کہ کارڈ آگئے،انکے نمبر لکھائیے۔پہلا نمبر لکھا دیاتو وہ کچھ دیر بعد بولا کہ یہ آپ کے نمبر پر لوڈ کر دیا گیا ہے اب دوسرے کارڈ کا نمبر لکھائیے۔ (جاری ہے)

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پراناگھسا پٹا لطیفہ دہرا دیا جائے، وہی سنا ہوا لطیفہ کہ ایک شخص نے ایک یہودی سے پوچھا کہ آپ لوگ اتنے عقلمند کیسے ہوتے ہیں،یہودی نے جواب دیا کہ ہم لوگ ایک خاص قسم کی مچھلی کھاتے ہیں جو سو ڈالر کی ایک آتی ہے اگر تم بھی عقلمند ہونا چاہتے ہوتو لاؤ سو ڈالر،اس نے عقلمند بننے کے لالچ میں فوری سو ڈالر ادا کردئے تو یہودی نے اپنے تھیلے میں ایک مچھلی اسے دے دی۔ اس نے مچھلی منہ میں رکھتے ہی شور مچا دیا کہ یہ تو وہی عام مچھلی ہے جو میں فلاں دکان سے ایک ڈالر کی پانچ خریدتا ہوں۔ یہودی بولا، مچھلی کی تاثیر دیکھو پہلے ہی نوالے سے تمہیں عقل آگئی۔اسی لطیفے سے ملتا جلتا میرا حساب بھی ہواکہ پہلا کارڈ نمبر لکھاتے ہی مجھے بھی عقل آگئی ، ندیم صاحب کے دفتر کی لائٹ آن ہوئی کہ نہیں میرے دماغ کی لائٹ آن ہوگئی۔میں ہمیشہ اپنے ملنے والوں سے کہتا ہوں کہ فراڈ کرنے والے ہمیشہ لوڈ منگواتے ہیں یا اسی سے ملتا جلتا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔اب پھر ندیم صاحب کی طرف آتے ہیں۔ بولے کہ دوسرے کارڈ کے ہندسے بولئے۔ دوسرا کارڈ لکھاتے ہوئے میں نے نمبر زکے آخری دو ہندسے جان بوجھ کر اس سوچ کے تحت غلط لکھائے کہ اگر واقعی یہ شخض زونگ کمپنی کا ہے اور کارڈ لوڈ کررہا ہے تو بولے گاکہ کارڈ لوڈ نہیں ہوالیکن ہوا یہ کہ نمبر لکھ کر اس نے حسب سابق کچھ ٹک ٹک کیا اور بولا کہ یہ کارڈ بھی لوڈ ہوگیا اب تیسرا لکھائیے۔میں نے تیسرا،چوتھا اور پانچواں سبھی غلط لکھائے اور موصوف نے بھی ٹک ٹک کرکے سبھی قبول کرلئے اور یہ نوید سنائی کہ آپ کی فائل مکمل ہوگئی ہے۔ آپ کو مبارک ہو ، کیا آپ پسند کریں گے کہ آپ کے انعام کی یہ خبر اخبارات کو جاری کردی جائے ۔ میں نے عرض کیا بڑے شوق سے،نہ صرف خبر بلکہ تصویر بھی(تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ’’چڈو‘‘اس قسم کے ہوتے ہیں) اب مجھے پتہ چل چکا تھا کہ میں ایک فراڈ آدمی سے بات کررہا ہوں اور توقع کر رہا تھاکہ بات اب کسی ایزی لوڈ ٹائپ کی ہوگی اور وہی ہوا۔ ندیم صاحب (یقیناً فرضی نام) بولے کہ جیسا کہ آپ جانتے ہونگے کہ انعامی رقوم پر ٹیکس بھی لاگو ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ بالکل وہ ٹیکس آپ کاٹ لیں۔ بولے نہیں وہ آپ نے پہلے جع کرانا ہوگااور وہ 7500ہے،طریقہ کار ہم بتاتے ہیں، جونہی آپ ٹیکس ادا کردیں گے ہماری ٹیم فوری آپ کا انعام مبلغ سات لاکھ پچاس ہزارلے کر آپ کے گھر پہنچ جائے گی جہاں آپ کو انعام لینے کے بعد انٹرویو بھی دینا ہوگا۔(پہلے یہ رقم اکاؤنٹ میں اور اب ٹیم کے ہاتھ، تضاد نوٹ کریں)اب پھر میری باری تھی،کہا کہ یہ تو بڑا آسان ہوگیا وہ ٹیم جب نقد انعام دے گی تو ہم بجائے 7500کے پورے دس ہزار مع کیک پیسٹری اور گرم چائے ان کی خدمت میں پیش کردیں گے۔ندیم صاحب بولے نہیں یہ طریق کار کمپنی کے ضوابط میں نہیں، انعام حاصل کرنے کے لئے آپ کو ہرصورت پہلے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اب ہم نے مریل سی آواز میں ندیم صاحب سے کہاکہ آپ سے کیا پردہ؟ اتنی رقم فی الوقت ہمارے پاس موجود نہیں، کل ملا کر ہمارے پاس اس وقت چار ہزار کے قریب رقم ہے۔ مشورہ ملا کہ کسی سے ادھار پکڑلیں۔ بیگم سے لے لیں، کہا کہ وہ کبھی نہ دیں گی کیونکہ ہمارا سابقہ ریکارڈ اور ساکھ کافی خراب ہے۔ (بیگم واقعی میرے پاس موجود تھیں ،ساری کاروائی سن اور دیکھ رہی تھیں اور مسلسل کاغذ پر لکھے جارہی تھیں کہ یہ شخص فراڈہے، ان کو خطرہ تھا کہ میں واقعی کہیں ان کو رقم نہ بھیج دوں جبکہ میں بات کی گہرائی تک جانا چاہتا تھا) بہرحال ندیم صاحب سے وقت مانگا گیا تو انہوں نے مہربانی کی کہ پورے بیس منٹ عطا کردئے جس کو التجا کرکے تیس منٹ کرایا گیاساتھ ہی یہ التجا بھی کہ کال کو فی الحال منقطع کردیں اور پورے تیس منٹ بعد ندیم صاحب دوبارہ رابطہ کرلیں۔

میری رہائش مرے کالج روڈ سے زونگ مرکزی دفترپیرس روڈ سیالکوٹ کا فاصلہ پانچ منٹ کی بائیک ڈرائیو ہے۔ پورے سات منٹ بعد میں زونگ کے مرکزی دفتر میں تھا۔ وہاں ذیشان احمد صاحب نامی آفیسر سے ملا۔ اچھے اخلاق والے انسان تھے انہوں نے پوری بات سنی۔ انہوں نے بتایا کہ نہ صرف زونگ بلکہ ہرموبائل کمپنی کے نام سے مسلسل فراڈ ہورہے ہیں لیکن کچھ تولوگ شرم کے مارے بتاتے نہیں اور کچھ ان لوگوں کا کوئی سرکاری ادارہ موثر سدباب نہیں کررہا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زونگ کی طرف سے ’’جیتو پاکستان‘‘ نامی کوئی انعامی اسکیم نہیں چل رہی۔جس نمبر سے یہ کال کی جارہی تھی اس کی سم شیخو پورہ سے کسی عورت کے شناختی کارڈ سے نکلوائی گئی تھی اور زونگ کا وہ پیکج حاصل کیا گیا تھا جوکہ پورے پاکستان کے لئے سارے دن کے لئے ہوتاہے یہی وجہ ہے ندیم صاحب نمبر کو گھنٹوں کے لئے مصروف کردیتے ہیں۔ اسی دوران ندیم صاحب کی کال آگئی۔ زونگ کے آفس میں اسپیکر فون لگا کرکال سنی گئی۔ ندیم صاحب نے پوچھا کہ رقم کا بندوبست ہوا، میں نے کہا کہ بڑی مشکل سے پانچ ہزار روپے کا بندوبست ہوا ہے اگر آپ مزید دو گھنٹے دے دیں تو باقی کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ فرمانے لگے ٹھیک ہے آپ کو طریق کار بتایا جارہا ہے، آپ پانچ ہزار ابھی دس منٹ تک جمع کرادیں اور باقی رقم بھی جونہی آپ جمع کرائیں گے، ٹھیک آدھ گھنٹے کے اندر زونگ کی نمائندہ میڈم ایتھونیاآپ کا انعام لئے آپ کے دروازے پر موجود ہوں گی(زونگ مرکزی آفس کو علم ہی نہیں کہ اتنی بڑی آفیسر ان کو بتائے بغیر انعام دینے سیالکوٹ تشریف لاچکی ہیں) اب ٹیکس جمع کرانے کا جو طریق کار بتایا گیا وہ یہ تھا کہ آپ فوری طور پر کسی بھی موبی کیش کی دکان پر جائیں اور اکاؤنٹ نمبر 03022973943 میں پانچ ہزار روپے جمع کرادیں اور باقی بھی فوری بندوبست کرکے جمع کرائیں کیونکہ میڈم ایتھونیا نے واپس بھی آنا ہے ان کا قیام صرف ایک دن کا ہے۔ زونگ آفس کا شکریہ ادا کرکے میں باہر نکلااور سیدھا سامنے ہی واقع موبی لنک کے مرکزی آفس جا پہنچا اور ان کے ایک آفیسر سے درخواست کی کہ اس اکاؤنٹ نمبر کی تفصیل بتا دیں اور ساتھ ہی وجہ بھی بتا دی۔ آفیسر فرمانے لگے کہ ایسی شکایات بہت زیادہ آرہی ہیں لیکن ہم اپنی کمپنی کے قواعد پر عمل کرتے ہوئے یہ تفصیل مہیا نہیں کرسکتے۔میں نے کہا چلیں اپنا نام ہی بتا دیں انہوں نے فرمایا کہ میں یہ بھی نہیں کرسکتا۔

آئیے اب ندیم صاحب کے تضادات پر غور کرتے ہیں۔ پہلے انہوں نے کہا کہ انعام آپ کے اکاؤنٹ میں جمع کرایا جائے گالیکن بعد میں یہ کام زونگ ٹیم اور پھر میڈم ایتھونیا کو سونپ دیا گیا۔ سچ کی ایک زبان ہوتی ہے لیکن جھوٹے کو بھول جاتا ہے کہ پہلے میں نے کیا کہا تھا۔ زونگ کمپنی چائنہ کی ہے اس کا دوبئی میں کوئی ہیڈ آفس ہی نہیں، موصوف کو اس کا تو علم ہونا چاہئے اور کال سننے والوں کو بھی۔ انعام زونگ کمپنی والے دے رہے ہیں اور اکاؤنٹ اپنی حریف کمپنی موبی لنک والوں کا رکھا ہوا ہے۔سب سے پہلے پانچ لاکھ انعام کا بتایا گیالیکن ندیم صاحب نے اس میں فوری چار تولے سونا بھی شامل کردیا تاکہ ’’آتش لالچ‘‘ مزید بھڑکائی جاسکے۔شروع میں ندیم صاحب نے کہا کہ ہم آپ سے کچھ مانگ نہیں رہے بلکہ صرف معلومات کی تصدیق کرکے انعام آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیں گے لیکن پھر جب دیکھا کہ پنچھی جال میں آچکا ہے تو ٹیکس کے نام سے 7500مانگ لئے۔ندیم صاحب جب بات کررہے ہوتے تھے تو پیچھے یعنی ’’بیک گراونڈ‘‘ سے ماحول کی جو آوازیں آرہی ہوتی تھیں وہ ظاہر کررہی ہوتی تھیں کہ کسی بڑے عملے والے مصروف دفتر سے کال کی جارہی ہے، کبھی آواز آرہی ہے کہ آپ کی کال ٹرانسفر کی جارہی ہے۔ ایک آواز آرہی تھی کہ آپ کا نمبر 4G کردیا گیا ہے ،یعنی اسی طرح کی دفتری باتیں۔ ندیم صاحب نے پروسیجر کے نام سے جب دو تین مرتبہ پانچ منٹ سے زائد وقفہ ڈالا تو معلوم ہوا کہ بیک گراونڈ میں کوئی ریکارڈڈ ٹیپ چل رہی ہے کیونکہ چار منٹ بعد وہ سب دوبارہ Repeat ہونا شروع ہو جاتا تھا لیکن یہ سب اس وقت معلوم ہوا جب سو روپے کا کارڈ ان کو بتایا جاچکا تھا۔

اب آخر میں انکے فائنل طریق کار کی بات کرتے ہیں۔ان کے گروہ میں یقیناًان کا کوئی بھائی یا رکن زونگ کمپنی میں ملازم ہے جو ایسے کسی نمبر کی معلومات ڈھونڈتا ہے جس کا بیلنس صفر ہوچکاہو یا بہت کم ہو۔ جو بہت کم استعمال ہو رہا ہو، کمپنی کے پاس شناختی کارڈ کی کاپی اور دیگر معلومات کی رسائی ہوتی ہے مثلاً والدہ کانام جو شناختی کارڈ پر نہیں ہوتایعنی وہ معلومات جن کا علم یا تو کمپنی کو ہو یا صارف کو۔ یہ سب معلومات زونگ کا یہ ملازم ندیم صاحب یا انکے گروہ کو دے دیتا ہے اور ساتھ ہی اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھاکر MY ZONG کے ٹائٹل سے ایک پن کوڈ والا میسج بھی جس کو لوٹنا ہوتا ہے اس نمبر پر بھیج دیا جاتا ہے ۔ اس میسج میں یہ واضح لکھا ہوتا ہے کہ اس پن کوڈ کا تعلق کسی انعامی اسکیم سے نہیں ہے(یقیناً اپنی پوزیشن محفوظ رکھنے کے لئے تاکہ شکایت کی صورت میں کہا جا سکے کہ دیکھیں ہم نے تو کہا ہے کہ یہ انعامی اسکیم کے لئے نہیں ہے)چونکہ یہ میسج انگلش میں ہوتا ہے اس لئے عام آدمی تو پڑھتا نہیں دوسرے میسج موصول ہوتے ہی ندیم صاحب کی کال آجاتی ہے تاکہ دوسراا یہ میسج تفصیل کے ساتھ نہ پڑھ سکے ، ساتھ ہی فون کو گھنٹوں کے حساب سے مصروف کردیا جاتا ہے تاکہ دوسرے کو میسج وغیرہ چیک نہ کرنے دیا جائے۔

کالم مکمل کرنے کے بعد آج ہفتہ 11 فروری کو میں نے دوسرے نمبر سے آواز بدل کر اسی نمبر پر دبارہ کال کی تو پوچھا کہ کون صاحب بات کررہے ہیں۔ جواب ملا، محمد ندیم سپر وائزر زونگ آفس بلیو ایریا، اسلام آباد۔ میں نے سوچا اس کی تصدیق بھی کر ہی لینی چاہئے تاکہ کالم ہر لحاظ سے مکمل ہو،میں پھر زونگ آفس جا پہنچا۔ ذیشان صاحب چھٹی پر تھے۔ رانا سعید صاحب ملے انہوں نے اپنے نمبرسے ندیم صاحب کو کال کی تو جواب میں یہی بتایا گیا۔ ندیم صاحب کو جب بتایا گیا کہ یہ کال بھی زونگ آفس ہی سے کی جارہی ہے تو وہ گھبرا گئے۔ ان سے کہا گیاکہ وجیہہ الحسن نامی ایک صاحب 7500 ٹیکس جمع کرانے آئے ہیں انکے انعام کا کیا کرنا ہے۔ جواب ملا یا تو آپ پاگل ہیں یا وجیہہ الحسن۔ دوستو واقعی وجیہہ الحسن پاگل ہے جو اس آس پر مسلسل ٹھگوں کو ووٹ دے رہا ہے کہ شائید!

یہ کالم صرف اس نیت سے لکھا گیا ہے کہ اپنے سادہ لوح بہن بھائیوں کو ان لوگوں کے طریق کار سے آگاہ کرکے ان کو ایسے ٹھگوں سے بچایا جائے کیونکہ حکومت ہو،ادارے ہوں یا کوئی اور،ان پر کوئی بھی سخت ہاتھ ڈالنے پر سنجیدہ نہیں۔اگر کالم پڑھ کر پانچ دس لوگ بھی ان ٹھگوں سے بچ گئے تو یہ نیکی میرے کام آئے گی۔ یہی میرا انعام ہے۔

مزید :

کالم -