یہ جنگ ایسے نہیں جیتی جا سکتی

یہ جنگ ایسے نہیں جیتی جا سکتی
 یہ جنگ ایسے نہیں جیتی جا سکتی

  

ہم بھی ایک عجیب نظام کی زد میں ہیں، بڑے سے بڑا سانحہ ہوجائے تب بھی اکٹھے نہیں ہوتے بلکہ حکمران طبقے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتے ہیں۔ سیہون شریف کے خودکش حملے کی وجہ سے قوم صدمے میں ہے، لیکن اوپر کی سطح پر ایک جنگ چھڑ چکی ہے۔ پیپلزپارٹی والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کہاں ہیں؟ امن و امان جب صوبائی معاملہ ہے تو یہ ذمہ داری بھی صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ سیکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہیں کر سکی۔ وفاقی وزیر داخلہ کا فرض تو بنتا تھا کہ وہ سیہون شریف پہنچتے، حالات کا جائزہ لیتے، زخمیوں کی عیادت کرتے اور چلے جاتے، مگر صرف اس بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف طعن و تشنیع کے تیر چلانا کہاں کی عقلمندی ہے جبکہ دشمن پوری طرح ہماری تاک میں ہے اور کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ چودھری نثار علی خان کا یہ جواب بھی نا مناسب ہے کہ اگر تنقید کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وہ سب کا کچا چٹھا کھول دیں گے۔ ایک ایسے ملک میں کہ جہاں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں سینکڑوں لوگ آئے روز نشانہ بنتے ہوں، وہاں ملک کی حکمران اشرافیہ دہشت گردوں کے خلاف منظم ہونے کی بجائے بچگانہ لڑائی کے مناظر پیش کر رہی ہے۔ کیا اس ’’سنجیدگی‘‘ سے ہم دہشت گردوں کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں؟

اُدھر سیہون شریف سے یہ خبر بھی سامنے آ چکی ہے کہ خودکش دھماکے میں ریزہ ریزہ ہونے والوں کے اعضا کو سنبھالنے کی بجائے گندے تالاب میں پھینک دیا گیا۔ خورشید شاہ کا تجاہل عارفانہ ملاحظہ فرمائیں کہ وہ ان اعضا کے پانی میں تیرنے کو دھماکے کی شدت کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں کہ دھماکے کی وجہ سے وہ اڑ کر وہاں پہنچ گئے۔ کس قدر بے حسی اور سفاکی ہمارے سیاستدانوں و حکمرانوں میں آچکی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں انسانی اعضا اور باقیات کی پانی کے تالاب میں موجودگی تو یہ چغلی بھی کھا رہی ہے کہ سیہون شریف دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے جو ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئے، اُن کا تو کہیں شمار ہے اور نہ اندراج۔ ویسے بھی جب مزاروں پر زائرین آتے ہیں تو وہ مقامی نہیں ہوتے۔ لال شہباز قلندر کے مزار پر تو پورے سندھ سے لوگ آتے ہیں۔ اُن کے تو ورثا کو بھی بہت بعد میں خبر ہوتی ہے کہ جو گھر سے گیا تھا، وہ دنیا سے جا چکا ہے۔ کم لاشیں شمار کرنے کی حکمت عملی پہلے تو اس خیال سے اختیار کی جاتی تھی کہ خوف کم پھیلے، مگر اب اس خیال سے بھی اختیار کی جاتی ہے کہ حکومت کو 15 لاکھ روپے فی کس کے حساب سے جو پیسے دینے پڑتے ہیں، وہ بچ جائیں۔ سیہون شریف میں خودکش دھماکے سے جو تباہی پھیلی، وہ اس لئے بھی پورے ملک میں شدت کے ساتھ محسوس کی گئی کہ اس کے بعد ریسکیو سرگرمیوں میں شرمناک حد تک ناکامی کے باعث زیادہ اموات ہوئیں۔ صدیوں سے قائم شہباز قلندر کا مزار سندھ حکومت کی آمدن کا ذریعہ بنا ہوا ہے پھر یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ یہاں ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں۔ بھلے یہ شہر چھوٹا ہے، مگر یہاں انسانوں کی آمدورفت بڑے شہروں سے بھی زیادہ ہے، یہاں سہولتیں فراہم کی جانی چاہئے تھیں۔ ہسپتال سے مزار تک پہنچنے کے لئے سڑکوں کا جال بچھایا جانا چاہئے تھا، کسی ناگہانی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے ریسکیو کے تمام اسباب مہیا ہونے چاہیے تھے، مگر سندھ کے تخت پر بیٹھنے والے حکمرانوں کا علاقہ ہونے کے باوجود اسے ہر لحاظ سے پسماندہ اور محروم رکھا گیا، جس کے باعث دھماکے کی شدت اور بڑھ گئی۔ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی، جائے وقوعہ سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔

کیا ستم ظریفی ہے کہ ہمارا نظام نہ عوام کو دہشت گردوں سے بچانے میں کامیاب ہے اور نہ ہی دہشت گردی کے سانحہ کو سنبھالنے پر قادر ہے، اس لئے عوام خود کو بے یارو مدد گار سمجھنے لگے ہیں۔ ایک ستم ظریف نے سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ لگائی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری شوکت بسرا کو تو پنجاب سے زخمی حالت میں لانے کے لئے ہیلی کاپٹر بھیج دیتے ہیں سیہون شریف سے زخمیوں کو لانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے..... ایک دوسرے دل جلے نے یہ لکھا ہے کہ آصف علی زرداری پاکستان واپس آ کر ڈاکٹر عاصم حسین کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں، مگر سیہون شریف دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال نہیں جاتے..... ’’ہم حالتِ جنگ میں ہیں‘‘ ۔۔۔یہ جملہ آئے روز سننے کو ملتا ہے اور یہی اشرافیہ اس جملے کی گردان کرتی ہے، مگر خدا لگتی کہئے کہ کہیں سے یہ لگتا ہے کہ حکمران اشرافیہ اپنے رویوں سے ثابت کر رہی ہے کہ وہ حالتِ جنگ میں ہے۔ جنگ کی حالت میں تو سب اختلافات، سب مفادات پس پشت ڈال دیئے جاتے ہیں سب متحد و یک جان ہو کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہاں تو نا اتفاقی قدم قدم پر نظر آتی ہے۔ جہاں تک مفادات کا تعلق ہے تو سب ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کتنے بڑے بڑے سانحے ہو چکے ہیں۔ چند دنوں میں سینکڑوں پاکستانی جان کی بازی ہار گئے ہیں، مگر ابھی تک کسی طرف سے بھی یہ کوشش نہیں کی گئی کہ اس مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھا جائے، فوراً ایک قومی کانفرنس بلائی جائے، مشترکہ پارلیمینٹ کا اجلاس طلب کیا جائے، ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف فورسز کو مکمل کارروائی کا مینڈیٹ دیا جائے۔ سب اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں اور ایک دوسرے کو کچھ نہ کرنے کے طعنے دے رہے ہیں۔ ہماری سیاسی صفوں میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو دہشت گردوں کو معتوب قرار دینے کی بجائے الٹا قومی اداروں اور ہماری خفیہ ایجنسیوں کو الزام دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی موجودگی کے باعث بھی حکومت یہ ہمت نہیں کرتی کہ مشترکہ اجلاس بلائے۔ ویسے بھی پاناما لیکس کی وجہ سے الزامات کی زد میں آئی ہوئی حکومت معاملات کو بالا بالا ہی حل کرنا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے جب یہ صورت حال ہو تو کامیابی کا تناسب آدھا رہ جاتا ہے۔

دہشت گردی کی اس نئی لہر کے بعد فوجی آپریشن شروع ہو گیا ہے، پولیس کی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے، دہشت گردوں کو مارنے کی اطلاعات مل رہی ہیں، مگر جو مل نہیں رہا،وہ سیاسی اتفاق اور عزم ہے، جو دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے ضروری ہے۔ سیاسی قیادت اس حوالے سے بٹی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے بھی پوائنٹ سکورنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اپوزیشن حکومت کو یہ کریڈٹ ملتا نہیں دیکھنا چاہتی کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف قوم میں اتفاق رائے پیدا کر کے کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری طرف حکومت کی یہ کوشش ہے کہ اپوزیشن کی اس حوالے سے تنقید کو کسی طرح ناکام بنایا جائے۔ فوجی عدالتوں کے دوبارہ قیام پر متفق نہ ہونے والے دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق آپریشن پر کیسے متفق ہو سکتے ہیں؟ سیاسی عزم و ارادے کے بغیر صرف فوج کے سہارے دہشت گردی کو ختم کرنے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ضرب عضب اس لئے کامیاب ہوئی تھی کہ اس میں پوری قوم اور سیاسی قیادت فوج کے ساتھ ایک پیج پر آ گئی تھی۔ آج یہ صورت حال ہے کہ ابھی اس سمت میں کوئی قدم ہی نہیں اٹھایا جا سکا۔ عدم اتفاق کا یہ حال ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو تو الزام وفاقی حکومت کو دیا جاتا ہے۔ سندھ میں ہو تو وفاقی وزیر داخلہ پر تنقید کی جاتی ہے، کوئی اپنی ناکامی اور غفلت کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں، حالانکہ دہشت گرد جب ہمیں نشانہ بناتے ہیں تو ان کے ذہن میں قطعاً مرکز یا صوبے کی تفریق نہیں ہوتی، نہ ہی وہ صوبے کو مرکز سے لڑانے کے لئے، حکمت عملی کے تحت کام کرتے ہیں، ان کا مقصد تو پاکستانیوں کو نشانہ بنانا ہوتا ہے تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے۔

مگر کیا کیا جائے اس سیاست نا ہنجار کا کہ جس میں سیاسی مفادات قومی مفاد پر غالب آ جاتے ہیں۔ لاشوں پر بھی سیاست کی جاتی ہے اور اختلافات بھی برقرار رکھے جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ جنگ ہم کیسے جیت سکتے ہیں؟ بھارت کو آئے روز الزامات دینے کی بجائے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ بھارت میں تو قومی مفاد کے حوالے سے اس قسم کی سیاسی تفریق موجود نہیں، جیسی ہمارے ہاں نظر آتی ہے۔ اس تفریق سے فائدہ اٹھا کر دشمن ہم پر وار کرتا ہے۔ کوئی ہمیں سمجھائے کہ دنیا میں وہ کون سا دوسرا ملک ہے جو ہماری طرح دہشت گردی کا نشانہ بنا ہو اور اس کی سلامتی کی ذمہ دار وزارتِ داخلہ اور صوبوں کی حکومتوں کے مابین اس قسم کا ٹکراؤ ہو، جیسا ہمارے ہاں نظر آ رہا ہے؟ جو ایک دوسرے کی بات تک سننے کو تیار نہ ہوں تو وہ لوگ ہمارے شہروں کو بارود سے کیسے بچا سکتے ہیں، دشمن کو ہم پر حملہ آور ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں۔ کوئی ہے جو اس نکتے پر غور کرے...نہیں صاحب کوئی نہیں، وہ سب چونکہ خود بلٹ پروف گاڑیوں میں گھومتے ہیں اس لئے انہیں اس کی پروا نہیں کہ کون کب انسانی لاشوں کے انبار لگاتا ہے اور انسانی جسموں کے چیتھڑے اُڑاتا ہے۔

مزید :

کالم -