محکمہ ماحولیات کو بااختیار بنانے کا فیصلہ

محکمہ ماحولیات کو بااختیار بنانے کا فیصلہ

  

لاہور ہائی کورٹ نے محکمہ ماحولیات کو آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سربمہر کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ اب محکمہ ماحولیات انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت آلودگی کا سبب بننے والی فیکٹریوں کے خلاف فوری طور پر براہ راست خود کارروائی کرسکے گا۔ مسز جسٹس عائشہ اے ملک نے محکمہ ماحولیات کے اختیار کے حوالے سے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاک ماحول، عوام کی زندگی کے آئینی حق میں شامل ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے انسانی صحت پر ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ انسانی صحت کو آلودگی کے نقصانات سے بچانے کے لئے فوری اقدامات بہت ضروری ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ فیکٹریوں کی وجہ سے ماحول میں آلودگی کی شرح پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے، ضروری ہے کہ فیکٹری مالکان کو مروجہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کے لئے آمادہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں محکمہ ماحولیات ہنگامی حالات میں اختیارات سے محروم چلا آرہا تھا، کسی فیکٹری کے خلاف کارروائی کے لئے ماحولیات سے متعلق ٹریبونل سے رجوع کرنا پڑتا تھا اور حتمی فیصلہ آنے تک کافی دیر ہو جاتی تھی۔ محکمہ ماحولیات کو فوری طور پر کارروائی کا اختیار دینے سے یہ فائدہ ہوگا کہ آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو موقع پر سربمہر کرکے ہونے والے نقصانات پر قابو پایا جاسکے گا۔ انسانی صحت کو فضائی آلودگی کے علاوہ فیکٹریوں کے فضلے کی وجہ سے بھی ایسے نقصانات ہوتے ہیں کہ ان کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔ المیہ یہ ہے کہ نہروں کے کنارے بعض فیکٹریوں کا سیوریج (استعمال شدہ کیمیکلز اور فضلہ) نہروں میں مستقل گرایا جاتا ہے، جس سے نہری پانی پینے کے قابل نہیں رہتا اور کاشتکاری کے لئے بھی استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ میڈیا اور کاشتکاروں کے ذریعے اس کی نشاندہی ہوتی رہتی ہے، متعلقہ محکمے حتیٰ کہ صوبائی حکومت کی طرف سے بھی صاف پانی کو زہر آلودہ ہونے سے بچانے کے لئے ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے کئی مراحل آسانی سے طے ہو سکیں گے۔ عدالتِ عالیہ نے یہ طے کردیا ہے کہ انوائرمنٹ پر وٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 16کے تحت محکمہ ماحولیات کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ماحولیاتی ٹریبونل سے رجوع کئے بغیر آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سربمہر کر دیا جائے۔ اس کارروائی کے خلاف ٹریبونل میں اپیل کی جاسکے گی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ماحولیاتی کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے، دوسرے لفظوں میں محکمہ ماحولیات پر ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔

مزید :

اداریہ -