کشمیریوں نے مجاہدین کی موجودگی کے نام پر فوجی آپریشن کی کوشش ناکام بنا دی

کشمیریوں نے مجاہدین کی موجودگی کے نام پر فوجی آپریشن کی کوشش ناکام بنا دی

  

سرینگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کی دھمکی کو خاطر میں لا ئے بغیر پلوامہ کے عوام نے مجاہدین کی موجودگی کے نام پر فوجی آپریشن کی کوشش ناکام بنا دی ،خواتین اور بچوں سمیت پوری آبادی محاصرہ توڑ کر باہر نکل آئی، فورسز پر زبردست پتھراؤ،بھارتی سورماؤں کو بھاگ کر جان بچانا پڑی،لوگوں پر مبینہ مجاہدین کو فرار کرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ بٹہ گنڈ میں عمر رسیدہ امام کا بیٹا 11سال سے جرم بے گناہی میں قید،جیل میں ہونے کے باوجود 13ویں بار سیفٹی ایکٹ لاگو کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق چار روز قبل بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے دھمکی دی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کو مدد فراہم کرنے ،محاصرہ توڑنے یا کسی فوجی آپریہشن کے دوران وہاں جانے اور رکاوٹ ڈالنے والوں کو ملک دشمن تصور کر کے غداری اور بغاوت کے الزامات کے تحت کے تحت کارروائی کی جائے گی۔اس بیان کے بعد مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھی ایک حکم جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جس علاقے میں فوج آپریشن کرنا چاہے گی وہاں از خود دفعہ 144نافذ ہو جائے گا اور کسی کو وہاں جانے یا گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی تاہم کشمیریوں نے ان تمام احکامات اور دھمکیوں کو پلوامہ میں اس وقت جوتے کی نوک پر رکھا ہے جب وہاں بھارتی فورسز نے مجاہدین کی موجودگی کے نام علاقے کا محاصرہ کر کے آپریشن کی کوشش کی ۔علاقے میں جیسے ہی بھارتی فوج نے محاصرہ کر کے آپریشن کا اعلان کیا اور لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی تو خواتین اور بچوں سمیت پوری آبادی اندر رہنے کی بجائے سڑکوں پر نکل آئی اور بھارتی فوج کے لتے لینے شروع کر دئیے۔

واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ایس او جی پلوامہ اور فوج کی55آر آر سے وابستہ اہلکاروں نے دوپہر دو بجکر30منٹ پر اچانک اورون پلوامہ علاقے کو گھیرے میں لیا اور دعویٰ کیا کہ فورسز کو علاقے میں لشکر طیبہ کے دو مبینہ مجاہدین موجود ہیں اس لئے گھر گھر تلاشی لی جائے گی ،اس لئے لوگ گھروں کے اندر ہی رہیں اور فورسز کے ساتھ تعاون کریں ۔نہی فورسز اہلکاروں نے گاؤں میں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا توسینکڑوں کی تعداد میں مردوزن ، بوڑھے اور بچے گھروں سے باہر آکر احتجاج کرنے لگے اور انہوں نے فورسز کو تلاشی لینے سے روک دیا۔اسی دوران مقامی مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں پر نعرے بازی کے بیچ لوگوں سے گھروں سے باہر آنے کی اپیل کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے نیوہ ، نامن بارہ بل اور کا کہ پورہ سے لوگوں کا کا ہجوم باہر نکل آّیا اور فورسز کی جانب دوڑ لگا دی ۔ فورسز نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے بیک وقت کئی اطراف سے فورسز پر زبردست پتھراؤ شروع کیا۔ جب پتھراؤمیں شدت پیدا ہوئی مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے پہلے لاٹھی چارج کیا گیا اور بعد میں اشک آور گیس کے گولے داغے گئے تاہم مظاہرین نے مزاحمت جاری رکھی اور قابض فورسز کے اہلکاروں کو بھاگ کر جان بچانا پڑی ۔باھرتی فوج کے مطابق پتھراؤ احتجاج اور افراتفری کے بیچ ہی علاقے میں موجود مجاہدین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔فورسز اور پولیس کی بھاری تعداد ساڑھے چار بجے تک علاقے میں موجود رہی تاہم زوردار مزاحمت اور احتجاج کی وجہ سے ان کی تمام تر توجہ مبینہ مجاہدین کو ڈھونڈ نکالنے کے بجائے صرف سنگباز ی کرنے والے لوگوں پر ہی مرکوز رہی اور بعد میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے۔دریں اثناء امام مسجد بٹہ گنڈ ویری ناگ کا فرزندزائد از11برسوں سے اسیر ہے جبکہ بزرگ شہری غلام نبی پیر اپنے لخت جگر سے ملاقات کی حسرت لیکرتڑپ رہا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -