جرمن فوجی نے خواتین سے زیادتی نہیں کی، سینئر نیٹو جنرل

جرمن فوجی نے خواتین سے زیادتی نہیں کی، سینئر نیٹو جنرل

  

برلن(این این آئی)مغربی دفاعی اتحاد کے ایک سینئر جنرل نے کہا ہے کہ روس نے منفی معلومات پھیلانے کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ جرمن فوجی کی جنسی زیادتی کی جھوٹی خبر بھی روس نے پھیلائی تھی۔لیتھونیا میں جرمن فوجی کے ہاتھوں ایک پندرہ سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر نے یورپی ملکوں میں ایک طرح کی سنسنی پھیلا دی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی ملٹری کمیٹی کے چیک جمہوریہ سے تعلق رکھنے والے سربراہ جنرل پیٹر پاول نے کہا کہ یہ ایک غلط خبر ہے اور اس قسم کے کسی فعل کا ارتکاب نہیں کیا گیا۔ جنرل پیٹر نے اس خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ روس کے منفی خبر سازی کا عمل ہے۔ جنرل پاول نے یورپی اقوام کو خبردار کیا کہ وہ اگلے ہفتوں اور مہینوں میں من گھڑت اور بے بنیاد خبریں تسلسل سے سنیں گے کیونکہ روس اس سارے منفی عمل کے پس پردہ ہے۔ انہوں نے اس کی بھی تصدیق کی ہے کہ وہ اگلے ہفتوں کے دوران روسی افواج کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرنے والے ہیں اور ان معاملات کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ جنرل کیمطابق سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کئی یورپی ملکوں کی سرحدوں پر روسی فوجیں جمع کی جا رہی ہیں۔جنرل پاول نے لتھونیا میں رونما ہونے والے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ یہ خبر غلط ہے کہ جرمن فوجیوں کی بیرک کے قریب ایک پندرہ برس کی ٹین ایجر کے ساتھ کسی جرمن زبان بولنے والے نے جنسی زیادتی کا ارتکاب کیا ہے۔ چیک جمہوریہ کے جنرل نے اس واقعے کو غلط اور حقیقت کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ منگل کے روز لیتھوانیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کو لکھی گئی ای میل کی بنیاد پر یہ خبر عام کی گئی ہے۔

جنرل پاول نے بتایا کہ یہ خبر جھوٹ پر مبنی تھی اور اس ای میل کے تناظر میں جرمنی اور لیتھوانیا کے وزرائے دفاع کے درمیان گفتگو بھی ہو چکی ہے۔ نیٹو کے جنرل کا کہنا ہے کہ روس کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ نیٹو افواج کئی سرحدی مقامات پر تعینات کر دی گئی ہیں اور اس باعث منفی پراپیگنڈے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ پاول کے خیال میں روس کے اس منفی پراپیگنڈے میں بہت کچھ خبروں کی صورت میں پیش کیا جائے گا تا کہ سنسنی اور بے چینی پیدا ہو سکے۔

مزید :

عالمی منظر -