شادمان اتوار بازار میں سکیورٹی انتظامات ناقص ، واک تھرو گیٹ بھی خراب

شادمان اتوار بازار میں سکیورٹی انتظامات ناقص ، واک تھرو گیٹ بھی خراب

  

لاہور(بلال چوہدری)شاد مان اتوار بازار میں اشیا خوردونوش مہنگے داموں فروخت کی جاتی رہیں ، واک تھرو گیٹ خراب ،گدا گرو ں کی بھر مار ،در جہ او ل کی سبزیا ں اور پھل غائب ،مصالحہ جات ،مشروبات اور گوشت کا معیار بھی بہتر نہ کیا جا سکا ، وزن کے پیمانے چیک نہ ہونے کی وجہ سے کم وز ن تولنے کی شکایات کا خاتمہ نہ ہو سکا،ناقص ،مضر صحت سبزیاں، گھریلو استعمال کی چیزوں پر من مانے ریٹ،ناکافی سکیورٹی انتظامات،شادمان اتوار بازار ضلعی انتظامیہ کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت بن گئے،پرائس کنٹرول مجسٹریٹس چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنے میں ناکام ہو گئے ،بد انتظامی ،لوٹ مار ،گراں فروشی،سستے اتوار بازار میں آنے والے شہری مہنگے داموں اشیاء خوردو نوش خریدنے پر مجبور ہو گئے۔روزنامہ" پاکستان "کی جانب سے کئے جانے واے سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے صوبائی دارلحکومت کے علاقہ شادمان میں قائم سستے اتوار بازار کی انتظامیہ عوام اور خریداروں کے لئے وبال جان بن گئی ،منہ مانگی قیمت پر ناقص اور حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف اشیا ء خوردونوش کی فروخت معمول بن گئی ہے ۔انجم خان اور عثما ن خالد نے کہا کہ سبزیا ں اور پھل انتہا ئی ناقص کوالٹی کے فروخت کئے جا رہے ہیں جبکہ وزن کے پیمانے بھی چیک نہیں کئے جارہے ، پیاز کی قیمت میں اضا فہ ہو گیا ہے جبکہ ٹماٹر کی قیمت میں کمی ہو ئی ہے ، دیگر سبز یو ں اور پھلو ں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ طاہر اور بلال پرا چہ نے کہا کہ اتوار بازار و ں میں بہتری کی ضرورت ہے اگر حکو مت تو جہ دے تو عوا م کو ریلیف مل سکتا ہے اور اشیا کا معیار بھی بہتر ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ واک تھرو گیٹ خرا ب ہے جس کو صرف نمائشی طور پر لگایا گیا ہے جبکہ پارکنگ کی صورتحا ل بھی ناقص ہے اورگدا گرو ں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ضلعی حکو مت نے ان کو بھی مانگنے کیلئے سرکاری جگہ دے رکھی ہے۔ پرائیس کنٹرول اور اشیاء کی کوالٹی چیک کرنے آنے والے سرکاری اہلکاروں کو بھی بازار میں کھلے عام چیکنگ کی اجازت نہ ہے اور خاص نوازشات کے ذریعے ان کو مطمئن کر دیا جاتا ہے ،ایڈمنسٹریٹر ماڈل بازار سرکاری اہلکاروں کو بھی خاطر میں نہ لاتا ہے اور ماڈل بازار کو اپنی جاگیر بنا کر اپنے رشتہ داروں ،دوستوں کو نوازنے کے لئے سٹال اور دکانیں دے رکھیں ہیں خریدارخرم شہزاد،علی وقار نے بتایا کہ اس بازار میں ہر چیز کا اپنی مرضی کا ریٹ کا مقرر کیا گیا ہے ،مہنگائی کم کرنے کا دعوی کرنے والے حکمران کبھی ادھر کا بھی وزٹ کر لیں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ عوام کس حال میں ہیں اور ان کو ووٹ دے کر منتخب کرنے کی کیا سزا مل رہی ہے پھلوں ،سبزیوں کا یہ معیار ہے کہ کئی کئی دن کی باسی سبزیاں اور پھل فریج میں رکھ کر دوبارہ انہیں سٹال پر سجا کر فروخت کیا جارہا ہے ان زائد المیعاد سبزیوں اور پھل کھانے سے فوڈ پوازننگ اور دوسری بیماریاں بھی لاحق ہونے کا خدشہ ہے ،کئی بار ایڈمنسٹریٹر بازار سے شکایت کرنے کو گئے ہیں لیکن انہوں نے بازار میں اپنی علیحدہ دھونس اور زبردستی قائم کر رکھی ہے ۔مراتب علی اور غلام رسول نے کہا کہ کیونکہ اس بازار کا ایڈمنسٹریٹر ہر قانون اور ضابطے سے آزاد ہے اسی کے بل بوتے پر اس کے کارندے بھی ہر قانون ،ضابطے اور لحاظ شرم سے آزاد ہیں ،ہم ادھر صرف مجبور ی میں آتے ہیں اور لاوارثوں کی طرح اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کر ساتھ میں مفت کی بے عزتی کروا کر گھر چلے جاتے ہیں ،پرائیویٹ مسلح گارڈز کی جانب سے گراں فروشوں کو تحفظ فراہم کرنا اور مختلف سیاسی امیدواران کے ساتھ منسوب کرتے ہوئے گراں فروشوں کو قانون و ضوابط سے بری الذمہ قرار دیئے جانے پر زور دیا جا رہا ہے ۔علاقہ کے مقامی شہریوں کی کثیر تعداد اور غنڈہ گردی اور اوورچارجنگ اور انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی۔میئر لاہور اور ڈپٹی کمشنر لاہور اس کا نوٹس لیں اور اس بازار کی صورتحال کو درست کریں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -