بینکوں کو کالعدم تنظیموں اور وابستہ افراد کو سروس فراہمی سے روکدیا گیا

بینکوں کو کالعدم تنظیموں اور وابستہ افراد کو سروس فراہمی سے روکدیا گیا

  

رحیم یارخان(ڈسٹرکٹ رپورٹر)سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گائیڈ لائنز آن کمپلائنز کے پیراگراف 6 میں چار ترامیم کی ہیں اور اب نئی ترمیم کے مطابق ملک بھر کے بینکوں کو جاری کردہ ہدایات میں انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کو مالی معاونت روکنے کے قواعد کے(بقیہ نمبر43صفحہ12پر )

زمرے میں آنے ولی کالعدم تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کو نہ صرف بینکنگ سروسز فراہم کرنے روک دیا گیا گیا ہے کہ بلکہ بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی تنظیم کے اکاؤنٹس کے بارے میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کے مالکان، ڈائریکٹرز، ممبرز ، ٹرسٹیز اور مجاز افسران کا تعلق کسی کالعدم تنظیم یا فرد سے تو نہیں اور کسی بھی کالعدم تنظیم کا اکاؤنٹ اسی نام یا کسی دوسرے مختلف نام سے تو نہیں۔ بینکوں کو جاری کردہ گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ کسی ایسی ایسوسی ایشن،ادارے کا کالعدم تنظیم یا فرد سے تعلق کا تعین کالعدم تنظیموں پر لگائی گئی پابندی کی فہرست، واچ لسٹ کی سکریننگ، این ٹی این کی آن لائن تصدیق کے ذریعے رابطوں، حکومتی یا ریگولیٹری ذڑائع یا معتبر میڈیا سے حاصل ہونے والی معلومات سے کیا جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -