دہشتگردوں کے ممکنہ سہولت کار ۔۔۔۔۔۔

دہشتگردوں کے ممکنہ سہولت کار ۔۔۔۔۔۔
 دہشتگردوں کے ممکنہ سہولت کار ۔۔۔۔۔۔

  

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر دہشت گردی اور تخریب کاری کو جڑ سے اکھاڑنے کا جو عزم کیا ہے اور گزشتہ تین روز سے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں، وہ واقعتا قابل تحسین اور لائق ستائش ہیں۔ پوری قوم (پاکستانی عوام و خواص) اس پر اطمینان کا اظہار بھی کر رہی ہے اور قانون نافذ کرنے اور ملک و قوم کی حفاظت میں سعی و کوشش کرنے والے اداروں کے لئے دعاگو بھی ہے۔ گزشتہ تین دن میں جس تیزی سے مؤثر ترین کارروائیاں کرتے ہوئے، دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور تخریب کاروں کو نیست و نابود کیا گیا ہے، وہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت کی قومی تڑپ اور عزم و اخلاص کا مظہر ہے۔ افغانستان کی احساس ناشناس سیاسی قیادت اور وہاں موجود اصل طاقت ور اور ناٹو افواج کے سربراہ، امریکی جنرل نکلسن سے جن الفاظ اور جس لہجے میں بات کی گئی ہے، اس سے بھی دہشت و تخریب کے خاتمے کے اقدامات کی اثر گیری کا اندازا ہوتا ہے۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان دنوں جیسی برق رفتاری اور موثر طریقے سے یہ سلسلہ جاری رہا تو جلد ہی ’’ضرب عضب‘‘ اپنے کامیاب اور منطقی اختتام کو پہنچ جائے گی۔ قوم شروع دن سے، اسی اضطراب ، اسی برق رفتاری اور اسی طرح کے مؤثر اقدامات کی آرزو مند تھی، اب بھی وہ خوش کن حیرانی میں مبتلا ہے کہ ایک ہی دن میں خود کش بمبار کو پکڑ لیا گیا اور اس سے سارا منصوبہ بھی معلوم کر لیا گیا، نیز ایک ہی دن میں سو سے زیادہ دہشت گردوں کوپکڑ کر کیفرکردار تک پہنچا دیا گیا۔ اس خوش کن حیرانی کے ساتھ ساتھ، قوم کے ہر فرد کے دل کی صدا ہے کہ اس تیزی اور نتیجہ خیز مہم کو جاری رکھا جائے، پوری قوم، اس کار خیر میں اپنے اداروں اپنی (سیاسی و عسکری) قیادت کے ساتھ ہے۔

گزشتہ روز پاک فوج کے ادارے(آئی، ایس، پی آر) نے اس کار خیر میں عوام کو شامل کرنے کی خاطر خیبرپختون خوا میں 1132 اور باقی پورے پاکستان سے 1135کے فون نمبر جاری کئے ہیں، تاکہ ہر فرد، اپنی قومی ذمہ داری جانتے ہوئے اپنے اردگرد، اپنے ماحول اور محلہ و گلی میں ہونے والی، کسی بھی مشکوک سرگرمی یا کسی بھی مشکوک فرد کے بارے میں آگاہ کر دے ۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے، اب ہر پاکستانی بھی، تخریب و غارت کے خلاف اس مہم میں، اپنی فوج اور دیگر اداروں کے شانہ بشانہ، کردار ادا کر سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ان نمبروں کو مزید عام کیا جائے ذرائع ابلاغ، بلدیاتی اداروں ، مساجد اور تعلیمی اداروں کے ذریعے ، بچے بچے تک، ہر ایک پاکستانی کو اس معاملے کی اہمیت اور اس کی اپنی ذمہ داری سے آگاہ کیا جائے نیز یہ آگاہی مہم، مختصر دورانیہ کی نہیں ہونی چاہئے، بلکہ اس کو مستقل کیا جائے، بلکہ نصاب تعلیم میں لازمی طور پر شامل کر کے، دینی و دنیاوی تعلیمی مراکز میں راسخ کیا جائے۔ عوام کے ہر طبقے میں جب دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے خلاف متحرک ہونے اور اپنا کام کرنے کی تڑپ پیدا ہو جائے گی تو وہ اپنے اندر گھسے ان مجرموں کے گریبانوں پر ہاتھ ضرور ڈالیں گے، جو ان دہشت گردوں کو ’’سہولت‘‘ فراہم کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ دو، دن میں جس تیز رفتاری سے، نتیجہ خیز کارروائیاں کی ہیں، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ ان اداروں کو بھی، خوب احساس ہے کہ اصل ’’سہولت کار‘‘ کون ہیں اور کہاں کہاں موجود ہیں؟ وہ انہی لائنوں پر آگے بڑھ کر انہیں آہنی شکنجے میں جکڑ رہے ہیں۔ ہم اس کامیاب مہم پر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ جو کچھ خود جانتے یا سمجھتے ہیں، ملک و قوم کے مفاد میں وہ بھی لکھنا چاہتے ہیں، ممکن ہے کارروائی کرنے والے ، ادارے احساس کرتے ہوئے، اس طرف مزید توجہ دیں۔

بعض معلومات کی وجہ سے، ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کے سب سے اہم اور مفید’’سہولت کار‘‘ ہمارے ہاں کے منشیات فروش ہیں، جو منشیات، علاقہ غیر، بالخصوص ان علاقوں سے منشیات خرید کرتے ہیں، جو بدقسمتی سے ان دہشت گردوں کے مراکز رہے ہیں۔ ہم بخوبی سمجھتے ہیں کہ تخریب کاروں کی آمدن کا ایک ذریعہ منشیات بھی ہیں۔ وہ منشیات (افیون ، چرس) سے نہ صرف مال و دولت حاصل کرتے ہیں، بلکہ ہمارے ہاں کے منشیات فروشوں کی ’’مہمان نوازی‘‘ سے اپنے مذموم مقاصد بھی پورے کر لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ’’ناجائز فروش‘‘ نہ صرف دولت مند ہوتے ہیں، بلکہ ان کے پاس ذرائع آمد و رفت کی سہولتیں بھی ہوتی ہیں اور افرادی قوت بھی، نیز ان کو جرم کرنے میں کوئی جھجھک بھی نہیں ہوتی۔ ہماری عام توجہ دینی اداروں تک محدود رہتی ہے۔ ہم نے صرف یہ سمجھ رکھا ہے کہ خون کے یہ پیاسے صرف ’’مساجد و مدارس‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں، حالانکہ اسلامی تعلیمات، کسی بھی طرح کی سفاکیت و بہیمیت اور قتل و غارت کی اجازت نہیں دیتیں۔ بے گناہوں کا خون بہانے والا کوئی بھی فرد مسلمان کہلانے کا کسی طرح بھی حق دار نہیں ہو سکتا۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے اس تخریب کاری اور دہشت گردوں کو اسلامی تعلیمات کی غلط اور غیر حقیقی تعبیرات سے پراگندہ کر دیا گیا ہے۔ (اس کے خلاف حکومتی اداروں کو، ہر حال میں، علما کرام اور دینی اداروں کو متحرک کرنا چاہئے کہ وہ کھل کر اور واضح الفاظ میں ان تخریب کاروں کی اسلام سے علیحدگی اور اپنی نفرت کا اظہار کر کے اسلام کی اصل تعلیمات و تعبیرات کو واضح کریں۔)

ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ دہشت گرد، کسی نہ کسی طرح انہی تنظیموں سے راہ و رسم رکھتے رہے ہیں جو کسی وقت، ’’جہاد افغانستان‘‘ میں شریک رہی ہیں یا وہ تنظیمیں جو ’’عسکریت کی تعلیم و تربیت‘‘ میں لگی رہی ہیں، ان کے ’’اصلاحی دور‘‘ میں، شدت پسند، ان سے الگ ہو کر کہیں اور غلط راہوں کے مسافر بن گئے، اب وہ ’’مسافر‘‘ جب آگ و خون کا کھیل کھیلنے کی خاطر، ہمارے شہروں کا رخ کرتے ہیں تو اپنے پرانے تعلق داروں اور واقف کاروں کی ’’مہمان نوازی‘‘ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں ایسے کند ذہن اور ’’غلط نظریہ رکھنے والے بھی موجود ہیں جو ان تخریب کاروں کو اچھا سمجھتے ہیں، ایسے تمام افراد و عناصر پر بھی کڑی نظر رکھنے اور کڑا ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے، مگر سب سے زیادہ اہم ’’ہدف‘‘ منشیات فروش ہیں، ان کی نگرانی اور پڑتال بے حد ضروری ہے۔ ہوٹلوں، ریستورانوں اور ہاسٹلوں کی نگرانی بھی ہوتی ہے، مگر نواحی علاقوں میں آباد، وہ افغان جو پاکستانی پشتون بن کر ،ایک تواتر اور کثرت سے آباد ہو رہے ہیں، ان کو ہر حال میں کھنگالنے کی ضرورت ہے، اس پڑتال کو صرف علاقہ پولیس پر نہ چھوڑا جائے، وہ تو وہاں سے تھوڑی اور ’’معمولی خدمت‘‘ سے راضی ہو کر واپس آ جاتی ہے۔ ہمارے علم میں ایسے آباد کار بھی آئے ہیں جو بری حالت میں نواحی علاقوں میں آئے اور اب بڑے بڑے مکانات و محلات بناکر بلدیاتی انتخاب میں بلا مقابلہ کامیاب ہو کر علاقے میں رعب داب قائم کر چکے ہیں اور اپنے گردا گرد اپنے لوگوں کو آباد کر کے طاقت ور بنے بیٹھے ہیں۔

مزید :

کالم -