ایک ٹرمپ چاہیے

ایک ٹرمپ چاہیے
 ایک ٹرمپ چاہیے

  

میرے پیارے لاہور سمیت بہت سارے شہروں میں دھماکے ہوئے، احمد مبین سمیت بہت سارے ناحق مارے گئے،کھرے نکالے تو افغانستان تک جا پہنچے اور مجھے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ یاد آ گئے۔ میں حیران تھا کہ امریکیوں نے یہ کیسا فیصلہ کر دیا ہے اگرچہ پاپولر ووٹ ہیلری کے ساتھ تھا مگر اس کے باوجود ٹرمپ نے اتنے ووٹ ضرور لئے کہ وہ امریکہ کے پرانے انتخابی نظام کو دھوکا دیتے ہوئے سوفی صد قانونی طور پر وائیٹ ہاؤس پہنچ گئے، انہوں نے سب سے پہلے امریکا کانعرہ لگایا، ایسانعرہ تو ہمارے تازہ ترین رخصت ہونے والے فوجی آمر نے بھی لگایا تھا لیکن تسلیم کیا جانا چاہئے کہ ایک آمر اور ایک سیاستدان کے نعرے میں فرق ہوتا ہے۔آمر کانعرہ اپنے اقتدار کے لئے ہوتا ہے جبکہ سیاستدان کا نعرہ اس کی قوم کے لئے ہوتا ہے۔

بہت ساروں نے کہا اور اب بھی کہتے ہیں کہ امریکا کو عظیم بنانے میں ان تارکین وطن اور ان کی اولادوں نے بڑا کردارا دا کیا جو اپنے اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر آئے۔ انہوں نے امریکیوں کے جوتے پالش کئے، ان کے غسل خانے دھوئے، ان کی گاڑیاں چلائیں مگر مساوی حقوق کی بنیاد پر ان کی اولادیں تعلیم حاصل کرنے لگیں اور رفتہ رفتہ نوکریوں اور کاروباروں پر قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ اب ایک لمبی فہرست دکھا دی جاتی ہے کہ امریکہ کی ترقی میں کردارادا کرنے والی ڈھیروں کمپنیوں کی ملکیت تارکین وطن اور ان کی اولادوں کی ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے مگر اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جہاں ، جہاں تارکین کی اولادیں اپنے قدم جماتی جا رہی ہیں وہاں وہاں سے اس دھرتی کے رہنے والے امریکیوں کے قدم اکھڑ رہے ہیں۔ وہ تارکین وطن جن کے باپ امریکیوں کے باپ دادوں کے گھوڑے اور کتے نہلایا کرتے تھے، اب نوجوان امریکیوں کو ان کی ملازمتیں کرتے ہوئے انہیں سر، سر کہنا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک قومی اور آبائی نوعیت کا تعصب ہے جس کی تفہیم بہت ضروری ہے، اسے نظرانداز کرنا حماقت ہو گی۔

امریکا سے واپس پاکستان آجاتے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں مداخلت ایک آمر کے دور میں کی کیونکہ اس آمر کو سپر پاور امریکہ کی آشیر باد درکار تھی، ہمارے تمام آمروں کو اپنے اپنے اقتدار کی جائزیت کے لئے امریکا سے این او سی درکار رہا ہے اور تاریخ کا ستم یہ ہے کہ ہر آمر کے دور میں امریکا بہادر کے لئے ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ وہ ہمارے ناجائز اور غیر قانونی حکمرانوں کی سرپرستی کرے، اپنے خزانوں کے منہ ان کے لئے کھول دے۔افغانستان کی تباہی ہمارے دو سابق آمروں کے لئے خوش قسمتی ثابت ہوئی۔ آمر کو روس کا حملہ راس آ گیا اورا س نے اپنی قوم کے بیٹوں کو اسلام اور جہاد کے نا م پر امریکی مفادات کی بھٹی میں جھونک دیا اور سیکولرآمر کوٹوئین ٹاورز پر حملہ ایک تحفے کی طرح مل گیا۔ اب یہاں دو قسم کی کہانیاں موجود ہیں، ایک کہانی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ہے کہ پاکستان نے افغانیوں کو روسیوں کی غلامی سے بچانے کے لئے نہ صرف مدد کی بلکہ ان کے لئے اپنی سرحدیں کھول دیں۔ ہزاروں نہیں لاکھوں افغانی پاکستان میں آئے اور پھر ان میں سے بہت سارے مہاجر کیمپوں تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے ہماری شہریت کے نظام کی گواہی دینے والے شناختی کارڈ کے ادارے کی کرپشن اور نظام کی خامیوں کا فائدہ اٹھایا اور اپنے ہی نہیں بلکہ اپنے باپ دادا تک کے شناختی کارڈز حاصل کر لئے۔ آج میرے بہت سارے شہروں میں چھوٹے چھوٹے کاروبار تو ایک طر ف رہے، کپڑے کا ہول سیل کا کاروبار ہویاٹرانسپورٹ کا نظام، ان کے قبضے میں ہے۔ سب اچھا کی رٹ لگانے والوں کے مطابق کہا جا سکتا ہے کہ افغانیوں نے پاکستان والوں کی خدمت کی بالکل اسی طرح جیسے امریکہ میں اپنے اپنے وطن کو ترک کرکے بسنے والے کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کی خدمت کر رہے ہیں مگر دوسری کہانی افغان قوم پرست بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان میں ہمیشہ اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کے لئے مداخلت کی، دلائل دونوں کہانیوں میں موجود ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کی کہانیاں بہت زیادہ مختلف ہیں مگر ان میں مماثلت بھی ہے ، جہاں امریکہ میں ان تارکین وطن نے امریکیوں کی بہت زیادہ خدمت کی وہاں ان لوگوں کی وجہ سے امن و امان کے مسائل بھی پیدا ہوئے، یہ معاشی مسائل سے الگ بھی ہیں اور جڑے ہوئے بھی ہیں۔ جب دو مختلف معاشروں، تہذیبوں، روایات، عادات اور مذاہب کے حامل ایک دوسرے کے ساتھ انٹرایکشن کرتے ہیں تو وہاں بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں، ان کے اندر یکسانیت اورمماثلت کا آنا ممکن ہی نہیں ہوتا جو نسل در نسل ایک ساتھ رہنے والوں کے درمیان ایک خود کار نظام کے تحت پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔میں دہشت گرد ی کی وجہ غربت اورمحرومیوں سے زیادہ نظریات اور مفادات کے ٹکراؤکو سمجھتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ ہمارا اور افغانیوں کامذہب ایک ہی ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے ہمارا اور ایرانیوں کا اور ہمارا اور سعودیوں کامذہب ایک ہی ہے، ہم سب اللہ رب العزت اور اس کے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاکلمہ پڑھتے ہیں مگراس کلمے سے آگے تشریحات کے بہت زیادہ فرق پیدا ہوچکے ہیں۔ ہم جس ریاستی نظام میں اپنے معاملات چلاتے ہیں وہ بھی بہت زیادہ فرق ڈال دیتا ہے۔ اب امت کے مفادات سے زیادہ ریاست کے مفادات کے لئے کام ہوتا ہے ۔

میں جب ٹرمپ کو اپنی عینک لگا کر دیکھتا ہوں تووہ مجھے بہت برا لگتاہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ میرے ہم وطنوں کی ان خدمات کا منکر ہے جو وہ امریکا اور امریکا کے رہنے والوں کے لئے سرانجام دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف جب میں اپنے وطن میں افغانیوں کو دیکھتا ہوں تو میرا دل کرتا ہے کہ میں خود ایک ٹرمپ بن جاؤں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر کو سیل کر دوں۔ میں نے خود رات کے اندھیرے میں اس سرحد کو بہت ہی آسانی کے ساتھ پار کیا ہے جبکہ دن کی روشنی میں بھی پختونوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے اِدھر سے اُدھر اورُ ادھر سے اِدھر آتے جاتے دیکھا ہے،مہمند ایجنسی کے پہاڑوں سے ان نوجوانوں کو اترتے ہوئے دیکھا ہے جو اپنے اوپر بہت سارا وہ سامان لاد کر ہمارے علاقوں میں آتے ہیں جو افغانوں کو امداد کے طور پر ملا ہوتا ہے ، یہ سامان وہاں کی مقامی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیتا ہے۔ اب اس سے آگے بڑھتے ہوئے معاشی نقصانات سے صرف نظر بھی کر لیا جائے توکیا جانی نقصان کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ احمد مبین جیسے افسران عشروں کی محنت کے بعد پیدا ہوتے ہیں، کیا انہیں صرف ایک کم عقل اور جاہل افغانی کے ہاتھوں مرنے کے لئے چھوڑا جا سکتا تھا، ہرگز نہیں، یہ سودا تو کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔

مجھے وہ ٹرمپ نہیں چاہئے جو ٹیکس چور ہے، جس کے عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں، جو یاوہ گوئی میں بہت آگے ہے مگر ایک ایسا ٹرمپ ضرور چاہئے جو میری ان سرحدوں کو محفوظ بنا سکے جو اسٹیبلشمنٹ کی افغانستان کے ساتھ محبت میں غیر محفوظ بنا ئی جا چکیں۔مجھے اپنے احمد مبینوں کو بچانے کے لئے اپنی سرحد کے ساتھ ایک ایسی ہی دیوار کی ضرورت ہے جیسی امریکہ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر بنانا چاہتا ہے۔ میں پھر کہوں گا کہ مجھے ٹرمپ بہت برا لگتا ہے مگر میں جب ہر دہشت گردی کا کھرا افغانستان کی طرف جاتے ہوئے دیکھتا ہوں تو ایسی دوستی اور ایسے تعلق سے توبہ چاہتا ہوں۔ مجھے ایک طاقت ور وفاقی وزیر نے تین برس پہلے ہی بتایا تھا کہ پاکستان کابل اور دلی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا مگر وہ جواب میں اسلام آباد میں بھی مداخلت نہیں چاہتا۔ کبھی کبھی سیاست کاری اور سفارت کاری کے مہذب انداز اور طریقہ کار ناکام ہوجاتے ہیں اور ہر قوم کو ایک ایسے ٹرمپ کی ضرورت ہوتی ہے جو لفاظیوں سے باہر آتے ہوئے اس کی حقیقی ضرورتوں کو پورا کر سکے۔

مزید :

کالم -