گرین ٹاؤن ، زہریلا کھانا کھانے سے ایک ہی خاندان کے 12افراد کی حالت غیر

گرین ٹاؤن ، زہریلا کھانا کھانے سے ایک ہی خاندان کے 12افراد کی حالت غیر

  

لاہور (باخبرنگار) گرین ٹاؤن کے علاقے میں زہریلا کھانا کھانے سے ایک محنت کش کے چھ کم سن بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 12 افراد کی حالت غیر ہوگئی۔ گھر کے سربراہ امتیاز کے شکایت کرنے پر ہوٹل کا مالک لڑنے مرنے پر تیار ہوگیا۔ بے ہوش ہونے والے افراد کو محلے داروں نے اپنی مدد آپ کے تحت جناح ہسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے ان کے معدے واش کرکے انہیں بچا لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گرین ٹاؤن سی ون کے رہائشی محنت کش امتیاز حسین نے اپنے برادر نسبتی جاوید بشیر اور سالی ثمینہ بی بی کو گزشتہ روز گھر میں ناشتہ پر بلا رکھا تھا کہ عظمت چوک میں واقع بابا جلال دین نان چنے والے سے چنے منگوائے ۔ محنت کش امتیاز حسین کے 6 کم سن بچوں سمیت اس کا برادر نسبتی 48 سالہ جاوید بشیر، اس کی جواں سالہ بیٹی اور سالی ثمینہ بی بی سمیت 12 افراد بے ہوش ہوگئے۔ واقعہ سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، بے ہوشی کے بعد انہیں محلے داروں اور متاثرہ خاندان کے سربراہ امتیاز حسین نے اپنی مدد آپ کے تحت جناح ہسپتال داخل کروایا جہاں ڈاکٹروں نے محنت کش امتیاز حسین کی 17 سالہ بیٹی فاطمہ، 16 سالہ حمزہ امتیاز، 14 سالہ امان، 12 سالہ اقصیٰ، 10 سالہ حبیبہ، 6 سالہ عقیفہ۔ محنت کش کے برادر نسبتی جاوید بشیر اس کی جواں سالہ بیٹی زوہا جاوید سمیت سالی ثمینہ بی بی اور اس کے چار کم سن بچوں 6 سالہ ریحان اور 5 سالہ شان وغیرہ کے معدے واش کرکے انہیں بچا لیا ہے۔اس حوالے سے ایڈیشنل ایس ایچ او امجد شاہ نے بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور ہوٹل مالک کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا گیا ہے۔ تاہم وہ ہوٹل بند کرکے فرار ہوچکا ہے۔ ملزم کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

مزید :

علاقائی -