محب وطن رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنا درست نہیں،مذہبی رہنما

محب وطن رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنا درست نہیں،مذہبی رہنما

  

لاہور(وقائع نگار)مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے امیر جماعۃالدعوۃ حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا وطن عزیز پاکستان میں دھماکے اور دہشت گردی کروا رہا ہے اور حکومت پاکستان مودی سرکار کی خوشنودی کیلئے محب وطن رہنماؤں کو نظربند اور ان کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر رہی ہے۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤں کی نظربندی سے توجہ ہٹانے کیلئے انڈیا ملک میں دہشت گردی کروارہا ہے۔ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے یہ وقت سیاست اور اختلافات کا نہیں بلکہ ملکی دفاع کا ہے۔ باہمی اتحاد ویکجہتی کے ساتھ اس دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ان خیالات کااظہار دفاع پاکستان کونسل اور جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفارروپڑی، متحدہ جمعیت اہلحدیث کے امیر سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، تحریک آزادی جموں کشمیر کے رہنماؤں مولانا امیر حمزہ اور حافظ خالد ولید نے جماعت الدعوۃ کے ترجمان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔جماعت الدعوۃ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ان رہنماؤں نے کہاکہ بھارت غیر ملکی قوتوں کی شہ پر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے بم دھماکے اور دہشت گردی کروارہا ہے۔انڈیا نے افغانستان میں قونصل خانوں کی آڑ میں دہشت گردی کے اڈے بنا رکھے ہیں جہاں سے دہشت گردوں کو تربیت دے کرپاکستان داخل کیا جارہا ہے۔ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیے بغیر وہ یہاں تخریب کاری کی وارداتوں سے باز نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہاکہ بیرونی قوتوں کی غلامی سے نکلے بغیر ملک میں دہشت گردی پر قابو پاناممکن نہیں ہے۔ انڈیا افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دھماکے کروا رہا ہے۔ سی پیک کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ ملک کے دفاع کے لیے دینی و سیاسی جماعتوں اور تمام طبقوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے کہاکہ بھارت کشمیر میں شکست کھاچکا ہے اور پاکستان میں امن و ترقی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔بیرونی ایجنسیاں افواج پاکستان،عوام اور اداروں کو بطور خاص ٹارگٹ کر رہی ہیں۔حکومت پاکستان بھارت کو دشمن ملک قرار دے کر تمام سماجی، تجارتی اور سفارتی تعلقات فوری ختم کرے۔ اسی طرح علماء معاشرے میں اختلافات ختم کرکے اتحاد و یکجہتی کا ماحول پیدا کریں اور ہر قسم کی دہشتگردی کی نفی کرتے ہوئے اس کے خلاف متحد ہوجائیں۔

مذہبی رہنما

مزید :

صفحہ آخر -