شدت پسند اور دہشت گرد انسانیت کے قاتل ہیں

شدت پسند اور دہشت گرد انسانیت کے قاتل ہیں

  

دہشت گر دی سے ملکی معیشت کو کس قدر نقصان اٹھا نا پڑتا ہے

اسد اقبال

جب کبھی دہشت گر د شہروں میں پبلک مقامات پر وارد کر تے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد میں کا میاب ہو جا تے ہیں تو جہاں ہلاکتیں وقوع پذیر ہوتی ہیں وہیں کاروباری سر گر میاں بھی ماند پڑ جاتی ہیں جبکہ ملکی و غیر ملکی سر مایہ کاری بھی رک جاتی ہے جس سے معیشت تباہ ہو جا تی ہے ۔ دہشت کا عفریت معشیت کو کھا رہا ہے جہا ں کھلاڑی پا کستان کا رُخ نہیں کر تے ان کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کار ی کرنے سے اجتناب کر تے ہیں ۔ ہمارے حکمران دہشت گردی کے کینسر کو ختم کرنے کے لیے کیا لا ئحہ عمل رکھتے ہیں ۔ کیا وہ کسی اندوہناک حادثہ کے بعد روایتی بیانات دے کر فارغ ہو جاتے ہیں ۔ آج یہ حقیقت کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ ہمارے حاکموں کی حفاظت کے لیے غیرمعمولی فورس اور اخراجات کئے جا رہے ہیں جن کا بوجھ عوام اٹھا تے ہیں لیکن عوام کی حفاظت کا ذمہ کس کے سر ہے ؟ حال ہی میں لاہور چیئر نگ کر اس پر ہو نے والے خودکش دھماکے سے جہاں قیمتی انسانی جا نوں کا ضیاع ہو ا ہے وہاں لاہور بھر کی تھوک و پر چون ماارکیٹیں ،تجارتی مراکزاور بازاروں میں ہو کا عالم ہے شہریوں کی بڑی تعداد اب بھی خوف سے دوچار ہے اور تجارتی مراکز کا رخ نہ کر نے کو تر جیح دے رہے ہیں جس سے تاجر طبقہ نقصان سے دوچار ہے۔عدالت عالیہ کی جانب سے مال روڈ پر دفعہ 144نافذ ہو نے کے باوجو د جلسے جلوس دھرنے اور احتجاج کیونکر ایک بڑی اور مصروف تر ین شاہراہ پرآتے ہیں اوردہشت گر دی کے اس قسم کے واقعات کو دعوت دیتے ہیں ۔ مال روڈ کے دونوں اطراف بڑی تعداد میں کمرشل ایر یا ہے جہاں کے تاجر ملکی خزانے میں کروڑوں روپے کا ٹیکس جمع کر اتے ہیں لیکن جب مال روڈ احتجاج ، جلو س اور جلسوں کی صورت میں بند کیا جاتا ہے توپھرتاجر طبقہ ناقابل تلافی نقصان بھی اٹھا تے ہیں ،۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2015 میں عالمی معیشت کو دہشت گردی کے وجہ سے 89 ارب 60 کروڑ کا نقصان ہوا ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہے۔ایک غیر سرکاری تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ فار اکنامک اینڈ پیس نے گلوبل ٹیررازم انڈکس 2016 جاری کیا ہے۔جس کے مطابق دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ عراق کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے اور یہ نقصان عراق کے جی ڈی پی کا 17 فیصد ہے۔تحقیق کے مطابق دہشت گردی کی وجہ سے سیاحت کی صنعت بری طرح تباہ ہوئی ہے اور اْن ممالک میں جہاں دہشت گرد حملے نہیں ہوئے وہاں سیاحت کی صنعت دوگنی ہو گئی ہے۔غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق شدت پسندی کے شکار ممالک میں قیام امن کے لیے جو وسائل مختص کیے گئے ہیں اْس کا ملکی معیشت پر دو فیصد اثر پڑ رہا ہے۔

دنیا کے 23 ممالک میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔دہشت گردی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں عراق، افغانستان، نائجیریا، پاکستان او شام میں ہوئی جبکہ گلوبل ٹیررارزم انڈکس امریکہ 36 وین نمبر پر اور فرانس 29 ویں، روس 30 ویں اور برطانیہ 34 ویں نمبر پر ہے۔ 2015 میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سب سے مہلک ترین تنظیم رہی اور اس نے دنیا کے 252 شہروں حملے کیے جن میں 3141 افراد مارے گئے۔نائجیریا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ ہمسایہ مالک نائجر، چیڈ اور کیمرون میں بھی بڑھ رہی ہے اور ان ممالک میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں 157 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان دہشت گردی کا گڑھ کہلاتا ہے ہر کوئی شمالی وزیرستان میں ہے،وہاں عرب ازبک ،تاجک ،انڈونیشی ،بنگالی، پنجابی ،افغان ، چیچن اور سفید جہادی و یورپین جہادی مو جو د ہیں ۔تقریبا دس ہزار غیر ملکی جہادی شمالی وزیرستان میں ہیں ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ نے نہ صرف ہماری معیشت بلکہ پاکستان کے سماجی و معاشرتی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق

پاکستانی معیشت وار آن ٹیرر کے شدید دباؤ تلے ہے جو پچھلے چار سالوں میں افغانستان میں شدت اختیار کر چکی ہے 2006ء سے یہ جنگ پاکستان کے منتظم علاقوں (Settled Areas) میں متعدی وباء کی طرح پھیلی ہے جو اب تک پاکستان کے 35000 شہریوں اور 3500 سیکورٹی اہلکاروں کو کھا چکی ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر کی تباہی ہوئی، جس کی وجہ سے شمال مغربی پاکستان میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کا ماحول غارت ہوا۔ جس کی وجہ سے ملکی پیداوار تیزی کے ساتھ پستیوں کی طرف لڑھکی، جس کے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کے بیشتر حصوں میں اقتصادی سرگرمیاں کلی طور پر جامد ہو کے رہ گئیں۔ پاکستان نے کبھی اس پیمانے کی سماجی، معاشی اور صنعتی تباہ کاری نہیں دیکھی تھی حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب ایک براہ راست جنگ کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہو گیا تھا۔‘‘ پاکستان نے اس جنگ کی بہت بھاری معاشی‘ معاشرتی اور اخلاقی قیمت چکائی ہے اور خدا جانے کب تک چکاتے رہیں گے۔ معیشت جو پہلے ہچکیاں لے رہی تھی دہشت گردی کے عذاب نے اس کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں نئی صنعت لگ نہیں رہی پرانی فیکٹریاں دھڑا دھڑ بند ہو رہی ہیں اور ہزاروں کے حساب سے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ سیاحت تباہ ہو کر رہ گئی ہے، معاشرتی اور فوجی انفرا سٹرکچر کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ ملک ترقی معکوس کی طرف گامزن ہے۔ پاکستان نے ان لوگوں کے ہاتھون 54000قیمتی جانوں کا نقصان اٹھایا ہے اور ہماری معشت کو 86 بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان نو سالوں کی دہشت گردی، خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ بہت تباہیاں و بربادیاں ے کر آئی ہے کتنے لوگوں کی خوشیاں اور ارمان خاک میں مل گئے، کتنے لوگ اس دہشت گردی کی آگ کے بھینٹ چڑھ گئے، اب تک ہونے والے خودکش دھماکوں کے متاثرین پر کیا گزر رہی ہے؟ ہرصبح طلوع ہونے والا سورج ان کیلئے امید کی کرن لاتا ہے یا نہیں؟

امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظرملکی معاشی ترقی رک گئی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ قر ضوں کا بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ 2010 میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 54.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ پاکستان کے قرضوں کا حجم46رب روپے تک پہنچ چکا ہے اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے اور پاکستانی معیشت دیوالیہ پن کی سر حدوں کو چھو رہی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو اب تک68 ارب ڈالر کو نقصان ہوا۔ اس پہ سونے پر سہاگہ بیجامہنگائی ،لا قانونیت ،غنڈہ گردی اور بڑہتے ہو ئے افراط زر نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ معاشی حالت اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ ملک کے استحکام اور سلامتی کو شیدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والے درندے ہیں ‘ ان کا نہ تو اسلام اور نہ ہی پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔ ایسے درندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیے۔دہشت گردی کی وجہ سے انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو خطرے میں نہیں ڈالاجاسکتا ہے۔ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ‘‘۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)(سورہ اعراف ، آیت ۱۵۱)کی بنیاد پر تمام انسانوں کی جانیں محتر م ہیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت،مسلمان ہوں یا غیر مسلمان۔ دہشت گردی ایک غیر ملکی نہین بلکہ پاکستانی ایشو ہے۔ ہماری عوام کی سلامتی اور ترقی کے لئے یہ امر انتہائی اہم اور ضروری ہے اوریہ ہماری موجودہ اور آیندہ نسلوں کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ہر ممکن طریقے سے اور ہر قیمت پر روکا اور ناکام بنایا جائے۔ہم کب تک دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں گے؟ ۔پاکستان میں ہنگامہ خیز تسلسل کے ساتھ ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کی وحشت اس ملک کے عوام کے بدن پر ایک رستا ہوا گھاؤ بن گئی ہے۔ ہر سو مایوسی اور نا امیدی طاری ہے۔لیکن اشرافیہ کے دانشوروں کی جانب سے اس موضوع پر لاامتناعی اور لا حاصل بحث ان سوالات کی وضاحت کی بجائے ان کو مزید الجھانے کا باعث ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ اہم اور غیر اہم میں تفریق کرتے ہوئے اس مسلے کی جڑ کو سمجھا جائے۔واضح رہے کہ دہشت گردی کی مضبوط معاشی بنیادمو جو د ہے اور یہ انتہائی منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔خود کش بم دھماکے اور دہشت گرد حملے کرنا انتہائی مہنگا کام ہے۔ ان میں سرمایہ کاری کرنے والے لازمی طور پر بہت بڑے منافعے کماتے ہوں گے۔ کوئی بھی سرمایہ دار محض نیکی کمانے کی غرض سے اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کرتا۔

افغانستان و پاکستان میں یہ نیٹ ورک گزشتہ تیس برس سے پھل پھول رہا ہے اور کالے دھن کی شکل میں سرمایے کا بہت بڑا ارتکاز بن چکا ہے جس کا حجم پاکستان کی با ضابطہ معیشت سے تین گنا زیادہ ہے۔اغواء4 برائے تاوان، قتل، بھتہ، چوریاں، کرپشن اوردیگر مجرمانہ کاروائیاں بھی اس ارتکاز میں بے پناہ اضافے میں معاون ہیں۔ نام نہاد ’غیر ریاستی عناصر‘ (non۔state actors) اس غیر ریاستی مافیا معیشت کے سرطان کے پھوڑے ہیں۔ا س کالے دھن سے ریاست کے مختلف حصے منسلک اور ان کے مفادات اس سے وابستہ ہیں اور انہی مفادات کے تحفظ کے لیے اکثر دہشت گردی کو استعمال کیا جاتا ہے۔تاریخ میں ایسے ان گنت واقعات موجود ہیں جب جابر حکمرانوں نے اپنے خلاف عوامی بغاوتوں کو زائل کرنے اور ان کا رخ موڑنے کے لیے اپنی ہی حکومت کے ایک حصے کے خلاف دہشت گردی کو استعمال کیا۔لیون ٹراٹسکی نے دہشت گردی کے متعلق محنت کش تحریک کی پوزیشن کو واضح کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ ہم انفرادی دہشت گردی کی اس لئے مخالفت کرتے ہیں کیونکہ انفرادی انتقام ہمیں تسکین نہیں پہنچاتا۔

پاکستان میں تباہی پھیلاتی ہوئی دہشت گردی کی جڑیں اس ملک کے معاشی نظام کی بنیادوں اور اس پر کھڑی ریاست کے ڈھانچوں میں ہیں۔ اس معاشی ڈھانچے کی مزید شکست و ریخت ریاست اور سماج میں مزید تنازعات اور تضادات کو جنم دے رہی ہے۔اذیت، غربت اور محرومی اس مایوسی، بے یقینی اور بیگانگی کو ہوا دیتی ہیں جو نا پختہ ذہنوں کو مذہبی جنونیت کے پاگل پن اور تعصب میں جھونک دیتی ہیں اورکالے دھن کی معیشت اس عمل میں معاونت اور اسے سہل بناتی ہے۔

جب تک دہشت گردی کو پیدا کرنے والی سیاسی معیشت کا خاتمہ نہیں کیا جاتا یہ نہ ختم ہونے والی جنگ سماج کو تاراج کرتی ہی چلی جائے گی۔ یہ پاکستانی سرمایہ داری کی بیماری اور اس کے نامیاتی بحران کا نچڑا ہوا عرق ہے۔عوام کی اکثریت میں بنیاد پرستانہ بربریت اور سامراجی سفاکی کے خلاف نفرت اور غصہ پل رہا ہے۔ جب محکوم عوام اٹھ کھڑے ہوں گے ، تو حکمران طبقات اور ان کے سامراجی آقا ریاستی اور غیر ریاستی دہشت گردی کو ان کے خلاف بے لگام استعمال کریں گے۔ لبرل اور بنیاد پرست اس بوسیدہ نظام کو بچانے کے لیے متحد ہو جائیں گے۔ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کا آغاز 2001 سے ہوا،،پہلے سال معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ 164 ارب روپے لگایا گیا تھا۔پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات سے اب تک ملکی معشت کو ہونے والے مالی نقصانات کا اندازہ 100کھرب روپے سے زیادہ کا لگایا گیا ہے۔دہشت گردی کے نقصانات پاکستان کے غیرملکی قرضوں سے ایک سو فیصد سے بھی زیادہ ہے، سرکاری رپورٹ کے مطابق جس کے بعد واقعات کی تعداد اور نقصانات ہر سال بڑھتے ہی رہے۔ایک سال میں سب سے زیادہ نقصان 2010 میں ہوا،اس سال دہشت گردی کے واقعات نے ملکی معشت کو 20 کھرب 37 ارب روپے سیزیادہ کا نقصان پہنچایا، سال2012 کے بعد سے دہشت گردی میں نسبتا کمی دیکھی گئی۔گزشتہ مالی سال 16۔2015 کے دوران دہشت گردی کے واقعات سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ تقریبا 6 کھرب روپے ہے۔واضح رہے کہ اب تک صرف انفرا سٹریکچر کو 52 ارب 25 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا، دھماکوں کے باعث سکولوں، فیکٹریوں اور زرعی زمینوں کی تباہی سے ہونے والی بے روز گاری اس کے علاوہ ہے۔

"بزنس پاکستان" سے خصو صی گفتگو کر تے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے سابق سینئر نائب صدر اور مسلم لیگ ن ٹر یڈرز ونگ کے چیئر مین عرفان اقبال شیخ ،آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی جنرل سیکرٹری نعیم میر ، انجمن تاجران لاہور کے صدر مجاہد مقصو د بٹ اور قو می تاجر اتحاد کے جنرل سیکرٹری حافظ عابد علی ،لاہور ٹر یڈرز الائنس کے صدر صفدر علی بٹ ،فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پنجاب کے ریجنل چیئر مین منظور الحق ملک اور لاہو ر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے قائم مقام صدر ناصر حمید نے کہا ہے کہ چیئرنگ کراس میں ہونے والے بم دھماکہ کی جتنی شدید الفاظ میں مذمت کی جائے کم ہے مال روڈ پاکستان کا بڑا کاروباری مرکز اور پنجاب کا دل ہے دل کا لہو لہان ہونا ناقابل برداشت ہے ۔ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ دہشتگرد پورے ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ہماری سکیورٹی ایجنسیاں اپنی مقدور بھر کوشش کے باوجود دہشتگردوں پر قابو پانے میں ناکام نظر آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں اور دہشتگرد انسانیت کے قاتل ہیں ان کو عبرتناک انجام تک پہنچانا وقت کی اشد ضرورت ہے ایک بار پھر ملک بھر میں دہشت گردی نئی لہر دوڑ گئی ہے ۔عدم استحکام اور بد امنی کے باعث ساری انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ انہوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ ملک میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے ،عوام اور بزنس کمیونٹی کو تحفظ فراہم کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے تاکہ دہشتگردی کا خاتمہ ہو اور پاکستانی عوام کو تحفظ کا احساس دلایاجائے جبکہ ملک میں معاشی ترقی اور صنعتیں تب ہی لگیں گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری تب ہو گی جب ملک میں امن و امان ہو گا۔اس وقت ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور دہشت گردی کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت دگرگوں ہو چکی ہے۔پاکستان بدحالی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ معیشت بند گلی مین داخل ہو گئی ہے اور کوئی ملک پاکستان کو بیل آ ؤٹ پلان دینے کے لئے تیار نہیں۔ حکومت اپنے انتظامی اخراجات پورے نہیں کر پا رہی۔ سنگین حالات سے نکالنے کے لئے قومی یکجہتی سے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ تاجر طبقہ نے کہا ہے کہ جلسوں اور احتجاجی ریلوں کے شرکاء کو سکیورٹی دینا ناممکن ہے اس لیے ضروری ہے کہ جلسے اور احتجاجی ریلیوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور مسائل کا حل ٹیبل پر مذاکرات کر کے نکالا جائے تاکہ ملکی معاشی تر قی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -