پاک افغان بہتر تعلقات کے بغیر خطے میں امن نہیں ہو سکتا:سردار حسین بابک

پاک افغان بہتر تعلقات کے بغیر خطے میں امن نہیں ہو سکتا:سردار حسین بابک

  

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری تک خطے میں امن کے قیام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ،افغانستان کی غیر موجودگی میں وہاں امن کے قیام کیلئے روس چین اور پاکستان کی بات چیت کسی صورت کامیاب نہیں ہے، ان خیا لات کا اظہار انہوں نے طوطا لئی اور سواوئی پی کے 77بونیر میں شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر سواوی میں جے یو آئی کے سرکردہ رہنما عبدالرؤف خان اپنے خاندان اور دیگر ساتھیوں سمیت اے این پی میں شامل ہو گئے جبکہ طوطالئی میں میر بازخان، مکمل خان، افضل خان اور فرید خان سمیت درجنوں افراد نے اپنی جماعتوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،سردار حسین بابک نے پارٹی میں شمولیت اکتیار کرنے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ،اے این پی کے صوبائی سیکرٹری جنرل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش جیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ افغانستان کو اتنی ہی اہمیت دی جائے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں امن قائم ہو سکے، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں پختون بیلٹ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں ، لہٰذا اب بہت خون بہہ چکا ہے اور اس کے تدارک کیلئے عالمی سطح پر کوششیں کرنا ہونگی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مرکزی حکومت خارجہ و داخلہ پالیسیاں قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ری وزٹ کرے ، اور دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان اور افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوئی راہ نکالی جائے کیونکہ افغانستان سے اچھے تعلقات خود پاکستان کے مفاد میں ہیں ،انہوں نے کہا کہ اے این پی میں عوام کی جوق در جوق شمولیت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ لوگ 2013کے الیکشن میں اپنے ووٹ دینے کے فیصلے پر پشیمان ہیں اور انہیں یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ اے این پی کے علاوہ کوئی جماعت ان کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتی، انہوں نے کہا کہ عوام نام نہاد تبدیلی والوں کی اصلیت جان چکے ہیں، ہمارے دورحکومت میں خزانہ بھراتھا آج صوبہ مالی ،انتظامی اور سیاسی لحاظ سے دیوالیہ ہوچکاہے ،انہوں نے کہاکہ ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود عوام سے کئے وعدوں میں سے کوئی بھی وعدہ پورانہیں کیاگیا،انہوں نے کہاکہ 2018کے انتخابات میں کامیابی اے این پی کی ہوگی اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہاکہ مردم شماری مارچ میں ہونے جا رہی ہے لہٰذا پختونوں کو اس میں خصوصی دلچسپی لینا ہو گی تا کہ وسائل کی تقسیم انصاف کی بنیاد پر ممکن ہو سکے انہوں نے کہا کہ 82فیصد وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوتی ہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کو بھی صوبے میں ضم کر کے وہاں مردم شماری کرائی جائے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کی مخالفت کرنے والوں کو قبائلی عوام پہچان لیں ،انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ لیت و لعل سے گریز کرتے ہوئے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا اعلان کرے ورنہ اے این پی قبائلی عوام کے حقوق کیلئے ان کے شانہ بشانہ میدان میں ہوگی،اور 12مارچ کے دھرنے میں بھرپور شرکت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قبائلی عوام کا آئینی اور بنیادی حق ہے جس سے انہیں محروم کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -