فوجی عدالتیں قائم کرنا مستقل حل نہیں ہے، عارف علوی

فوجی عدالتیں قائم کرنا مستقل حل نہیں ہے، عارف علوی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف سند ھ کے صدر و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔فوجی عدالتیں قائم کرنا مستقل حل نہیں ہے۔ لعل شہباز قلندرؒ کی درگاہ پر خودکش حملے کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کے شہید اور زخمی ہونے پرانتہائی دکھ اور افسوس ہے ۔حکومت اور ریاستی ادارے عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ایسی جگہیں جو ماضی میں دہشت گردوں کا نشانہ رہی ہیں وہاں کسی قسم کے سیکورٹی انتظامات کا نہ ہونا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ کسی بھی جگہ کو دہشت گردی کی وجہ سے سیل کردینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ یہ باتیں انہوں نے گزشتہ روز پارٹی سیکریٹریٹ ’’انصاف ہاؤس ‘‘ کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں ۔اس موقع پر ان کے ہمراہ کراچی ریجن کے صدر فردوس شمیم نقوی ، رکن سندھ اسمبلی ثمر علی خان، دواخا ن صابر، سیف الرحمان خان، راجہ اظہر اور دیگر بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ سہون شریف کے قریب ہسپتال نہ ہونا ہلاکتوں میں اضافے کا سبب بنا۔سندھ کے اندر ہسپتال نہ ہونے اور جو ہسپتال موجود ہیں ان کی ناقص صورتحال کی اصل ذمہ دار حکومت سندھ ہے۔دھماکے کے بعد پہلی ایمبولینس ڈیڑھ گھنٹے بعد جائے حادثہ پر پہنچی ۔8سالہ دور حکومت میں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سندھ کے لوگوں کو بہتر ہسپتال اور طبی سہولیات فراہم نہیں سکے جو کہ سندھ حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکمرانوں کوعوام کی جان و مال کی کوئی پرواہ نہیں حکومتی وزراء صرف اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں۔حکومت وقت کے لئے انتہائی شرم کی بات ہے کہ دھماکے میں شہید ہونے والوں کے جسمانی اعضاء کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیئے گئے اور حکومت کی جانب سے یہ دعوہ کیا گیا ہے یہ اعضاء دھماکے کے نتیجے میں اڑ کر کچرے میں آ گرے ہیں ۔دھماکا مزار کے اندر ہوا، جب مزار کی چھت نہیں ٹوٹی تو اعضاء کیسے کچرے میں جا گرے؟ ۔پاناما لیکس کے حوالے سے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاناما کا کیس اٹھانے کا اصل مقصد ہے کہ عدالتیں کرپشن کے خلاف فیصلے دینا شروع کریں ۔ شریف خاندان جھوٹ پر جھوٹ بولتے چلے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت بھی کرپشن میں ن لیگ سے پیچھے نہیں ہے۔ لاڑکا نہ میں لگائے گئے 80ارب روپے کہیں نظر نہیں آ رہے۔ تحریک انصاف سندھ اسمبلی میں بھی متعدد بار کرپشن کے خلاف آواز اٹھا چکی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -