صوفیائے کرام کے مزارات ہی ملکی تحفظ کی ضمانت ہیں، اویس نورانی

صوفیائے کرام کے مزارات ہی ملکی تحفظ کی ضمانت ہیں، اویس نورانی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ ہمارے دشمن نے جانچ لیا ہے کہ ہماری کمزوری کیا ہے، ہماری عبادت گاہیں اور مزارات مقدسہ پر حملہ ہماری نظریاتی بنیادوں پر حملہ ہے، دشمن ہمیں خوفزدہ کرنا چاہتا ہے اور دنیا بھر میں اسلام کا بھیانک چہرہ دکھانا چاہتا ہے،اسلام امن و محبت کا مذہب ہے، بزرگان دین نے اپنی زندگیاں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے قربانی کردیں، دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہے، وہ مذہبی جنونی نہیں ہے بلکہ نفسیاتی جنونی ہے، اسلام میں انتہاپسندی کی گنجائش نہیں ہے، پاکستان کی ہر مذہبی شخصیت اور مذہبی و سیاسی جماعت نے بغیر کسی اختلاف کے درگاہ لعل شہباز قلندر پر حملے کی مذمت کی ہے، اسے فرقہ واریت سے جوڑنا کم عقلی اور تعصب ہے ، گزشتہ دنوں جتنے بھی دھماکے ہوئے اس میں بھارتی مداخلت کے واضح آثار نظر آئے ہیں،درگاہ لعل شہباز قلندر اہل سنت یعنی صوفیاء و اولیاء کو ماننے والی جماعت کا مرکز ہے ، خودکش دھماکوں کی آڑ میں اسلام کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،ملک بھر بلخصوص سندھ بھر کے علماء مشائخ اور اکابرین کے نام اپنے پیغام میں جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی تخلیق بزرگان دین کی تعلیمات اور فیض کا نتیجہ ہے، عبداللہ شاہ غازی، داتا علی ہجویری ، بابر فرید گنج شکر، لعل شہباز قلندر ، شاہ عبدالطیف بھٹائی و دیگر بزرگان دین کے مزارات کی وجہ سے پاکستان کسی بڑی تباہی سے محفوظ ہے، مزارات مقدسہ مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہیں،حکومت اولیاء دین کی سیکورٹی کے حوالے سے عملی اقدامات کریں،اوقاف کی کمیٹیوں کا تعلق مزار کے چندے سے ہے جمعیت علماء پاکستان و مرکزی جماعت اہل سنت کی اعلیٰ قیادت سندھ بھر کے نمائندہ علماء مشائخ کے ساتھ سہون شریف میں مزار لعل شہباز قلندر کا دورہ کرے گی اور اہم لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -