کراچی، سانحہ سیہون کے خلاف مذہبی جماعتوں کی احتجاجی ریلی

کراچی، سانحہ سیہون کے خلاف مذہبی جماعتوں کی احتجاجی ریلی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جما عت اہلسنّت پاکستان کراچی کے تحت مزارات اولیاء کرام بالخصوص درگاہ حضرت عثمان مروندی سخی لعل شہباز قلندر پر دہشت گردی کے خلاف احتجاجی ریلی دفتر جما عت اہلسنّت نزد آرام باغ سے علامہ شاہ عبد الحق قادری ،حاجی حنیف طیب و دیگر کی قیادت میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کیلئے روانہ ہوئی ،انتظامیہ نے ریلی کو سندھ اسمبلی چورنگی پر روک دیا شرکاء وہی دھرنا دے کر بیٹھ گئے مذاکرات کے بعد وزیر اعلیٰ ہاؤس کے نمائندے کو احتجاجی مراسلہ پیش کیا گیا۔ ریلی سے علامہ شاہ عبد الحق قادری ، حاجی حنیف طیب،علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی،علامہ مظفر حسین شاہ،مولانا ابرار احمد رحمانی،علامہ اکرم سعیدی،سیدمحمد اشرف الجیلانی ،مفتی احمد علی شاہ سیفی، حافظ حسان امینی و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ شرکاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جما عت اہلسنّت پاکستان کراچی کے امیر علامہ شاہ عبد الحق قادری نے کہا کہ دہشت گردی کی ہر واردات تشویشناک سوالات جنم دے رہی ہے مزارات پربم دھما کے درندگی کی بد ترین مثال ہے ایسا کر نے والے عذا ب الٰہی سے نہیں بچ سکتے ۔ فوجی عدالتوں میں تو سیع نہ ہونے سے دہشت گردوں کے حو صلے بڑھے ہیں ۔منصوبہ بندی کے تحت مزارات کو نشا نہ بنا یا جا رہا ہے حکو مت دہشت گردو ں کے آگے بے بس اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل نا کام ہو چکی ہے ۔ سیہون درگاہ حضرت عثمان مروندی لعل شہباز قلندر پر دھماکہ المناک سانحہ ہیحکومت صرف مذمتی بیانات پر چل رہی ہے۔عالمی دہشت گرد تنظیم داعش دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے وفاقی وزیر داخلہ کی لاعلمی کا عالم کہ وہ ملک میں داعش کے وجود سے ہی انکاری ہیں۔ حکمران مزارات اور قوم کا تحفظ نہیں کر سکتے تو عزت کے ساتھ مستعفی ہو جائیں ،سوِل حکومت قیام امن میں ناکام نظر آتی ہے اب عوام کی امیدیں فوج سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اہلسنّت شہداء و زخمیوں کے غم میں برابر شریک ہے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حاجی حنیف طیب نے تقریر میں کہا کہ بم دھماکوں سے عوام کے دلوں سے صوفیاء کی محبت ختم نہیں کی جا سکتی۔ بہت مذمتیں ہو گئیں بیانات سے آگے بڑھ کر دہشت گردی کے تدارک کیلئے عملی کام کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ مزارات کے چندے پر پلنے والے محکم�ۂ اوقاف زائرین کی سیکیورٹی، صوفیاء کے مشن کے فروغ اور سہولیات کی فراہمی میں بالکل ناکام ہے۔ رہنماؤں نے کہا کوئی بھی شخص اپنی جا ن و مال کو محفوظ نہیں سمجھتا، قوم شدید اضطراب اور خو ف و دہشت میں مبتلا ہے، امن و امان کیلئے اربو ں روپے خرچ کر نے کے با وجو د دہشت گردی قابوٍ میں کیو ں نہیں آرہی ؟شرمناک بات یہ ہے کہ سانحہ سہون شریف کے موقع پر نہ سکیورٹی تھی نہ ایمبولینس اور نہ ہی ہسپتال میں ڈاکٹر موجود تھے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -