امریکہ دھمکیاں بند کرے، ایران ڈرنے والا نہیں،جواد ظریف

امریکہ دھمکیاں بند کرے، ایران ڈرنے والا نہیں،جواد ظریف
امریکہ دھمکیاں بند کرے، ایران ڈرنے والا نہیں،جواد ظریف

  

تہران(صباح نیوز)ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ دھمکیاں دینا بند کرے اور یہ کہ ایران ان کی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہے۔گزشتہ روزانھوں نے یہ بات جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس میں کی۔غیرملکی خبررساں ادارے کوانٹرویو دیتے ہوئے جواد ظریف نے ٹرمپ انتظامیہ پر ایران کو مشتعل اور تنگ کرنے کا الزام عائد کیا۔

انھوں نے کہا کہ بیلسٹک میزائل کے حالیہ تجربے کے بعد امریکہ نئی پابندیاں لگاکر ایران کومشتعل کرنا چاہتا ہے۔انھوں نے خبردار کیاکہ اگرایران پرمزیدپابندیاں عائد کی جاتی ہیں توتہران جوابی اقدامات کا حق رکھتا ہے۔جواد ظریف نے کہا کہ وہ دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اور دھمکیاں سفارت کاری کا سود مند آلہ کار نہیں ہیں۔جب ان سے دریافت کیا گیا کہ اس سے خطے میں ٹکرا اور جنگ کی صورت حال پیدا نہیں ہوگی تو انھوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ہوشمندی کا غلبہ ہو۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران کسی کو چھیڑنے یا مخاصمت پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا لیکن وہ اپنا دفاع ضرور کرے گا۔اوباما انتظامیہ کے مقابلے تہران کو اب واشنگٹن میں زیادہ مخالفت کا سامنا ہے۔

اب کوئی بھی آپ کو نامعلوم نمبر سے فون کر کے تنگ نہیں کر سکتا کیونکہ۔۔۔

امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما کے دورِ حکومت میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تاریخی جوہری معاہدہ ہوا تھا تاہم ظریف کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے امریکی پالیسی گذشتہ 38 سال یعنی ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سے کبھی بھی دوستانہ نہیں رہی ہے۔واضح رہے کہ میونخ میں ہونے والے 53 ویں سکیورٹی کانفرنس میں امریکہ کے نائب صدر نے شرکت کی تھی۔

انھوں نے اپنے خطاب میں جہاں یورپ سے رشتے پر بات کی وہیں ایران کو دنیا میں دہشت گردی کو سپانسر کرنے والا سب سے بڑا ملک قرار دیا تھا۔اسی کانفرنس کے دوران سعودی عرب اور اسرائیل نے بھی ایران کو خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔امریکہ کے نائب صدر پینس نے افغانستان کو امداد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

مزید :

بین الاقوامی -