’’شاہ و گدا ایک‘‘سماجی انصاف کا عالمی دن

’’شاہ و گدا ایک‘‘سماجی انصاف کا عالمی دن
’’شاہ و گدا ایک‘‘سماجی انصاف کا عالمی دن

  

سماج کا مطلب ہے معاشرہ ، معاشرہ کہتے ہیں افراد کے ایسے گروہ کو جو کافی عرصہ سے ایک جگہ رہ رہا ہو ۔عدل کو انصاف کہتے ہیں، جس کا معنی ہے دو حصوں میں برابر کرنا ۔لفظ عدل مصدرہے، اس کا مطلب ہے، انصاف و مساوات ،برابری ،ایک جیسا ہونا ،انصاف حق سے کرنا ،عادل خواہشات کی طرف مائل نہیں ہوتا، حق پر فیصلہ کرتا ہے ۔روزمرہ معاملات زندگی کی لوگوں کے درمیان اس طرح فیصلہ کا ہونا کہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو ،اس کو عدل کہتے ہیں ۔ علاوہ ازیں اشیا ء کو ان کے اصل مقام پر رکھنا عدل ہے ۔انصاف کا الٹ نا انصافی جو کہ ظلم کے ہم معنی ہے ۔ انصاف کی پانچ اقسام ہے ،معاشرتی،قانونی ،سیاسی،معاشی ،مذہبی ،انصاف وغیرہ ۔

سماجی انصاف کا مطلب ہے، معاشر ے میں بسنے والے تمام افراد کو یکساں حقوق حاصل ہوں ،بغیر امتیاز ،ادنی ٰ و اعلیٰ ،رنگ و نسل،مذہب ومسلک ،قوم وغیرہ کے ۔یہ دن منانے کا فیصلہ 2007 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کیا ۔اس موقع پر کانفرسوں ،سیمینارز،ریلیوں اور میڈیا میں سماجی انصاف کا شعور اجاگر کیا جائے گا ۔اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے غربت کے خاتمے ،انصاف سب کے لیے،ملازمت ،تعلیم،بنیادی ضرویات زندگی کا حصول بلا تفریق ،وغیرہ ہے ۔

سماجی انصاف کا عالمی دن سب کو یکساں انصاف کی فراہمی کے لیے منایا جاتا ہے ۔یہ کہنا ہی کتنا دل کش ہے ،کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔لیکن حقیقت میں ایسا کہاں تک ہے ۔دیکھیں کمزور کو انصاف کہاں ملتا ہے ۔یہاں طاقت ور کے لیے اور انصاف ہے ۔اور غریب کے لیے اور انصاف ہے ۔یعنی انصاف ہے ہی نہیں ہے ۔میں نے تو جتنا تاریخ کا مطالعہ کیا ہے ۔مجھے تو کسی دور میں انصاف نظر نہیں آیا ہاں نا انصافی کے خلاف جد و جہد کبھی عروج پر نظر ضرور آئی ہے ،تاریخ اسلام میں ریاست مدینہ سے عہد خلفاء راشدین تک کا دور عدل و انصاف کا پرچم لہراتا نظر آتا ہے ۔اور اس کے بعد اب بعض مغربی ممالک میں کسی حد تک انصاف کا بول بالا ہے۔

غلامانہ ،جاگیردارنہ ،صنعتی ،سوشلزم،مارکسی ،جنگل کا قانون اورنظام اسلام سب کا اس وقت دنیا مکسچر ہے ،اورانصاف سب کے لیے ایک خواب لگتا ہے ۔کل بھی طاقت ور کا انصاف تھا آج بھی ،باقی یہ دن منانے کا مقصدمفلس اور کمزور کے دل بہلانے کے لیے ہی ہوتا ہے ۔جن معاشروں میں انصاف ناپید ہو جاتا ہے، وہ معاشرے بالاآ خر دنیا سے ناپید ہو جاتے ہیں ۔یہ کہنے کی بات نہیں ہے، دنیا کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے ۔

عدل و انصاف پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ،کسی بھی شعبہ زندگی کو دیکھ لیں ،وہاں عدل نظر نہیں آئے گا ۔نظام عدل و انصاف کے کمزور ہونے سے ہی فرقہ بندی ہے ،دہشت گردی ہے ،کرپشن ہے ،جس کی وجہ سے غربت و بے روزگاری ہے اور ملک میں توانائی بحران ہے ۔اگر احتساب کا نظام ،انصاف کا نظام درست کام کر رہا ہو تو پاکستان میں یقین کریں کوئی بحران پیدا نہ ہو ۔میں اس پر زیادہ لکھ کر توہین عدالت کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا ، جس معاشرے میں انصاف کی فراہمی کے لیے فوجی عدالتوں کی ضرورت پڑ جائے ،سول عد التوں میں سائلوں کو دھکے کھاتے عمریں بیت جائیں، انصاف نہ ملے ،ایسا ہی تھانہ کا کلچر ہے، جن میں ایک غریب کو دھکے ملتے ہیں، ایس ایچ او بادشاہ ہے ،جس سے کوئی غریب بناں سفارش کے مل نہیں سکتا، اس کی شنوائی کیا ہونی ہے۔

سماجی انصاف کی عدم فراہمی نے پاکستان کے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے ۔صرف نام کی حد تک عدالتیں جہاں انصاف بکتا ہے اور سچ کہنے والے پر توہین عدالت کا پھندا لٹکا ہوا ہے ۔ بیرونی ممالک کی بڑھتی ہوئی مداخلت اس کی ایک وجہ بھی ہے ۔کرپشن ،موت کا خوف ،رشتہ داریاں ،سفارش ،رشوت ،میرٹ اور سب سے بڑھ کر آخرت کا خوف نہ ہونا یعنی دین اسلام سے دوری انصاف کی راہ میں رکاوٹیں ہیں ۔ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں غربا ء کو انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ،اور برسوں چکر لگانے کے بعد بھی ان کو انصاف نہیں ملتا ،کیونکہ وہ انصاف کو خریدنے کے لیے زر نہیں رکھتے ۔

سماجی انصاف اللہ کو پسند ہے، اللہ نے تمام افراد کو ایک آدم سے پیدا کیا، رسول اکرم ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں سماجی انصاف کا پورا فلسفہ ،ڈھانچہ ،طریقہ بیان کیا ہے، خطبہ حج الوداع کا مختصر خلاصہ دیکھیں ۔نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے، اور نہ عجمی کو عربی پر نہ کالا گورے سے افضل ہے اور نہ گورا کالے سے ،فضیلت کا معیار تقوی ہے ۔

سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے ۔اب فضیلت وبرتری کے سب دعوے ، خون و مال کے سارے مطالبات ،سارے انتقام میرے پاؤں تلے دفن ہیں ۔عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ،مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے ، ماں ،باپ کے جرم کا ذمہ دار بیٹا نہیں اور بیٹے کے جرم کا ماں ،باپ نہیں ۔ اگر کوئی غلام بھی امیر (حکمران) ہو اور وہ کتاب پر چلے تو اس کی پیروی کرو ۔تمہارا مال ،جان کی ایک دوسرے پر اس طرح حرمت ہے، جس طرح ،آج کا دن ،مہینہ،اور اس مقام کی حرمت ہے ۔سود ختم کر دیا گیا ۔اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے( مفہوم) اے لوگو ہم نے تمہیں ایک عورت اور مرد سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف شاخوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ۔اللہ کے نزدیک زیادہ متقی ہی عزت والا ہے ۔

قرآن پاک میں ہے کہ تم لوگوں کے درمیان حق کا فیصلہ کرو ،خواہش کے پیچھے نہ چلو،سچی گواہی دو،سچ کو اپنے تک نہ روکے رکھو ،اسلام نے باہمی لین دین،دیانت داری ،سچی گواہی ،عدل و انصاف ،ہمسایوں کے حقوق ،پر زور دیا ہے ۔آپ ﷺ کے اس فرمان پاک کو دیکھیں ۔تم سے پہلے قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان کے چھوٹے طبقے کے لوگ جرم کرتے تو ان کو سزادی جاتی ۔اور جب ان کے بڑے طبقے کے لوگ جرم کرتے تو ان کو چھوڑ دیا جاتا ۔سماجی انصاف مکمل تفسیر آپ ﷺ کے اس فرمان(مفہوم) میں ہے کہ اگر میری بیٹی بھی چوری کرتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔

شیخ السلام امام تیمیہ کا فرمان ہے کہ (مفہوم) سیاست ،ملک یا معاشرے کی بنیاد دو ستونوں پر قائم ہے ۔عہدے میرٹ پر ملنا اور ،فیصلے انصاف پر ہونا ۔انصاف پر ہی دین و دنیا کی فلاح کا دارومدار ہے ،بناں عدل کے کسی بھی معاشرے کی ترقی ،فلاح ،کامیابی،ناممکن ہے۔سماجی انصاف کا قیام ایک اچھے حکمران کے لیے ضروری ہے ۔ایک اچھے حکمران کی نشانی قرآن پاک میں ہے کہ وہ انصاف کرتا ہے، مفہوم اسکا یہ ہے کہ لوگوں کے درمیاں اس حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ تعالی نے نازل فرمایا ہے ،لوگوں کی خواہش کے پیچھے مت چلو ۔(القران)ابو الحسن علی ندوی نے لکھا ہے، مسلمانوں میں ایک دور ایسا تھا، جب سماجی انصاف کا دور دورا تھا۔ وہ لکھتے ہیں ۔تمام مسلمان حق کے مدد گار بن گئے تھے ،ان کا کام مشورے سے ہوتا تھا ،خلیفہ جب تک اللہ کا مطیع رہتا عوام اس کے مطیع رہتی اگر وہ نافرمانی کرتا تو اطاعت برقرار نہ رہتی ۔

عدل کی بنیاد قانون پر ہوتی ہے ،قانون میں خامی ہو تو عدل ممکن نہیں ہے، اسی طرح قانون نافذ کرنے والے بھی اگر اپنی ذمہ داری پوری نا کریں تو عدل ممکن نہیں ہے ۔اس لیے ان کو عدل کے کٹہرے میں لانے والے نظام عدل کوہونا چاہیے ۔اسلام میں فقیر و گدا بادشاہ برابر ہیں ۔لیکن فرقہ پرست اسلام میں ایسا نہیں ہے ۔پاکستان جو کہ ایک اسلام کے نام پر بننے والا ملک ہے۔ ،لیکن اس کے باوجود یہاں امیر و غریب ،رنگ و نسل،اور دیگر بہت سے تعصبات کے ساتھ ساتھ مذہب میں بھی مساوات نہیں ہے،پیر،مولوی،علماء،میں ایک تو گدی نشینی کا سسٹم ہے، دوم ریا و خود نمائی پائی جاتی ہے، سوم رسم و رواج،اور لباس کو اسلام سمجھ لیا گیا ہے ۔

وہ زمانے لد گے جب ایک خلیفہ کا وظیفہ ایک مزدور کے برابر تھا (حضرت ابوبکرؓ)جب ایک خلیفہ نے ذاتی سیکورٹی کے لیے فوج ،ریاستی اداری کو نہیں رکھا تھا (حضرت عمرؓ ،حضرت عثمانؓ)اورآقا جس تھان سے اپنے لیے کپڑے لیتا اسی سے اپنے غلام کے لیے بھی کہ آقا اور غلام کا لباس ایک جیسا ہوتا تھا (حضرت علیؓ) دنیا نے یہ نظارہ بھی دیکھا جب ایک خلیفہ اونٹ پر غلام کو بٹھائے مہار پکڑے نئے مفقوع علاقہ کی باگ دوڑ لینے جا پہنچتا ہے۔ یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں ہیں اور نہ ہی کسی اور دنیا کی ۔اسلام کے ابتدائی دور میں ایسا عملی طور پر ہوا بھی ہے ۔ امیر وغریب ،شاہ و گدا،ادنیٰ و اعلی،آقا و غلام میں کوئی فرق نہیں تھا ۔۔ایسا سماجی انصاف دنیا میں تھوڑے عرصے کے لیے آیا تھا اس کے بعد اندھیرا ہی ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -