بھارت سب سے آگے،مگر کس کام میں؟

بھارت سب سے آگے،مگر کس کام میں؟
بھارت سب سے آگے،مگر کس کام میں؟

  

پاکستان میں شادی پر اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے ون ڈش متعارف کروائی اور رات دس بجے شادی ہالز کو پابند کیا کہ تقریبات کو محدود کیا جاسکے۔ اب ایسی ہی کہانی انڈیا میں بھی متعارف کروائی جارہی ہے۔اس کی بڑی وجہ بھارت کی تاریخ میں سب سے مہنگی شادی بنی۔

نومبر2016ء میں بھارت کے ایک سابق وزیر اور بزنس مین نرہندہانا ریڈی کی بیٹی کی شادی پر پانچ ارب (بھارتی روپے)خرچہ آیا۔ جس میں دلہن کی ساڑھی کی قیمت170ملین روپے(انڈین)،اور جیولری کی قیمت900ملین روپے تھی۔اس شادی کے دعوت ناموں کو خصوصی سونے کی پلیٹ سے تیار کیا گیا تھا جس میں ایک ایل سی ڈی بھی لگائی گئی تھی۔برازیل سے ڈانس کے لیے خصوصی خواتین و حضرات کو بلاوآیا گیا تھا۔50000مہمانوں کے لیے پارکنگ اور مفت ٹیکسی سروس بھی فراہم کی گئی تھی۔ وی آئی پی مہمانوں کے لیے ہیلی پیڈ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

بھارتی حکومت جس نے کرپشن اور کالے دھن کے باعث ملک میں500اور 1000روپے کے کرنسی نوٹ معطل کر دیئے جس کے باعث کروڑوں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور سینکڑوں افراد ہلاک بھی ہو گئے وہاں شادی کی اس تقریب نے ملک میں نئی بحث کو بھی شروع کر دیا اور میڈیا میں بھی اس کو لے کر خوب لے دے جاری ہے۔اسی لیے حکومت کو نئے قانون کی بات کرنا پڑی۔

اس قانون کے تحت انڈیا میں شادی پر پانچ لاکھ بھارتی روپوں سے زیادہ خرچہ نہ ہو سکے گا۔ جو اس قانون کو توڑے گا وہ زائد خرچہ کا دس فیصد غریبوں کی شادی کے لیے جمع کروائے گا۔یہ قانون ضروری محسوس کیا جارہا تھا اور پچھلے کئی دہائیوں سے بھارتی معاشرہ کو شادی سے منسلک کئی مسائل کا سامنا تھا۔ جن کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہی ہوتا آرہا تھا۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت میں ایسے قوانین متعارف کروائے جارہے ہیں جو کرپشن کو قانونی بنانے پر زور دے رہے ہیں اس سے پہلے کرنسی کے بحران کا حل یہ تھا کہ حکومت کو مخصوص رقم ٹیکس کے طور پر دو اور ساری کرپشن پاک صاف کرالو۔اسی طرح اس قانون میں دس فیصد دینے سے شادی پر ہر طرح کے خرچہ کی اجازت ہو گی۔ اگر پانچ لاکھ انڈین روپوں کی حد عبور کرے گا تو دس فیصد ٹیکس دینا ہو گا۔ یعنی10لاکھ کے خرچہ کے لیے ایک لاکھ دینے ہوں گے۔سوال یہ ہے کہ جو اپنے لیے5ارب روپ خرچہ کر سکتا ہے وہ10,5کروڑ روپے بھی دینے کو تیار ہو جائے گا۔

انڈیا میں ایسی شادیوں کی فہرست کافی لمبی ہے مثلاً انڈیا کے دوسرے امیر ترین شخص لکشمی متھل کی بیٹی کی شادی پر2014ء میں74ملین ڈالر خرچہ آیا۔تمام مہمانوں کو فرانس کے شہر پیرس میں دعوت دی گئی۔ ایک ہزار مہمانوں کے تمام سفری اخراجات،رہائش اور دعوتوں کا خرچہ کیا گیا۔حیرت انگیز باتیہ ہے کہ1981ء میں لیڈی ڈیانا اور چارلس کی شادی پر 30ملین پونڈ خرچ ہوئے تھے۔جبکہ حالیہ شہزادہ ولیم کی شادی پر20ملین پونڈ خرچ ہوئے یعنی بھارتی اب اپنے لیے اس انتہا پر پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔

مزیدار بات یہ ہے کہ بھارتی رواج کے مطابق یہ خرچ بیٹی کے ماں باپ کریں گے شاید اسی لیے انڈیا میں لاکھوں خواتین شادی کے بندھن میں بندھی ہی نہیں جا سکتیں۔ کیونکہ اب کے والدین کے پاس جہیز کے لیے رقم ہی موجود نہیں۔شاید یہ قانون ان لڑکیوں کو فائدہ دینے کی بجائے مزید نقصان پہنچائیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -