’اس نے مجھے کھمبے سے لٹکایا اور میری ٹانگیں پکڑ کر زبردستی۔۔۔‘ عرب ملک کی جیل میں قید خاتون نے ایسی شرمناک تفصیلات بیان کردیں کہ جان کر دنیا کا ہر مسلمان شرم سے پانی پانی ہوجائے

’اس نے مجھے کھمبے سے لٹکایا اور میری ٹانگیں پکڑ کر زبردستی۔۔۔‘ عرب ملک کی ...
’اس نے مجھے کھمبے سے لٹکایا اور میری ٹانگیں پکڑ کر زبردستی۔۔۔‘ عرب ملک کی جیل میں قید خاتون نے ایسی شرمناک تفصیلات بیان کردیں کہ جان کر دنیا کا ہر مسلمان شرم سے پانی پانی ہوجائے

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں جاری جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ خواتین ہیں۔ داعش کے چنگل سے فرار ہو کر آنے والی خواتین کے پاس اپنی داستانِ الم ہوتی ہے اور حکومتی جیلوں سے رہا ہونے والی خواتین کے پاس اپنی رودادِ غم۔ دونوں فریقین کے ہاتھوں خواتین پر مظالم، جنسی و جسمانی تشدد عام بات ہے۔ خواتین پر داعش کے مظالم کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں۔ اب جیل سے رہا ہونے والی ایک خاتون نے شامی حکومت کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کی ایسی روح فرسا کہانی دنیا کو سنادی ہے کہ داعش کے شدت پسند بھی شرما جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس خاتون کا نام بسمہ ہے جو پیشے کے اعتبار سے وکیل تھی۔ اسے اس کی 37ویں سالگرہ کے دن شدت پسندوں کی معاونت کرنے کے الزام میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ جہاں اسے بدترین جسمانی، ذہنی اور جنسی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

’اب تو مجھے طلاق دے دو کیونکہ ۔۔۔‘ عرب ملک میں بیگم نے سوشل میڈیا پر اپنے شوہر کے نام ایسا پیغام جاری کر دیا کہ ہنگامہ برپا ہو گیا، جو بھی پڑھے حیرت میں ڈوب جائے کیونکہ ۔۔۔

دی سنڈے ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بسمہ کا کہنا تھا کہ ”وہ مجھے صبح سویرے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے سیل سے باہر نکالتے اور تشدد کرتے۔ایک روز انہوں نے مجھے باہر نکالا اور پیٹنے کے بعد میرے بالوں کے ساتھ ایک کپڑا باندھا اور اس کے ذریعے مجھے ایک کھمبے کے ساتھ لٹکا دیا۔ میرے پورے جسم کا وزن میرے بالوں پر تھا۔ میں تمام دن اسی طرح لٹکی رہی۔ اس دوران انہوں نے میری دونوں ٹانگوں کو رسیوں سے باندھا اور مخالف سمت میں کھمبوں کے ساتھ باندھ دیا اور میرے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی رہی۔ میں کئی گھنٹے تک اس اذیت کا شکار رہی اور بالآخر بے ہوش ہو گئی۔ کئی گھنٹے تک ایک ٹانگ پر کھڑا کیے رکھنا اور جنسی زیادتی وہاں معمول کی بات تھی۔ ان جیلوں میں خواتین کے ساتھ اس قدر جنسی زیادتی کی جاتی ہے کہ گارڈ خواتین میں مانع حمل ادویات تقسیم کرتے ہیں۔“ رپورٹ کے مطابق 2ماہ قید رکھنے کے بعد بسمہ کو حکومتی فورسز نے باغیوں کے ساتھ قیدیوں کے ایک تبادلے میں رہا کر دیا۔

بسمہ نے مزید بتایا کہ ”وہ مجھے میرے مرد دوستوں کے ساتھ جکڑ کر بٹھا دیتے اور کہتے کہ اپنے جرم کا اعتراف کرو ورنہ ان کے سامنے تمہارے ساتھ جنسی زیادتی کی جائے گی۔ ایک بار انہوں نے فوجیوں کو بھیج کر میری 73سالہ والدہ کو بھی اغوا کروا کر جیل بلوا لیا اورمجھے دھمکی دی کہ اگر میں نے اعتراف نہ کیا تو وہ میرے ساتھ ساتھ میری ماں سے بھی جنسی زیادتی کریں گے۔“ جیل میں قید رہنے والی ایک اور لڑکی ’یاسمین‘ نے بھی اپنی کہانی سنائی ہے۔ یاسمین طالبہ اور امدادی کارکن تھی جسے دمشق میں فوجی انٹیلی جنس کے قید خانے میں 18ماہ تک قید رکھا گیا۔ یاسمین نے’دی سنڈے ٹائمز‘کو بتایا کہ ”انہوں نے قید خانے میں لیجاتے ہی میرا حجاب نوچ کر ایک طرف پھینک دیا اور میرے کنوارپن کا ٹیسٹ کیا۔ اس تمام عرصے میں ہر روز وہ مجھے جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔“

مزید :

عرب دنیا -